کامرس اور صنعت کی وزارتہ

ڈبلیو ٹی او کے وزارتی اجلاس میں ماہی گیری سبسڈی پر معاہدہ، غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر ریگولیٹڈ


(آئی یو یو) ماہی گیری اور ضرورت سے زیادہ مچھلیوں کے ذخیرے پر پابندی کے لئے معاہدہ

ترقی پذیر ممالک اور سب سے کم ترقی یافتہ ممالک (آیل ڈی سی ایز) کو معاہدہ کی تاریخ سے دو سال کی منتقلی مدت کے نفاذ کے لئے معاہدہ کرنا ہوگا

آئی یو یو ماہی گیری میں مصروف ماہی گیری کے جہازوں یا ماہی گیری آپریٹر ز کو دی جانے والی سبسڈی کو ختم کرنے کا معاہدہ؛

زیادہ مچھلی والےذخیرے کے حوالے سے ماہی گیری کے لیے سبسڈی فراہم کرنے پر کوئی ممانعت نہیں ہے جب تک کہ اس طرح کی سبسڈیز کو حیاتیاتی اعتبار سے پائیدار سطح پر دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے لاگونہیں کیا جائے

Posted On: 22 JUL 2022 6:09PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 22 جولائی،  2022/

حال ہی میں ختم ہونے والے عالمی تجارتی تنظیم ( ڈبلیو ٹی او) کے وزارتی اجلاس میں ماہی پروری سبسڈیز (معاہدہ) پر اتفاق کیا گیا ہے جو غیر قانونی، غیر رپورٹ شدہ اور غیر منظم (آئی یو یو) ماہی گیری اور ضرورت سے زیادہ مچھلیوں کے ذخیرے کے لیے فراہم کی جانے والے سبسڈی کو روک دے گا۔ خصوصی اور امتیازی سلوک ( ایس اینڈ ڈی ٹی) کے تحت، ترقی پذیر ممالک اور سب سے کم ترقی یافتہ ممالک (ایل ڈی سی) کو اس معاہدے کے لاگو ہونے کی تاریخ سے دو سال کی عبوری مدت کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ معاہدہ بلند سمندروں پر ماہی گیری کے لیے سبسڈی فراہم کرنے سے بھی منع کرتا ہے، جو ساحلی ممالک اور ریجنل فشریز مینجمنٹ آرگنائزیشنز/ انتظامات (اے ایس/ آر ایف ایم او) کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں۔

معاہدے کے مطابق، ڈبلیو ٹی او کے رکن پر اس کے جہاز یا آپریٹر کو سبسڈی دینے یا برقرار رکھنے کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے جب تک کہ وہ آئی یو یو کو نہیں لے رہا ہے۔ اسی طرح، زیادہ مچھلی والے ذخیرے کے بارے میں ماہی گیری کے لیے سبسڈی فراہم کرنے پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے جب تک کہ ایسی سبسڈیز کو حیاتیاتی اعتبار سے پائیدار سطح پر دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے لاگو کیا جائے۔

ہندوستان کا موقف یہ ہے کہ ہم اتنی بڑی آبادی کے باوجود ماہی گیری کے سب سے کم سبسڈی دینے والوں میں سے ایک ہیں اور ماہی گیری کے وسائل کو پائیدار طریقے سے استعمال کرنے میں نظم و ضبط رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہیں۔ ہندوستان دیگر ترقی یافتہ ماہی گیری ممالک کی طرح وسائل کا اندھا دھند استعمال نہیں کرتا ہے اور ہندوستان کا ماہی گیری کا شعبہ بنیادی طور پر لاکھوں چھوٹے اور روایتی ماہی گیروں پر منحصر ہے۔ لہذا، ڈبلیو ٹی او کے وہ ممبران جنہوں نے ماضی میں بہت زیادہ سبسڈی فراہم کی ہے، اور بڑے پیمانے پر صنعتی ماہی گیری میں مصروف ہیں، جو کہ مچھلیوں کے ذخیرے کی کمی کے ذمہ دار ہیں، انہیں’آلودہ کرنے والے تنخواہ کے اصول‘(‘polluter pay principle’ and ‘common but differentiated responsibilities’. )لیکن مشترکہ مختلف ذمہ داریاں' کی بنیاد پر سبسڈی کو روکنے کے لیے مزید ذمہ داریاں نبھانی چاہئیں۔

یہ معاہدہ ماہی گیری کے جہازوں یا آئی یو یو ماہی گیری میں مصروف ماہی گیری آپریٹرز کو دی جانے والی سبسڈی کو ختم کر دے گا۔ اس طرح کے نظم و ضبط سے بڑے پیمانے پر آئی یو یو ماہی گیری کو روکا جائے گا جو ہندوستان جیسے ساحلی ممالک کو ماہی گیری کے وسائل سے محروم کرتا ہے، اس طرح ہماری ماہی گیری برادریوں کے ذریعہ معاش پر نمایاں اثر پڑتا ہے۔ اگر مچھلیوں کے ذخیرے کو حیاتیاتی اعتبار سے پائیدار سطح تک دوبارہ بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں، جو ہماری ماہی گیری برادریوں کی مدد کرتا ہے تو یہ معاہدہ زیادہ مچھلیوں کے ذخیرے سے متعلق سبسڈی بڑھانے کے لیے لچک بھی فراہم کرتا ہے۔ ترقی پذیر ممالک اور سب سے کم ترقی یافتہ ممالک کو خصوصی اور امتیازی سلوک کی اجازت دی گئی ہے، معاہدے کے لاگو ہونے کی تاریخ سے دو سال کی مدت تک نظم و ضبط کے نفاذ پر  کوئی پابندی نہیں ہے۔

یہ معلومات کامرس اور صنعت کی وزارت میں وزیر  مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب دی۔

************

 ش ح۔ش ت۔  ج

Uno.8073



(Release ID: 1844525) Visitor Counter : 195


Read this release in: English