بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی راستوں کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

جناب سربانند سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم کا وژن ساحلی علاقوں کی ترقی، ساحلی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور سمندری معیشت کی حفاظت اور اسے فروغ دینا ہے


جہاز رانی کی وزارت کی چنتن بیٹھک بھارت کی سمندری معیشت کو آگے بڑھانے کے لیے اختراعی تصورات پر مرکوز ہے

Posted On: 26 JUN 2022 6:20PM by PIB Delhi

بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) نے کرناٹک میں بھارت کی سمندری معیشت کو آگے بڑھانے والے تصورات اور اختراعات پر تبادلہ خیال کرنے اور ان پر غور کرنے کے لیے تین روزہ چنتن بیٹھک کا آغاز کیا۔ اس بیٹھک کی صدارت بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں (پی ایس ڈبلیو)، نیز آیوش کے مرکزی وزیر جناب سربانند سونووال نے کی۔ بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر مملکت شریپد نائک اور بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے مرکزی وزیر مملکت شانتنو ٹھاکر؛ وزارت کے اعلیٰ حکام بشمول تمام بڑی بندرگاہوں کے چیئرپرسنز، بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت (ایم او پی ایس ڈبلیو) کے سینئر عہدیداروں نے اس تین روزہ ذہن سازی سیشن میں ہونے والی بات چیت میں حصہ لینے کے لیے میٹنگ میں شرکت کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image00199AV.jpg

اس موقع پر بات کرتے ہوئے جناب سونووال نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کا وژن ساحلی علاقوں کی ترقی، ساحلی بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا اور سمندری معیشت کی حفاظت اور فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد سمندری معیشت کی تبدیلی اور ‘نقل و حمل کے ذریعے تبدیلی’ کے پیچھے دلیل کا ادراک کرنا ہے۔انھوں نے کہا کہ اتم نربھر بھارت بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ بھارت کی سمندری معیشت کے وسیع مواقع کو بہترین طریقے سے استعمال کرنے کے لیے پوری احتیاط برتی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا کردار – بندرگاہوں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کی وزارت کے طور پر – ان نالیوں کو بااختیار اور فعال بنانا ہے جن کے ذریعے یہ اقتصادی تبدیلی حاصل کی جا سکتی ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0025XZX.jpg

وزیر موصوف نے کہا کہ اس چنتن بیٹھک کے ذریعے ملک کے بہترین اذہان اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ ہم سبھی مختلف چیلنجوں اور مواقع پر غور و فکر، تبادلہ خیال اور فیصلہ کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری بندرگاہوں کو ترقی دینے اور جدید تر بنانے کے ہمارے منصوبے کے خوش اسلوبی اور تیزی سے نفاذ کے لیے روڈ میپ کی تیاری میں ایک طویل سفر طے کرے گا۔ جناب سونووال نے کہا کہ ہمیں اس کے لیے پی پی پی ماڈل کو دیکھنا چاہیے جو گرین فیلڈ پورٹ کی ترقی کے لیے سرکاری وسائل کو بھی آسان بنائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھارت کے ساحلی علاقوں کو ان علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے زندگی میں آسانی کے لیے جامع طور پر ترقی دے گا اور اس کے ساتھ ساتھ کاروباروں کو آسانی کے ذریعے بہترین خدمات حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔

کثیر ماڈل کنیکٹیویٹی کو فروغ دینے کے لیے وزارت اہم اور غیر اہم بندرگاہوں کی جامع ترقی کے لیے سرگرم کوششیں کر رہی ہے۔ بات چیت کے دوران ایک اچھی طرح سے مربوط ماحولی نظام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ جناب سونووال نے مزید کہا کہ یہ ضروری ہے کہ بندرگاہوں کو اپنے سرے پر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو تیز کرنا چاہیے تاکہ سرمایہ کے اخراجات کی وصولی میں اضافہ ہو سکے۔ پی ایم گتی شکتی نیشنل ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی پلان کے موثر نفاذ کے لیے ریل، سڑک، آبی گزرگاہوں کی ترقی کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بندرگاہوں کو ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی میں رکاوٹوں کی نشاندہی اور حل کرنے کے لیے ایک ماسٹر پلان وقت کی ضرورت ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003ZEIT.jpg

بندرگاہوں پر ملٹی ماڈل کنیکٹیویٹی کو فروغ دینے کے لیے کل 157 روڈ کنیکٹیویٹی پروجیکٹ اور 137 ریل کنیکٹیویٹی پروجیکٹ شروع کیے جارہے ہیں۔ مرکزی وزیر نے بندرگاہ کے تمام حکام کو جدید کاری اور میکانائزیشن کے لیے ایک اہم پروجیکٹ کی نشاندہی کرنے، اسے شروع کرنے اور مکمل کرنے کی تلقین کی۔ یہ بندرگاہ کی صلاحیت کو بڑھا دے گا اور فعال کارکردگی کو بہتر بنائے گا۔

جناب سونووال نے کہا کہ یہ تکمیل شدہ پروجیکٹس بڑی بندرگاہوں کی طرف سے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے وزیر اعظم کی طرف سے فراہم کردہ تحریک اور اس کے کثیر اثرات کو پورا کرنے کے لیے کی گئی کوششوں کو ظاہر کریں گے۔ اس کے لئے موجودہ مالی سال میں اخراجات میں اضافہ کرکے اسے 7.5 لاکھ کروڑ روپے کردیا گیا ہے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 35.4 فیصد زیادہ ہے۔

بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کے وزیر مملکت شریپد یسو نائک نے کہا کہ ہمیں اپنی بندرگاہوں پر نئی ٹیکنالوجی اور ترقی کے ساتھ دنیا کی قیادت کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بندرگاہوں اور جہاز رانی کے شعبے سے متعلق دیگر شعبوں کو بھی ترقی کے لیے زیر غور لایا جانا چاہیے۔

بندرگاہوں، جہازرانی اور آبی گزرگاہوں کے وزیر مملکت جناب شانتنو ٹھاکر نے بھارتی جہاز رانی کے شعبے کی طاقت اور آبی گزرگاہوں کے شعبے میں مواقع کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے گزشتہ ‘چنتن بیٹھک’ کے نتائج کی بھی تعریف کی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

ش ح۔م ع۔ع ن

                                                                                                                                      (U: 6919)



(Release ID: 1837199) Visitor Counter : 46


Read this release in: English , Marathi , Hindi , Tamil