جل شکتی وزارت

آبی ذخائر کی مرمت ، احیاءاوربحالی

Posted On: 04 APR 2022 5:05PM by PIB Delhi

جل شکتی کے مرکزی وزیر مملکت جناب بشویسور توڈو نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری فراہم کی ہے ۔

آبی ذخائر (ڈبلیو بیز) کی مرمت ، احیاء اور بحالی (آرآرآر) سے متعلق مرکز کی سرپرستی والی اسکیم ، جل شکتی کی وزارت کے ذریعہ نافذ کی جانے والی اسکیم پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی ) –ہرکھیت کو پانی (ایچ کے کے پی ) کا ایک جزہے ۔ اس اسکیم کے تحت ، ریاستی سرکاروں  کو طے شدہ  آبی ذخائر کی مرمت ، احیاء اوربحالی کی غرض سے مالی امداد فراہم کی جاتی ہے ۔

اڈیشہ  ، سمیت مختلف ریاستوں سے موصولہ تجاویز کی بنیاد پر ، گذشتہ پانچ سال کے دوران آبی ذخائر کے آرآرآر کے تحت کئے جارہے کاموں کی ریاست وار  تفصیلات ضمیمہ میں پیش کی گئی ہیں ۔ اس اسکیم کے تحت شروع کئے گئے بہت سے کاموں میں روایتی آبی ذخائر کی صفائی ستھرائی شامل ہے ۔ اس کے علاوہ  پردھان منتری کرشی سینچائی یوجنا (پی ایم کے ایس وائی ) مارچ 2021 تک ہی قابل عمل تھی ۔ اس لئے 22-2021 سے 26-2025تک کے عرصہ کے لئے اس کے نفاذ کی مدت میں توسیع کے دوران ، حکومت ہند نے آبی ذخائر  کے پروگرام آرآرآرکے تحت ، شمولیت اورفنڈ کی فراہمی سے متعلق معیارکی غرض سے اہلیت میں یاقابل استحقاق ہونے میں خاطرخواہ نرمی کردی ہے ، تاکہ ریاستوں کی اس بات کے لئے حوصلہ افزائی کی جاسکے کہ وہ اس وزارت  سے مالی امداد حاصل کرکے اس قسم کے مزید کام شروع کریں ۔

پانی کا معاملہ ایک ریاستی موضوع ہے۔ اب یہ متعلقہ ریاستی سرکاروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے  علاقوں میں آبی ذخائر  پرناجائز قبضوں کی روک تھام کے لئے ضروری  کارروائی کریں ۔ البتہ ، ریاستی سرکاروں کی اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں  میں معاؤنت  کی غرض سے ، حکومت ہند نے آبی ذخائر کی گنتی ، تحفظ ونگہداشت  اوران کی تعمیر وترقی کی غرض سے متعدد اہم پہل قدمیاں کی ہیں ۔ ان میں سے بعض کلیدی پہل قدمیوں  کی تفصیلات درج ذیل ہیں :

