کامرس اور صنعت کی وزارتہ

پیوش گوئل نے لیب گروون ڈائمنڈس، تحقیق اور ترقی پر توجہ مرکوز کرنے، مشترکہ سہولیات کے قیام اور ترقی کو فروغ دینے کے لیے مناسب افرادی قوت کی مہارت پر میٹنگ کی صدارت کی


اس شعبے میں 2025 تک 25 لاکھ تک روزگار کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں

Posted On: 17 MAY 2022 8:22PM by PIB Delhi

تجارت اور صنعت؛ صارفین کے امور، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم نیز ٹیکسٹائل کے مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل نے آج نئی دہلی میں لیب سے تیار کردہ ڈائمنڈز انڈسٹری کے نمائندوں کے ساتھ ایک میٹنگ کی صدارت کی۔

تحقیق اور ترقی کے فروغ، مشترکہ سہولیات کے قیام اور اس ابھرتے ہوئے شعبے کی خدمت کے لیے مناسب افرادی قوت کی ہنر مندی پر بات چیت ہوئی۔ فی الحال بھارت لیبارٹری سے تیار کردہ ہیروں کی عالمی پیداوار میں تقریباً 15 فیصد کا حصہ ہے جس کے لیے وہ اس وقت خود کفیل ہے۔ تاہم، مستقبل کے امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے، مشینری کی پیداوار میں تکنیکی خود انحصاری کو برقرار رکھنے اور پروڈکشن لیب میں اگائے جانے والے ہیروں میں قائدانہ مقام رکھنے کی ضرورت ہے۔ ڈائمنڈ پالش کرنے میں بھارت کی مہارت کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری ہے کہ بھارت خود کو لیبارٹری سے تیار کردہ ہیروں کے شعبے میں بھی مضبوطی سے کھڑا کرے کیونکہ پالش کرنے کا عمل ایک جیسا ہے۔ سال 2025 تک 25 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔

لیب سے اگائے جانے والے ہیرے وہ ہیرے ہوتے ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے لیبارٹری کے اندر اگائے جاتے ہیں جو قدرتی ہیروں کی افزائش کے عمل کو نقل کرتا ہے اور اس کا نتیجہ ایک انسان ساختہ ہیرا ہے جو کیمیاوی، جسمانی اور نظری طور پر وہی ہے جو زمین کی سطح کے نیچے اگایا جاتا ہے۔ لیب سے تیار کردہ ہیروں کو دو طریقوں سے بنایا جا سکتا ہے - ہائی پریشر ہائی ٹمپریچر )ایچ پی ایچ ٹی ) جو چین میں استعمال ہوتا ہے اور کیمیکل ویپر ڈیپوزیشن (سی وی ڈی) جو کہ امریکہ اور بھارت میں استعمال ہوتا ہے۔

زیورات کی صنعت کے علاوہ لیب سے تیار کردہ ہیرے کمپیوٹر چپس، سیٹلائٹ، جی5 نیٹ ورکس میں بھی استعمال ہوتے ہیں کیونکہ انہیں انتہائی مشکل ماحول میں استعمال کیا جاسکتا ہے کیونکہ یہ سلیکون پر مبنی چپس سے کم طاقت استعمال کرتے ہوئے زیادہ رفتار سے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

قدرتی ہیروں کی طرح بھارت نے لیبارٹری سے تیار کیے گئے ہیروں کو کاٹنے اور پالش کرنے میں اپنا قائدانہ کردار ثابت کیا ہے۔2018-19، 2019-20،2020-21 اور 2020-21 کے دوران بھارت کی پالش شدہ لیب سے تیار کردہ ہیروں کی برآمدات بالترتیب 274 ملین امریکی ڈالر، 473 ملین امریکی ڈالر، 637 ملین امریکی ڈالر اور 1293 ملین امریکی ڈالر تھیں۔ انہی ادوار میں سالانہ نمو 72 فیصد، 35 فیصد اور 103 فیصد تھی۔

بھارت امریکہ، ہانگ کانگ، متحدہ عرب امارات، اسرائیل اور بلجیم وغیرہ کو پالش شدہ لیب گروون ہیرے برآمد کرتا ہے۔ بھارت کی برآمدات میں امریکہ کا حصہ تقریباً 67 فیصد ہے اور اس کے بعد ہانگ کانگ کا حصہ 14 فیصد ہے۔

میٹنگ میں جناب بی وی آر سبھرامنیم سکریٹری اور جناب وپل بنسل جوائنٹ سکریٹری موجود تھے۔ صنعت کی نمائندگی مسٹر کولن شاہ، چیئرمین جی جے ای پی سی، جناب سبیاسچی رے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر جی جے ای پی سی، جناب سمیر جوشی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انڈین ڈائمنڈ انسٹی ٹیوٹ سورت، جناب پرمود اگروال، چیئرمین نیشنل جیم اینڈ جیولری کونسل آف انڈیا اور دیگر صنعت کے نمائندوں نے کی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ش ح۔م ع۔ع ن

                                                                                                                                      (U: 5470)



(Release ID: 1826213) Visitor Counter : 142


Read this release in: English , Hindi