پوسٹ کرنے کی تاریخ:
06 APR 2022 5:25PM by PIB Delhi
کامرس و صنعت کی وزیر مملکت محترمہ انو پریا پٹیل نے لوک سبھا میں آج ایک تحریری جواب میں بتایا کہ کامرس کے محکمے نے پاکستان کو چھوڑ کر اپنے پڑوسی ملکوں سمیت بہت سے ملکوں کے ساتھ ادارہ جاتی دو طرفہ نظام قائم کیا ہوا ہے، جس کے تحت تجارت، سرمایہ اور اقتصادی معاملات پر باہمی سطح پر بات چیت کی جاتی ہے۔ پچھلے 4 برسوں میں اس طرح کی بہت سی باہمی میٹنگس ہوئی ہیں جن میں سرحدی، تجا رتی بنیادی ڈھانچے کو مستحکم کرنے ، تجارت کی راہ میں حائل تکنیکی رکاوٹوں کو دور کرنے، صفائی ستھرائی اور فائٹو سینٹری (ایس پی ایس) اقدامات، کسٹمز میں تعاون، ریلویز، زمین اور سمندری بندر گاہوں کے ذریعہ تجارتی سہولیات ، معیارات کو فروغ دینا، جیسے باہمی مفاد کے معاملات شامل ہیں۔ ان معاملات اور باہمی مفادات کے مختلف پروجیکٹوں اور پروگراموں پر عمل در آمد پر بات چیت کے مثبت نتائج بر آمد ہوئے ہیں، جس کا ا ظہار ان ملکوں کے ساتھ بھارت کی مجموعی تجارت میں اضافے سے ہوتا ہے۔ 18-2017 میں یہ تجارت 112 اعشاریہ ایک پانچ ارب امریکی ڈالر تھی، جب کہ اپریل 2021 سے فروری 2022 (عارضی مدت) میں یہ تجارت بڑھ کر 135 اعشاریہ سات سات ارب ڈالر ہو گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ش ح۔ اس۔ ق ر۔
U- 3957