ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

گلاسگو کے سی او پی 26 کا ایجنڈا

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 24 MAR 2022 2:42PM by PIB Delhi

حکومت ہند نے  برطانیہ کے گلاسگو میں منعقد اقوام متحدہ فریم ورک کنونشن  برائے آب و ہوا میں تبدیلی ( یو این ایف سی سی سی ) کی کانفرنس آف دی پارٹیز کے 26 ویں اجلاس  سی او پی 26 میں ترقی پذیر  ملکوں  کی تشویش کو پیش کیا ہے ۔   اپنے مجموعی نقطہ نظر کے ایک حصے کے طور پر، ہندوستان  نے مساوات کے بنیادی اصولوں اور مشترکہ لیکن مختلف ذمہ داریوں اور متعلقہ صلاحیتوں پر اور عالمی آب و ہوا کی کارروائی میں ماحولیاتی انصاف پر زور دیا ۔  ہندوستان نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ تمام ممالک کو  ایک لا محدود عالمی  وسائل عالمی کاربن بجٹ  میں  برابر  کی رسائی حاصل ہونی چاہیئے  تاکہ  بڑھتے ہوئے درجۂ حرارت کو پیرس معاہدے میں مقرر کی گئی حدود کے اندر رکھا جا سکے ۔ تمام ملکوں کو  عالمی کاربن بجٹ کو ذمہ داری سے استعمال کرتے ہوئے اپنے منصفانہ حصے تک محدود رہنا چاہیئے ۔ ہندوستان نے ترقی یافتہ مملکوں  پر زور دیا کہ وہ موجودہ دہائی کے دوران اخراج میں تیزی سے کمی لائیں تاکہ وہ اعلان شدہ تاریخوں سے پہلے  ہی صفر  اخراج تک پہنچ سکیں کیونکہ انہوں نے  عالمی کاربن بجٹ  کو اپنے حصے سے زیادہ پہلے ہی استعمال کر لیا ہے ۔

ہندوستان نے اس بات  کو بھی اجاگر کیا کہ ترقی پذیر ملکوں کے لئے کلائمیٹ ایکشن کو نافذ کرنے کی خاطر کلائمیٹ فائنانس اور کم خرچ کلائمیٹ ٹیکنا لوجی کی منتقلی بہت اہم ہے ۔  کلائمیٹ فائنانس کے لئے ترقی یافتہ ملکوں کی ذمہ داری اُتنی ہی نہیں ہو سکتی ، جتنی کہ یہ 2015 ء میں پیرس معاہدے کے وقت تھی ۔ اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق  کمی کے لئے ، جس طرح یو این ایف سی سی سی پیش رفت پر نظر رکھتی ہے ، اُسے کلائمیٹ فائنانس پر بھی نظر رکھنی چاہیئے ۔  بھارت نے اپنے کلائمیٹ ایکشن میں مزید اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا ۔
          سی او پی 26 کے اہم فیصلوں کی عکاسی ’ گلاسگو کلائمیٹ پیک ‘ سے ہوتی ہے ، جس میں  پیرس معاہدے کے اہداف کو  حاصل کرنے  کی خاطر اخراج  میں کمی اور فائنانس کی ضرورت ہے ۔

یو این ایف سی سی  سی کی سالانہ کانفرنس آف دی پارٹیز کے تمام فیصلے اتفاق ِ رائے سے کئے گئے ہیں ۔  اس لئے   ، اس طرح کے کسی فیصلے کے ذریعے ہندوستان کو کوئی خاص ہدایت کا سوال نہیں اٹھتا ۔  ہندوستان اپنی طرف سے یو این ایف سی سی سی سے کئے گئے وعدوں کا پوری طرح پابند ہے ۔  بھارت نے  ، جس کی آبادی عالمی آبادی کا 17 فی صد سے زیادہ ہے ، 1850 ء اور 2019 ء کے درمیان  عالمی  گرین ہاؤس گیس کے مجموعی اخراج کا صرف 4.37 فی صد اخراج کا ذمہ دار ہے ۔ اگرچہ ہم مسئلے  میں شامل نہیں ہیں ، لیکن ہندوستان مسئلے کے حل  میں شریک رہنے کا پابند ہے اور اس نے اپنے منصفانہ حصے سے زیادہ کی کار کردگی کا مظاہرہ کیا ہے  ۔  بھارت کا معیشت میں اخراج کی  کمی کا وعدہ ، معیشت سے متعلق ہدف کے برابر ہے اور یہ ٹرانسپورٹ اور توانائی کے شعبوں سمیت  کسی سیکٹر کے لئے مخصوص نہیں ہے ۔

حکومت  آب و ہوا میں تبدیلی کا قومی ایکشن پلان ( این اے پی سی سی ) نافذ کر رہی ہے ، جو  پالیسی فریم ورک ہے اور شمسی توانائی ، توانائی کی صلاحیت میں اضافہ ، پانی ، زراعت، ہمالیائی ماحولیات ، پائیدار مسکن ، گرین انڈیا اور آب و ہوا میں تبدیلی سے متعلق  کلیدی علم پر  مشتمل ہے ۔  اس کے علاوہ ،  33 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے این اے پی سی سی کے مقاصد کی مناسبت سے آب و ہوا میں تبدیلی کے ریاستی ایکشن پلان ( ایس اے پی سی سی ) تیار کئے ہیں ۔

حکومت اپنے  مختلف پروگراموں اور اسکیموں کے ذریعے آب و ہوا میں تبدیلی سے نمٹنے کے لئے عہد بستہ ہے ۔ اس سلسلے میں بہت سی کوششیں کی جا رہی ہیں ، جن میں قابل تجدید توانائی کی منتقلی کو تیز کرنے کے اقدامات،  ٹرانسپورٹ کو کاربن سے پاک کرنا اور الیکٹرک موبیلٹی وغیرہ شامل ہیں ۔ حکومت نے ہندوستان کو گرین ہائیڈروجن کی پیداوار اور برآمد کا عالمی مرکز بنانے کے مقصد کے ساتھ نیشنل ہائیڈروجن مشن کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

حکومت نے آتم نربھر بھارت اسکیم کے تحت جدید کیمسٹری سیل اور آٹو موبائل اور آٹو پرزوں کی تیاری کے لئے پیداوار سے منسلک ترغیبی اسکیم کو نوٹیفائی کیا ہے ۔  ہندوستان نے یکم اپریل ، 2020 ء سے بھارت اسٹیج- iv ( بی ایس – IV ) سے بھارت اسٹیج – vi ( بی ایس – VI ) کے اخراج کے ضابطوں کو نافذ کیا ہے ، جنہیں 2024 ء سے پہلے اپنا لیا گیا ہے ۔  ہندوستان کی غیر معدنی وسائل سے بجلی  پیدا کرنے کی صلاحیت کی موجودہ حصہ داری 40 فی صد سے زیادہ ہے ۔  اُجالا اسکیم کے تحت 36.79 کروڑ ایل ای ڈی بلب تقسیم کئے گئے ہیں تاکہ توانائی کی صلاحیت کو بڑھایا جا سکے ۔ ہندوستان نے پرانی اور اَن فٹ موٹر گاڑیوں کو ختم کرنے کے لئے  موٹر گاڑیوں کی رضا کارانہ اسکریپنگ پالیسی کا اعلان کیا ہے ، جس سے کم ایندھن سے چلنے والی اور ماحول دوست موٹر گاڑیوں کی ہمت افزائی ہو گی ۔  بھارتی ریلوے نے مال برداری کی مخصوص راہداریوں کے قیام سمیت کئی اقدامات کئے ہیں ، ریلوے کی برق کاری ، توانائی میں سہولت اور قابلِ تجدید توانائی کے حصے میں اضافہ کیا گیا ہے ۔  بھارتی ریلوے نے 2030 ء تک خود کو ’ نیٹ زیرو ‘ بنانے کا ہدف رکھا ہے ۔

یہ معلومات آج ماحولیات ، جنگلات اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وزارت میں وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے راجیہ سبھا کو فراہم کی۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔

( ش ح ۔ و ا ۔ ع ا   ) 

U. No. 3145


(ریلیز آئی ڈی: 1809383) وزیٹر کاؤنٹر : 148
یہ ریلیز پڑھیں: English