عملے، عوامی شکایات اور پنشن کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ کہتے ہیں کہ 2022 کی عینک سے بھارت 2047@ کو نہیں دیکھا جاسکتا۔ مستقبل کے گورننس ماڈلز ایک سرکاری ملازم کے کردار کی نئی وضاحت کر سکتے ہیں اور گورننس میں  شہریوں  کا حصہ  زیادہ سے زیادہ ہوسکتا ہے


ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے نئی دہلی میں ڈی اے آر پی جی کے زیر اہتمام شعبہ جاتی ماہرین کے ساتھ انڈیا @2047 کنکلیو میں کلیدی خطبہ دیا

وزیر محترم  نے ڈی اے آر پی جی پر زور دیا کہ وہ  بہتر طرز حکومت کے اشاریے اور  عالمی  طرز حکومت اشاریے کے درمیان زیادہ ہم آہنگی پیدا کرے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 MAR 2022 6:57PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی؛ وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارتھ سائنسز؛ وزیر اعظم کے دفتر، عملہ، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا، کوئی بھی 2022 کے  طرز فکر کے ساتھ 2047 کے بھارت کا تصور نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے گورننس ماڈل ایک سرکاری افسر کے کردار کی نئی وضاحت کر سکتے ہیں۔  اور زیادہ سے زیادہ گورننس شہریوں کے دائرہ کار میں منتقل ہو سکتی ہیں، اس طرح صحیح معنوں میں ‘‘کم سے کم حکومت’’ کے جذبے کو ظاہر کیا جاسکتا ہیں۔

یہاں ڈی اے آر پی جی کے زیر اہتمام شعبہ جاتی ماہرین کے ساتھ @2047 کنکلیو میں کلیدی خطبہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ مستقبل کے گورننس ماڈل ایک سرکاری ملازم کے کردار کی نئی وضاحت کر سکتے ہیں اور گورننس زیادہ سے زیادہ شہریوں کے دائرے میں منتقل ہو سکتی ہے، اس طرح حقیقی معنوں میں ‘‘کم سے کم حکومت’’ کے جذبے کو ظاہر کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی، نئے اشاریہ جات اور مصنوعی ذہانت کا ایک پیچیدہ طور پر جڑا ہوا انٹرفیس ہے، جو بڑے پیمانے پر کام کر سکتا ہے۔

وزیر  موصوف نے کہاکہ  2047 تک ہندوستان ایک فرنٹ لائن ملک کے طور پر ابھرے گا اور دنیا ہماری قیادت  تسلیم کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی، لیکن یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم دنیا کی قیادت کرنے کے لیے تیار ہوں۔  دنیا بھر کی  قومیں ترقی اور حکمرانی کے بیشتر اہم شعبوں میں ہمارا طرز عمل اختیار کریں گے۔

اگلے 25 سالوں میں ہندوستان کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، آزادی کے امرت دور میں، ہم ہمہ جہت اور ہمہ گیر ترقی کے لیے ایک شفاف نظام، موثر عمل اور ہموار حکومت کی تشکیل کے لیے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ حکومت گڈ گورننس کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے، جو کہ عوام کے حق میں ہے اور گرم جوشانہ گورننس ہے۔ ‘شہری سب سے پہلے’ کے نقطہ نظر سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے، ہم اپنے خدمات فراہمی   کی میکانزم کی دائرہ کار کو مزید توسیع دینے اور انہیں مزید موثر بنانے کی اپنی کوششوں کے سلسلے میں انتھک محنت کر رہے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ہمیں ہندوستان کے لیے ہندوستانی نقط نظر کو ترقی دینا ہے اور ہندوستانی مسائل کے لئے ہندوستانی حل تلاش کرنے ہے اور اس مقام پر 2047 سے متعلقہ اشاریہ جات کی نوعیت کا نقشہ ہمارے تصور میں ہونا چاہئے ۔ وزیر محترم  نے ڈی اے آر پی جی پر زور دیا کہ وہ  بہتر طرز حکومت کے اشاریے اور  عالمی  طرز حکومت اشاریے کے درمیان زیادہ ہم آہنگی پیدا کرے ۔

 