  1. 2019 میں حکومت نے جل شکتی ابھیان کاآغاز کیاتھا ۔ اس کے بعد2021 اور2022میں جل شکتی ابھیان :بارش کے پانی کو جمع کیجئے (جے ایس اے –سی ٹی آر) مہم شروع کی  گئی ۔ حکومت ہند اورریاستی سرکاروں کے ذریعہ نافذ کی گئی ان سالانہ مہمات کے تحت ، مرکوز اقدامات میں دیگر باتوں کے علاوہ ، روایتی اورغیرروایتی آبی ذخائر /تالابوں کی بحالی ، گنتی ، جیوٹیگنگ اورسبھی آبی ذخائر سے متعلق سامان وغیرہ کی فہرست تیارکرنا ، اور تالابوں اورجھیلوں وغیرہ کو غیرقانونی قبضوں سے وگزار کرانااور ان کی تہہ میں اکٹھا ہوئی ریت اورمٹی وغیرہ نکالنا شامل ہیں ۔
  2. حکومت نے مرکز کی سرپرستی والی اسکیم ‘‘ آبپاشی سے متعلق تعداد شماری ’’کے تحت ،آبپاشی سے متعلق چھوٹی تعدادشماری کے چھٹے دور کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے ، آبی ذخائر کی پہلی تعداد شماری کے کام کا آغاز کیاہے ۔ (بحوالی سال 18-2017) ۔ اس اسکیم کا مقصد ملک میں تمام  آبی ذخائر کے قومی ڈیٹا بیس تیارکرناہے ۔
  3. انڈیا –ڈبلیو آرآئی ایس پورٹل میں ، دیہی اورشہری دونوں  آبی ذخائر کی نقشہ سازی کی جاتی ہے ، جن میں سے ہرایک آبی ذخائر کو ایک منفرد شناخت کا نمبردیاجاتاہے ۔
  4. مہاتماگاندھی  قومی دیہی روزگارضمانت اسکیم (ایم این ایم ای جی ایس )کے تحت قدرتی وسائل کے بندوبست  ، پانی کے تحفظ اورنگہداشت اورپانی کی بچت کرکے اورمحفوظ کرکے بروئے کار لانےکے  ڈھانچوں سے متعلق  سرکاری کاموں کا التزام  کیاگیاہے ، تاکہ زیرزمین پانی کے وسائل میں اضافہ کیاجاسکے اورانھیں بہتربنایاجاسکے ۔ مکانات اورشہری امور کی وزارت کے تحت تعمیر وترقی اوراحیاء اورشہری کا یاپلٹ (اے ایم آریوٹی) نے بھی آبی ذخائر کی تعمیروترقی اوراحیاء کاکام شروع کیاہے ۔ ان پروجیکٹوں پر1878.19کروڑروپے کی لاگت  آنے کا تخنیمہ لگایاگیاہے ۔ یہ پروجیکٹ  یا تو مکمل ہوچکے ہیں یا ان میں کام جاری ہے ۔ اس اسکیم کے تحت 106آبی ذخائر کااحیاء کیاجاچکا ہے ۔ البتہ ان میں سے کوئی بھی پروجیکٹ اڈیشہ میں نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ  امرت –دوئم کا آغاز اکتوبر  میں کیاگیاتھا۔ 299000کروڑروپے کی تخمینہ لاگت اس اسکیم کے تحت شہروں کے پانی کے توازن کو فروغ دے کرپانی کی گردشی معیشت  کوتقویب بہم پہنچائی جائے گی ۔

ضمیمہ

پردھان منتری کرشی سینچائی  یوجنا –ہرکھیت کو پانی (پی ایم کے ایس وائی –ایچ کے کے پی ) کے ایک جزوآبی ذخائر کی مرمت ، احیاء  اوربحالی (ڈبلیو بیز کے آرآرآر) کے تحت ، سال 21-2016 کے دوران کئے گئے کام ۔

(کروڑروپے میں )

نمبرشمار

ریاست

شامل کئے گئے آبی ذخائر  کی تعداد

تخمینہ لاگت

واجب الادا مرکزی امداد

کل اخراجات

جاری شدہ مرکزی امداد

مکمل ہوچکے آبی ذخائرکی تعداد

1

آندھراپردیش

100

66.77

40.06

0.00

2.70

0

2

بہار

93

161.91

89.46

21.70

18.08

6

3

گجرات

61

102.91

61.70

8.05

8.81

3

4

مدھیہ پردیش

125

183.24

93.01

13.52

0.00

42

4

منی پور

4

65.44

58.90

12.38

24.26

0

5

میگھالیہ

9

11.43

10.29

6.19

2.66

8

6

اڈیشہ

863

449.03

246.46

110.55

37.54

440

7

راجستھان

68

185.14

85.13

90.82

26.26

61

8

تمل ناڈو

251

128.73

77.09

90.45

25.03

193

9

تلنگانہ

575

459.18

272.02

150.24

59.68

371

10

اترپردیش

20

49.50

32.65

7.33

0.00

8

 

کل

2,169

1,863.28

1,066.77

511.23

205.02

1,132

 

 

**********

 

 

)ش ح ۔ع م۔ ع آ)

U -7546



(Release ID: 1841423) Visitor Counter : 112


Read this release in: English