خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

این سی پی سی آر نے پاکسو کے بارے میں علاقائی مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا


تقریباً 500 سے شرکاء نے قانون کے نفاذ میں رکاوٹ بننے والے عوامل اور متاثرین کے لئے امداد کے پہلوؤں پر غور و خوض کیا

مئی 2021 تک 26 ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام خطوں 338 خصوصی پاکسو عدالتیں سمیت 640 فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں کام کرنےلگیں

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 02 APR 2022 10:00PM by PIB Delhi

بچوں کے حقوق  کے تحفظ سے متعلق قومی  کمیشن (این سی پی سی آر) نے علاقائی میٹنگوں کے سلسلے  کے ایک حصے کے طور پر  پاکسوں کے بارے میں آج وگیان بھون نئی دہلی کے میں شمالی علاقہ کی مشاورتی میٹنگ کا انعقاد کیا۔ جس کا موضوع تھا ’’پاکسو: نفاذ میں رکاوٹ بننے والے عوامل اور متاثرین کی امداد کے پہلوؤں‘‘۔ پروگرام میں این اے  ایل ایس اے، ایس وی پی این پی اے، این ایف ایس یو اور بی پی آر اینڈ ڈی کے نمائندوں نے پروگرام میں شرکت کی۔اس علاقائی مشاوری میٹنگ میں  پورے شمالی بھارت کے  500 سے زیادہ شرکاء تھے جن میں  ضلعی عدالتوں کے معزز ججوں، ڈی ایل ایس اے  کے وکلا، پنجاب، ہریانہ، ہماچل پردیش، راجستھان، اتر پردیش، اتراکھنڈ ریاستوں اور  مرکز کے زیر انتظام خطوں دہلی، چنڈی گڑھ، جموں اور  لداخ اور ایس سی پی سی آر  فارنسک ماہرین اور پولیس افسران شامل تھے۔

سپریم کورٹ آف انڈیا جج آنریبل جسٹس ایس رویندر بھٹ، مہمان خصوصی تھے۔ این سی پی سی آر کے  چیئر پرسن جناب  پرینک کانونگو، این اے ایل ایس اے کے ممبر سکریٹری  جناب اشوک کمار جین اور این سی پی سی آر کی ممبر سکریٹری محترمہ روپالی بنرجی سنگھ نے  پدم شری ڈاکٹر سنیتا کرشنن اور 10 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کے ایس وی پی این پی اے، این ایف ایس یو، بی پی آر اینڈ ڈی اور این اے  ایل ایس اے کے معززین کی موجودگی میں  رسمی شمع روشن کرتے ہوئے  علاقائی مشاورتی میٹنگ  کا افتتاح کیا۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001Y8DE.jpg

 

این سی پی سی آر پاکسو کے بارے میں  پر اہم  متعلقین کے ساتھ علاقائی سطح کی مشاورتی میٹنگوں  کا اہتمام کرتا  رہا ہے۔ علاقائی مشاورتی میٹنگیں بہار اور مغربی بنگال  کو کور کرتے ہوئے اڈیشہ میں اور  ریاستوں آسام، منی پور، سکم اور اروناچل پردیش میں منعقد کی جاچکی ہیں۔

افتتاحی اجلاس میں حاضرین  سے خطاب کرتے ہوئے، این سی پی سی آر کے چیئرپرسن، جناب  پرینک کانونگو نے گوڈی پروا اور اوگادی کے موقع پر نئے سال کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے تمام شرکا کومبارکباد دی اور آنریبل جسٹس ایس رویندر بھٹ اور دیگر معززین کا  استقبال  کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکسو بچوں کے لیے ایک مثالی قانون ہے کیونکہ یہ نہ صرف بچوں کے خلاف جرائم کی سزا دیتا ہے بلکہ ان کی بحالی کے عمل کے لیے بھی التزامات کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این سی پی سی آر اور ایس سی پی سی آر بچوں کی بہبود اور ان کی بحالی کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0028KT5.jpg