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کم از کم حکومت کا تصور 2047 تک اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا اور اس لیے عوامی خدمات کو کارگر اور موثر انداز میں فراہم کرنے کے لیے ادارے سے جڑے علم اور تجربے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2047 میں ہندوستان پر سرکاری ملازمین کی حکومت ہوگی جو اس وقت سول سروس کے 8ویں-10ویں سال میں ہیں اور اس لیے نوجوان سرکاری ملازمین کو وژن انڈیا2047@ کے  حوالے سے  ترغیب دینا اور ان کو پروگرام کا حصہ بنانا ضروری ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے بتایا کہ ڈی اے آر پی جی حکومت کی ان وزارتوں/ محکموں میں شامل ہے جو اپنا وژن انڈیا @2047 تشکیل دے رہی ہے اور اس نے وزیر مملکت برائے پی ایم او، پرسنل، پی جی اور پنشن کی سربراہی میں 15 شعبہ جاتی کے ساتھ ایک مشاورتی گروپ تشکیل دیا ہے۔ جس میں سینئر سول سرونٹ، آئی آئی ٹی، آئی آئی ایم کی مرکزی اور ریاستی یونیورسٹیوں اور پبلک پالیسی ریسرچ آرگنائزیشنز کے قومی ماہرین شامل ہیں۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ اور جمہوریہ کوریا کا بین الاقوامی تجربہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ 21ویں صدی کی بہت سی انتظامی اصلاحات (اے) کارکردگی کے انقلاب (بی) کسٹمر انقلاب اور (سی) اختراعی انقلاب پر مبنی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر ملکوں نے بھی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو بااختیار بنانے کی کوشش کی ہے اور  ڈی اے آر پی جی کلیدی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ وسیع مشاورت کے بعد اپنے وژن  انڈیا@2047 میں انتظامی اصلاحات کے کچھ بہترین طریقوں کو شامل کرنے کی کوشش کرے گا۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ ڈی اے آر پی جی باہمی فائدے کے لیے دوطرفہ اور کثیر جہتی تعاون پر مبنی اقدامات کو بڑھاوا دے گا جو عالمی گڈ گورننس کے طریقوں کے تبادلے کے نتیجے کے طور پر ابھرتے ہیں۔ ڈی اے آر پی جی بین الاقوامی سرکاری ملازمین کی صلاحیت  سازی  کے لیے آئی ٹی ای سی ممالک کے ساتھ تعاون کے لیے  امور خارجہ کی وزارت  کے ساتھ مل کر مزید کام کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی اے آر پی جی،  انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹو سائنسز کے ساتھ مل کر جدید ترین انتظامی اصلاحات کے لیے عالمی معیار کا مرکز قائم کرے گا۔

حالیہ ڈی اے آر پی جی – آئی آئی ٹی مدراس کانفرنس کا ذکر کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  ترقی پسندانہ   حکمرانی پالیسی  کے سخت ترین  کام ، جس کا سرکاری ملازمین کو اپنے کیریئر میں سامنا کرنا پڑے گا، پر مبنی دس موضوعاتی شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ توانائی اور نیٹ زیرو، تعلیم، صحت کی دیکھ بھال اور معاون ٹیکنالوجی، پانی، بنیادی ڈھانچہ اور مواصلات، نقل و حمل اور نقل و حرکت، شہری کاری اور ہاؤسنگ، دیہی ترقی اور زراعت، فنٹیک اور شمولیت، معلومات کی حفاظت اور دفاع۔ انہوں نے کہا، ڈی اے آر پی جی مزید تعلیمی اداروں اور اسٹارٹ اپس کو مدعو کرکے اس پہل سے وابستہ نوجوان سرکاری ملازمین کے دائرہ کار کو وسعت دے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ نوجوان آئی اے ایس افسران کی اکثریت گورننس پر وژن انڈیا @2047 کے مخصوص موضوعاتی شعبوں کا لازمی حصہ ہے اور ان  مشکل ترین پالیسی کوششوں کے بارے میں حساسیت پیدا کی جن کی ضرورت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ ہندوستان مستقبل کے عالمی طرز حکمرانی میں ایک اہم کردار ادا کرے۔

اپنے اختتامی کلمات میں، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 21ویں صدی کی عوامی شکایات کا ازالہ سنگل ونڈو ایجنسیوں پر مبنی ہوگا جس سے شہریوں کو بہتر خدمات حاصل کرنے کے لیے معلومات کے استعمال میں مدد ملے گی۔ وزیر موصوف نے مزید کہاکہ  زیر غور اقدامات میں شامل ہیں ۔ ون نیشن ون پورٹل، بہتر شہری رسائی کے لیے کثیر لسانی  سی پی جی آر اے ایم ایس ، شکایات کے ازالے کے معیار کی پیمائش کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس، فیڈ بیک کال سینٹرز اور سی پی جی آر اے ایم ایس پورٹل پر شہری نقلوں کی فراہمی۔  انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈی اے آر پی جی شہریوں کے چارٹر کو موثر بنانے، آئیڈیاز کے کراؤڈ سورسنگ، ہیکاتھون، تجزیہ اور شکایات والے علاقوں کی نشاندہی کے ذریعے حکومت میں شہریوں کی شرکت کو بڑھانے اور نگرانی اور جانچ پڑتال کو مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔

 

****************

(ش ح ۔س ب۔رض )

U NO: 3474


(ریلیز آئی ڈی: 1811303) وزیٹر کاؤنٹر : 171
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी