سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت
دھندلکے میں چھپی ہوئی مدھم روشنی والی کہکشاں کی ہماری کائنات میں دریافت
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 APR 2022 2:53PM by PIB Delhi
تحقیق کاروں نے تقریبا 136 ملین نوری سال کی دوری پر قائم ایک بہت ہی مدھم لیکن ستاروں کی تخلیق کرنے والی کہکشاں کو دریافت کیا ہے ۔ اس کہکشاں کا اب تک اس بناپر سراغ نہیں لگایا جاسکا تھا کہ اس کے سامنے اس سے زیادہ روشن کہکشاں موجود ہے ۔ اس کی ڈسک کی کم درجہ والی کثافت کی بنا پر مناظری تصویروں میں یہ کہکشاں ایک سائے کی طرح دکھائی دیتی ہے ، لیکن اس کی اندرونی ڈسک میں ستاروں کی تخلیق کاعمل دکھائی دیتا ہے ۔ اندرونی ڈسک کے ستاروں کی تشکیل کے عمل کی بنا پر الٹراوائلٹ اور مناظری تصاویر میں اس سراغ لگانےمیں آسانی ہوئی ۔ کائنات میں تمام اشیا جن سے عام جوہری مواد( ستارے اور گیس) بنتا ہے، کے مجموعی حجم کااندازہ کرنے کے لئے ایسی مدھم کہکشاؤں کی صحیح تعداد کاپتہ لگانا ضروری ہے ۔
آج کل چونکہ بصری دوربینیں زیادہ سے زیادہ طاقتور ہوچکی ہیں ، اس لئے وہ بہت مدھم قسم کی کہکشاؤں کاپتہ لگانے کے حوالے سے بھی کافی حساسیت کے حامل ہیں ۔ ایسی کہکشاؤں کو کم درجے کی چمک والی سطح کی کہکشائیں یا الٹراوائلٹ ڈفیوز گلیکسیز کانام دیا جاتا ہے ۔ ان کہکشاؤں کی سطح ان کے چاروں طرف موجود دیگر کہکشاؤں کے مقابلے میں دس گناکم روشن ہوتی ہے ۔یہ مدھم چمک والی کہکشائیں کائنات کے حجم کا 15 فیصد تک ہی مانی جاتی ہیں ، تاہم ان کا سراغ لگانا بہت مشکل ہوتا ہے،فطری طور پر ان کی چمک دمک کم ہوتی ہے ۔
محققین کی ایک ٹیم نے ، جس میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ایسٹروفزکس ، بنگلورو سے تعلق رکھنےوالی جیوتی یادو، موسمی داس اور سدھانشو باروے علاوہ پیرس کے کالج ڈی فرانس ، چیئر گلیکسیز اٹ کاسمولوجی کے فینکوئس ،کامبیس شامل ہیں ، ا ین جی سی 6902 اےنام کی ایک معروف کہکشاں کامطالعہ کرتے ہوئے اس بات کاپتہ لگایا کہ کہکشاں این جی سی 6902 اے کےباہری جنوب مغربی علاقےکی رنگین تصویر(ڈارک انرجی کیمرالگیسی سروے(ڈی ای سی اےایل ایس) رنگین تصویر) سے غیر مرتکزنیلی روشنی کااخراج سامنے آتا ہے ۔ڈی ای سی اے ایل ایس، بین الاقوامی دوربینوں پر ایک بہت گہرائی والا بصری جائزہ ہے جس کو بکھری ہوئی کہکشاؤں کا سراغ لگانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔اس جنوب مغربی خطے سے فار الٹرا وائلٹ (ایف یو وی ) تصویر میں بڑے بڑے ستاروں کی تخلیق کرنے والے علاقوں کا پتہ چلتاہے۔کہکشاؤں میں ایف یو وی سے زیادہ تر ضیاپاشی اواین ڈی قسم کے نئےستاروں کی بنا پر ہے ۔ یہ ستارے زبردست حجم والے اورکہکشاؤں میں سب سے کم عمر پانےوالے ستارےہوتےہیں لیکن ان سے 100 ملین برسوں کےلئےایف یو وی روشنی کااخراج ہوتا ہے جو کہ دیگر ستاروں کی تخلیق کا پتہ لگانےو الوں کے مقابلے میں طویل ترہے۔ایف یو وی روشنی کی اس کثرت نے تحقیق کاروں کو زیادہ تفصیل کے ساتھ اہم خصوصیات کی تفتیش کرنےکی ترغیب دی تاکہ کہکشاؤں کے اس تعامل کااندازہ لگایا جاکے۔
تحقیق کاروں نے اسپکٹرامیں روشنی کے اخراج کی نئی لائنوں کا استعمال کرتے ہوئے این جی سی 6902 اے ، پہلے سے معلوم ایک کہکشاں اور ستارے تخلیق کرنے والے مدھم روشنی والے علاقوں کےفاصلے کی پیمائش کی ۔تحقیق سے انہوں نے پایا کہ یہ ستارہ ساز علاقے تقریبا136 ملین نوری سال کی دوری پر واقع ہے ، جبکہ این جی سی 6902 اے تقریبا825ملین نوری سال کی دوری پر قائم ہے ۔اس کامطلب یہ ہواکہ غیر مرتکز نیلی روشنی اخراج ایک پیش منظری کہکشاں سے تھا جسےانہوں نے ایف یو وی اور این یو ایس ای ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے دریافت کیا تھا ۔انہوں نے اس کو یووی آئی ٹی جے 202258.73-441623.8 (یا مختصر طور پر یو وی آئی ٹی جے 2022) کا نام دیا۔ یہ اس بنا پر کہ فلکی سیارچے پر الٹراوائلٹ امیجنگ ٹیلسکوپ ( یو وی آئی ٹی ) سے موصول ہونے وا لے اعدادوشمار نے اس کہکشاں کا پتہ لگانے میں اور آسمان پر اس کے معاون سیاروں کا سراغ لگانے میں مدد کی ۔ یہ تحقیقات’ ایسٹرونومی اینڈ ایسٹروفزکس‘ نامی جریدے میں شائع ہوئی ہیں۔
یو وی آئی ٹی جے 2022 کو پہلے غلطی سے ا ین جی سی 6902 اے کا ایک حصہ سمجھ لیا گیا تھا ، مطالعہ سے اس کا پتہ چلتاہے کہ خلا میں ایسی اور بھی کہکشائیں ہوسکتی ہیں جنہیں پیش منظری اور پس منظری کہکشاؤں کے ساتھ ایک اچھی پوزیشن میں ہونے کی بنا پر متعامل کہکشائیں سمجھ لیا جائے ۔
ہمارےارد گرد جوموادموجودہےاسےباریونک موادکہاجاتاہے ، جو کہ کل کائنات کے حجم کا 5 فیصد ہے ۔ باقی حجم مواد کی کچھ نامعلوم شکلوں ،جیسےتاریک مواد اور تاریک توانائی کامرہون منت ہے ۔ ہم آج بھی کائنات میں موجود باریونک مواد کے پانچ فیصدکے بارے میں نہیں جانتے ۔ ہم نہیں جانتے کہ تمام باریونس کہاں موجود ہیں ۔یہ مدھم کہکشائیں کائنات میں موجودان نامعلوم باریونس کی اصلیت کے حوالے سے جاننے میں ایک کڑی ثابت ہوسکتی ہیں ۔
اس دریافت میں ، جس میں یو وی آئی ٹی اورایم یو ایس ای جیسے طاقتورآلات کااستعمال کیا گیا تھا اورجوایک ایسی پیش منظری کہکشاں کے حوالے سے تھی جسے ایک درخشاں پس منظر والی کہکشاں کی ایک تموجی خصوصیت سمجھ لیا گیا تھا،ایسےمعاملات کی تحقیق کی راہیں کھلی ہیں ۔ اس کے مطابق اس کا امکان ہے کہ باہم متعامل کہکشاؤں میں نیلی روشنی کے غیر مرتکز اخراج کی تموجی خصوصیات کسی مجموعے کاحصہ نہ ہوں بلکہ ایک الگ پیش منظری یا پس منظری کہکشاں ہوں۔اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ا یف یو وی اورایچ اے ایمیشن جیسے ستاروں کی تشکیل کا سراغ لگانے والے آلات کے استعمال سے منتشرکہکشاؤں کا پتہ لگایا جاسکتا ہے ۔
مزید تفصیلات کے لئے Jyoti Yadav (jyoti@iiap.res.in) and Mousumi Das (mousumi@iiap.res.in).
تصویر:پس منظری کہکشاں این جی سی 6902 اے اورپیش منظری کہکشاں یو وی آئی ٹی جے 2022 کودکھاتے ہوئے بہت سی طول امواج سےلی گئی تصاویر کا ایک مجموعہ
*************
ش ح- س ب– ف ر
U. No.3959
(ریلیز آئی ڈی: 1814407)
وزیٹر کاؤنٹر : 175