سپریم کورٹ آف انڈیا کے جج آنریبل  مسٹر جسٹس ایس رویندر بھٹ نے ایک اہم موضوع پر ایسی  مشاورتی میٹنگوں کا انعقاد کرنے کے لیے این سی پی سی آر کے چیئرپرسن جناب پرینک کانونگو  کا شکریہ ادا کیا۔ یہ کوشش صحیح  وقت پر کی جارہی ہے کیونکہ اس ایکٹ کے نفاذ  کو ایک دہائی کی مددت گزر چکی ہے۔ جناب  بھٹ نے کہا کہ  ریاستوں کی ذمہ داری  کوئی اور ادا نہیں کرسکتا ریاست کو ہی مزید خصوصی عدالتیں قائم کرکے اور   مختلف متعلقین کی تربیت کرکے اور انہیں حساس بناکر صلاحیت سازی کی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003AN9T.jpg

 

جناب  بھٹ نے  کہا کہ  پاکسو رولز ، 2020 میں  اس بات کو ضروری قرار دیا گیا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت وقتاً فوقتاً بچوں کے رابطے میں آنے والے تمام افراد  کو چاہے وہ  مستقل ہوں یا ٹھیکے پر،  تربیت فراہم کرائیں گی جس میں اوررخ بندی  پروگرام، حساس بنانے کی  ورکشاپس اور ریفریشر کورسز شامل ہوں گے تاکہ انہیں بچوں کی حفاظت اور بچاؤ کے بارے میں حساس بنایا جائے اور قانون کے تحت ان کی ذمہ داری سے انہیں آگاہ کیا جائے۔ لیکن جس بات  سے انکار نہیں کیا جا سکتا وہ یہ ہے کہ ریاست کی ذمہ داریوں کا ایک بہت بڑا حصہ مالی نوعیت کا ہے۔ جس کا مقصد نظامی کو مجموعی طور پر  بہتر بنانا ہے۔ ان قوانین  اور پالیسیوں کی منشا بھلے ہی اچھا ہو، لیکن یہ جب تک کہ ان متاثر بچوں کی دیکھ بھال اور باز آباد کاری کا کا ایک فریم ورک تیار کرنے کے لیے بڑے فنڈز مختص کرنے کو  ریاستی ترجیحات میں شامل نہیں  کیا جاتا ہے یہ کافی نہیں ہوں گے۔مئی 2021 تک 338 خصوصی پاکسو  عدالتوں  سمیت 640 فاسٹ ٹریک خصوصی عدالتیں، 26 ریاستوں/مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں کام کر نے لگی تھیں۔

متنوع  نظریات  حاصل کرنے کے لیے، تکنیکی اجلاس منعقد کیے گئے اور کمیشن نے اس اہم موضوع پر غور و خوص کے لئے مختلف میدانوں سے  نمائندوں کو مدعو کیا۔ ۔ پدم شری ڈاکٹر سنیتا کرشنن نے پاکسو متاثرین کے لیے اختیار کئے جانے والے  قانونی طریقہ کار میں متعلقہ کے رول  کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ٹریننگ (بی پی آر اینڈ ڈی) کے ڈپٹی ڈائریکٹر - ٹریننگ  جناب  انوراگ کمار (آئی پی ایس)نے پاکسو سے متعلق معاملات مین  پولیس کے طریقہ کار اور رول  کا ذکر کیا۔ ایس وی پی این پی اے کے سنٹر آف چلڈرن کےفیکلٹی انچارج  ڈاکٹر کے پی اے الیاس  (آئی پی ایس) نے پولیس اہلکاروںکی تربیت کی نوعیت کی وضاحت  کرنے کے لیے اپنے خیالات اور زمینی تجربات بیان کئے۔ این اے ایل ایس اے  ممبر سکریٹر جناب  اشوک کمار جین نے جانچ اور  مقدمے  کے مختلف مراحل پر مختلف اسکیموں اور قوانین کے تحت پاکسو  متاثرین کےلئے معاوضہ فراہم کرانے پر توجہ مرکوز کی۔ این ایف ایس یوکے   اسکول آف لاء کی  ڈین  پروفیسر (ڈاکٹر) پوروی پوکھریال  نے فارنسک شہادت حاصل کرنے  اور فارنسک شہادت حاصل کرنے کے چیلنجوں  سے متعلق  جانچ کے قانونی ضابطے   کی وضاحت اور تمام  متعلقین کی  شمولیت اور تربیت پر زور دیا۔

****

ش ح۔ا گ ۔ن ا۔

U- 3709

                            


(ریلیز آئی ڈی: 1812987) وزیٹر کاؤنٹر : 171
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी