زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

زراعت اورکاشتکاروں کی بہبودکی وزارت نے یواین ڈی پی کے ساتھ زراعت ،فصل انشورنس  اور کریڈٹ  سے متعلق اسٹریٹجک شراکت داری کے لئے مفاہمت نامے پر دستخط کئے

نریندرسنگھ تومر کا کہنا ہے کہ یہ مفاہمت نامہ چھوٹے کاشتکاروں  کو فائدہ  پہنچائے گا

Posted On: 12 MAY 2022 5:59PM by PIB Delhi

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001323H.jpg

حکومت ہند کی زراعت اورکاشتکاروں کی بہبودکی وزارت  (ایم او اے اینڈ ایف ڈبلیو ) نے اور  اقوام متحدہ کے ترقی کے پروگرام ( یو این ڈی پی ) نے ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں، جس کے مطابق یواین ڈی پی مرکز کے خواہشمند پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا(پی ایم ایف بی وائی )اسکیم  اورکسان کریڈٹ کارڈ – ترمیم شدہ سودمالی مدداسکیم کی جانب تکنیکی حمایت مہیا کرے گا۔

اس مفاہمت نامہ پر  زراعت کے مرکزی وزیر نریندر سنگھ تومر کی موجودگی میں  پی ایم ایف بی وائی کے سی ای او ،رتیش چوہان اور یو این ڈی پی کے ریزینڈنٹ نمائندے  شوکونوڈا  کے ذریعہ  دستخط کئے گئے۔مفاہمت  نامے کے تحت  مشترک زراعتی کریڈٹ  اور فصل انشورنس   کے نفاذ کے لئے وزارت زراعت کی حمایت کی غرض سے یواین ڈی پی  نظام اور عالمی جانکاری میں اپنے اختصاص سے فائدہ اٹھائے گا۔زراعت کے مرکزی وزیر برائے ریاست  جناب کیلاش چودھری  اور زراعت کے سکریٹری جناب منوج آہوجہ نے بھی دستخط  کئے جانے کی تقریب کا مشاہدہ کیا۔

 

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0021HFZ.jpg

متعلقہ تنظیموں  کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا :‘‘ عزت مآًب وزیراعظم جناب نریندرمودی   کی رہنمائی میں  مرکزی وزارت زراعت اسکیموں کو ملک کے کروڑوں کسانوں کے فائدے   میں مکمل شفافیت کے ساتھ نافذ کررہی ہے۔تمام کسانوں کو براہ راست فائدہ  پہنچایا جارہا ہے۔’’

جناب تومر نے مزیدکہا :‘‘ جبکہ کسانوں نے پی ایم ایف بی وائی کے تحت  21000 کروڑروپے کا پریمئیم اداکیا، انہوں نے 1.15 لاکھ کروڑروپے سے زیادہ کا معاوضہ حاصل کیا۔یہ ظاہرکرتا ہے کہ پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا  پوری کاشتکار برادری کے فائدے  کے لئے کام کررہی ہے۔اسی طرح کسان کریڈٹ کارڈ اسکیم میں  زبردست کوششیں  کی جارہی ہیں تاکہ ان کسانوں کو فائدہ دیا جائے ، جو پہلے اسکیم کافائدہ  نہیں  اٹھاسکے ۔کوششیں یہ کی جارہی ہیں  کہ تمام چھوٹے کسانوں ، ذریعہ  معاش کے کسانوں  اور ماہی گیروں تک  پہنچا حائے۔’’

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003I620.jpg

کے سی سی –ایم آئی ایس ایس  اور پی ایم ایف بی وائی  اس مقصدسے شروع کئے گئے تھے کہ سابقہ اسکیموں کےمشکل والے میدان  سے نمٹا جائے اورایک ایسا ڈھانچہ تیار کیاجائے ،جو تمام متعلقہ فریقوں کے لئے بہتر نفاذکے متبادل  کا حامل ہو اور مطلوبہ نتائج حاصل کرے ۔اس غرض  کے لئے اسکیموں میں  مختلف نئی دفعات شامل کی گئی ہیں۔موجودہ اسکیموں کی ایک سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ  ان کا اطلاق  متفقہ  طورپر پورے ملک میں  ہوتا ہے اور یہ تمام فصلوں کا احاطہ کرنے کی گنجائش رکھتی  ہیں۔

مفاہمت نامے کے مطابق  یواین ڈی پی ، زراعت کریڈٹ  اور فصل انشورنس کے موثر نفاذ کے لئے  تکنیکی امداد مہیا کرے گا۔ اسی طرح  سے صلاحیت کی ترقی  اورمعلومات ،  تعلیم اور کمیونی کیشن  ( آئی ای سی ) کی  حمایت  چھوٹے اور حاشئے پرپڑے کاشتکاروں  ، خواتین کاشتکاروں ،ساجھیدار  اور بٹائی  پر کام کرنے والے کسانوں  اور قرض  نہ لینے والے   کسانوں کے فائدے  کے مدنظر موجودہ قومی   ریاستی اداروں کو مہیا کرے گا۔

یو این ڈی پی کے ساتھ  اس  اسٹریٹجک  شراکتداری کے بارے میں  جناب تومر نے کہا:‘‘  گزشتہ  چا ر سالوں میں یواین ڈی پی کے ذریعہ  مہیا کردہ تکنیکی امداد سے  اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس  شراکتداری کے ُذریعہ ہم  فصل انشورنس  اور زراعتی کریڈٹ اسکیموں   کے نفاذ میں  اور زیادہ بہتر نتائج  حاصل کریں گے۔

*************

ش ح۔ا ک۔رم

(13-05-2022)

U-5319



(Release ID: 1824997) Visitor Counter : 31


Read this release in: English , Hindi , Marathi , Tamil