جدید اور قابل تجدید توانائی کی وزارت

پی ایم-کُسم کے مقاصد


پی ایم-کُسم اسکیم کا مقصد ملک کی سولر واٹر پمپ تعمیری صلاحیت میں اضافہ کرنا ہے

غیرمرکوز سولر توانائی پیداوار کیلئے حکومت ہند کے اقدامات

Posted On: 21 JUL 2022 6:06PM by PIB Delhi

نئی اور قابل تجدید توانائی کے وزیر مملکت جناب بھگونت کھوبا نے آج لوک سبھا میں اپنے ایک تحریری جوا  ب میں یہ معلومات دی ہے کہ پردھان منتری  کسان اُرجا سرکشاایوم اتھان مہاابھیان (پی ایم-کُسم)کے مقاصد میں زرعی سیکٹر کا ڈی-ڈیزلائزیشن، کسانوں کو پانی اور توانائی تحفظ مہیا کرنا، کسانوں کی آمدنی بڑھانا اور ماحولیاتی آلودگی پرپابندی لگاناہیں۔ ان مقاصد کے حصول کیلئے اسکیم کے تحت درج ذیل ہدف رکھے گئے ہیں:

جزو-اے: 10000 میگاواٹ غیرمرکوز گراؤنڈ ماؤنڈیڈ گرڈ کنیکٹیڈ سولر پاور پلانٹس۔

جزو- بی: 20 لاکھ مجموعی سولر توانائی سے چلنے والے زرعی پمپوں کا قیام۔

جزو- سی: فیڈر لیول سولرائزیشن سمیت 15 لاکھ گرڈ سے جڑے زرعی پمپوں کو سولر سے جوڑنا۔

پی ایم- کُسم اسکیم کے درج ذیل التزامات کا مقصد ملک کی سولر واٹر پمپ تعمیراتی صلاحیت کو بڑھانا ہے:

  1. اسکیم کے تحت مرکزی مالی امداد کے توسط سے 35 لاکھ پمپوں کا قیام یا سولرائزیشن کا ہدف آنے والے برسوں میں مانگ کی تکمیل فراہم کریگا۔
  2. جزو- بی اور جزو- سی میں شراکت داری کیلئے گھریلو سازو سامان کی ضرورت کی شرط۔
  3. جزو- بی اور جزو-سی کے تحت بولی لگانے میں سولر پمپوں / سولر فوٹووولٹک ماڈیول/ سولر پمپ کنٹرولر  کے مینوفیکچررس کی یا تو واحد بولی کنندہ یا مشترکہ صنعت کے ممبر کے طور پر براہ راست شراکت داری ۔

زیر زمین پانی میں رکاوٹ سے بچنے کیلئے، خاص طور سے زیرزمین پانی کے کم سطح والے اضلاع میں سینٹرل گراؤنڈ واٹر بورڈ (سی جی ڈبلیو بی) کے ذریعے نوٹیفائی  تاریک خطوں / علاقوں میں اسکیم کے تحت نئے سولر پمپوں کے قیام کی اجازت نہیں ہے۔ سینٹرل گراؤنڈ واٹر  بورڈ زیر زمین پانی کی ترقی اور پانی کو نکالنے کے عمل کی نگرانی کرتا ہے۔ جزو- بی کے تحت صرف موجودہ ڈیزل پمپوں کو سولر پمپوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے اور ان علاقوں میں موجودہ الیکٹرک پمپوں کو جزو-سی کے تحت سولرائز کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ پانی بچانے کیلئے انتہائی چھوٹی  آبپاشی تکنیک کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ زیرزمین پانی کے تحفظ کیلئے درج ذیل التزامات پی ایم – کُسم اسکیم میں شامل ہیں:

  1. چھوٹی آبپاشی تکنیک کا استعمال کرنے والے یا چھوٹی آبپاشی اسکیموں کے تحت آنے والے یا چھوٹی آبپاشی تکنیک کا متبادل چننے والے کسانوں کو اسٹینڈ ایلون سولر پمپوں کے قیام او ر موجودہ زرعی پمپوں کے سولرائزیشن کو اولیت دی جاتی ہے۔
  2. اسٹینڈ ایلون سولر پمپ کی شکل کا انتخاب خطے میں پانی کی سطح، قابل کاشت زمین اور آبپاشی کیلئے ضروری پانی کی مقدار کی بنیاد پر کیا جانا ہے۔
  3. کسانوں کے پاس ڈسکام کو فروخت کرکے ذاتی طور پر گرڈ سے جڑے  پمپ سولرائزیشن کے تحت پیدا شدہ زیادہ بجلی کو نقدی میں تبدیل کرنے کا متبادل ہوگا۔ اس کے علاوہ فیڈر لیول سولرائزیشن کے تحت کسانوں کو بنچ مارک کھپت سے کم بجلی کی کھپت کیلئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

غیرمرکوز سولر توانائی پیداوار کیلئے نئی اور قابل تجدید توانائی کی وزارت کے ذریعے کیے گئے اقدامات میں درج ذیل اقدامات شامل ہیں:

  1. پی ایم- کُسم اسکیم کے جزو اے کے تحت 2 میگاواٹ صلاحیت تک کے گرڈ سے جڑے سولر توانائی پلانٹوں کا قیام
  2. مرکزی مالی امداد (سی ایف اے) فراہم کرکے پی ایم- کُسم اسکیم کے  جزو- سی کے تحت فیڈر سطح کے سولرائزیشن  سمیت جزو- بی کے تحت اسٹینڈ ایلون سولرپمپوں کا قیام اور گرڈ سے جڑے زرعی پمپوں کا سولرائزیشن۔
  3. رہائشی علاقے میں سی ایف اے فراہم کرکے اور ڈسکام کی حوصلہ افزائی دے کر سولر روف ٹاپ فیزII  پروگرام کے تحت روف ٹاپ سولر کو بڑھاوا دینا۔
  4. سال 21-2018 کے دوران نافذ شدہ آف – گرڈ اور غیرمرکوز سولر پی وی اپلی کیشن پروگرام نے سولر اسٹریٹ لائٹ ، آف – گرڈسولر توانائی پلانٹوں کا قیام اور سولر مطالعاتی لیمپ کی تقسیم کیلئے مالی امداد  فراہم کی گئی۔

************

ش ح۔ج ق۔ن ع

(U: 7924)



(Release ID: 1843579) Visitor Counter : 131


Read this release in: English