امور داخلہ کی وزارت
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے نئی دہلی میں لینڈ پورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایل پی اے آئی) کے 10ویں یوم تاسیس کی تقریب سے مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
17 MAR 2022 7:00PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 17/مارچ 2022 ۔
وزارت داخلہ کی سبھی انڈر ٹیکنگ میں لینڈ پورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایل پی اے آئی) کی عمر سب سے کم ہے، لیکن 10 سال کی چھوٹی عمر کے باوجود اس اتھارٹی نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بہت بڑا سفر طے کیا ہے، جو صحیح معنوں میں قابل ستائش ہے
یہ سال ہماری آزادی کے امرت مہوتسو کا سال ہے، وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کے ہر خطے اور اکائی کو یہ طے کرنے کا کام دیا ہے کہ جب ہم آزادی کی صدی منائیں گے اس وقت وہ اکائی کہاں کھڑی ہوگی
وزیر اعظم نے 75 سال سے 100 سال کے اس سفر کو امرت کال کے طور پر ذکر کیا ہے، یہ 25 سال بھارت کو عظیم بنانے اور محنت کی انتہا کرنے کے 25 سال ہیں
ایل پی اے آئی کو بھی اپنے 25 سال کا خاکہ بنانا چاہئے کہ ان 25 برسوں میں لینڈ روٹوں سے اپنے پڑوسی ملکوں اور پڑوسی ملکوں سے آگے بھی ہماری تجارت کا کیا ہدف ہوگا
ہمیں سکیورٹی کے نقطہ نظر سے سبھی جدید ترین تکنیک کو اپناتے ہوئے ایک انتہائی ٹھوس سکیورٹی سائیکل بنانے کا ہدف بھی طے کرنا پڑے گا
ان اہداف کو حاصل کرنے کے لئے پانچ سال کے پانچ دورانیہ بنانا چاہئے اور ان میں ایک ایک سال کا بھی ہدف طے ہونا چاہئے اور اس کا سالانہ جائزہ بھی لیا جانا چاہئے، تبھی ہم اپنے اہداف کو حاصل کرپائیں گے
ہماری 15000 کلومیٹر کی زمینی سرحد ہے اور اس میں ہر 50 کلومیٹر پر الگ الگ چیلنج ہیں
شاید ہی کسی ملک کی زمینی سرحد اتنی چیلنجنگ ہوگی جتنی بھارت کی ہے اور شاید ہی کسی ملک میں زمینی سرحد اتنے مواقع رکھتی ہوگی جتنی بھارت کی زمینی سرحد کے ساتھ ہے
آج وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت خودکفیل بھارت بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، آنے والے 10 سالوں کے اندر دنیا کے سبھی پروڈکشن ہب میں بھارت اپنا اہم مقام بنالے گا، اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے
ہم بھارت کی مصنوعات کو باہر بھیجنے کے لئے ہماری زمینی سرحد سے متصل آس پاس کے 7 ملکوں سے تجارت کے لئے سہولت پیدا کریں گے
اگر ہم پورے ملک کے جغرافیہ اور تاریخ کا باریکی سے مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ دنیا بھر میں بھارت واحد ایسا ملک ہے جو جیو- کلچرل ملک ہے
دنیا کے بہت سارے ملک جیو- پولیٹکل ممالک ہیں، جبکہ پوری دنیا میں بھارت ہی واحد ایسا ملک ہے جسے ہم خالصتاً جیو- کلچرل ملک مانتے ہیں
متعدد زبانوں، متعدد ثقافت، خود و نوش اور پوشاک کے تنوع کے باوجود ہم مشترکہ تہذیب سےجڑکر ایک ملک بنے ہیں
اگر ہم اس سفر کا توجہ کے ساتھ مطالعہ کریں تو اس میں زمینی راستوں کی بہت بڑی اہمیت ہے، کیونکہ ان راستوں کے ذریعے ہی پورے ایشیا میں کوئی نہ کوئی ہماری بھارتی تہذیب کا جھنڈا لے کر گیا ہے اور اسے وہاں پھیلانے کا کام کیا ہے
ان زمینی راستوں نے ماضی بعید سے ہی پورے خطے کے اندر بھارت کو ایک طرح سے تجارتی غلبہ دینے کا کام کیا ہے اور ان زمینی راستوں کے ذریعہ ہی متعدد ملکوں کے سیاح بھارت آئے اور انھوں نے دنیا بھر میں ہمارا پرچم بلند کیا
آزادی کے بعد ان زمینی راستوں پر ہماری جتنی توجہ ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں رہی، جب اس پر توجہ دی گئی تب سے اتھارٹی نے گزشتہ 10 سال میں 75 سال کی کمی پوری کرکے ایک بہت بڑا سفر طے کیا ہے
ایل پی اے آئی سکیورٹی کے ساتھ سمجھوتہ کئے بغیر ہمارے معاشی نظام کو رفتار دینے اور پڑوسی ملکوں میں تجارت کو بڑھانے کا اہم کام کرتی ہے
اتھارٹی ثقافتی لین دین اور سرحد کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کو، جن کا لباس، بولی اور ثقافت ایک طرح کی ہے، ان کے درمیان بات چیت کرکے دو ملکوں کے درمیان تعلقات کو ترو تازہ اور مضبوط بنانے کا کام بھی کررہی ہے
تیسرے نقطہ نظر سے دیکھیں تو اتھارٹی دو ملکوں کے عوام کے درمیان بات چیت کا ذریعہ بھی ہے
اتھارٹی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سبھی ضابطوں اور قوانین پر عمل کرتے ہوئے تجارت میں اضافہ، ہزاروں برسوں سے ہورہے ثقافتی لین دین کو مزید تیز، مضبوط اور بامعنی بنانے، نیز عوام کے درمیان بات چیت کے ذریعے سیاست اور ڈپلومیسی سے اٹھ کر دو ملکوں کے درمیان کی بانڈنگ کو مضبوط کرنے کا کام کرے
ہماری 15000 کلومیٹر کی زمینی سرحد ہے اور سکیورٹی کے نقطہ نظر سے چوکسی رکھنے کی ضرورت بھی ہے
اتھارٹی کے لئے پڑوسی ممالک سے تجارت، تعلقات میں بہتری اور ثقافت کی نشر و اشاعت کے لئے بہت بڑا امکان موجود ہے اور ہمیں اس اسپرٹ کے ساتھ کام کرنا ہوگا
اتھارٹی نے 10 سال کی کم مدت کے اندر اپنی افادیت اور معنویت دونوں کو ثابت کیا ہے
جب تجارتی راہداری بنتی ہے تب تجارت اپنی فطرت اور بہاؤ بدلتی ہے اور یہ تجارتی راہداری کی ذمے داری ہے کہ وہ پڑوسی ملک کے تجارتی بہاؤ اور فطرت دونوں کو تبدیل کرے
چھ سو سال کے معاشی نظام کا مطالعہ کریں تو کئی ایسے روٹ ملیں گے جنھوں نے پوری دنیا کے ساتھ تجارت کرنے والے کئی ملکوں کو دنیا کی معیشت میں تعاون کے نقطہ نظر سے بہت اہم مقام دیا
ہمیں اس طرح کی تجارتی راہداری کے توسط سے تجارتی راہداری کی روایت کو مضبوط کرنا پڑے گا، مگر اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ اتھارٹی کی بات چیت اور مستقل میٹنگیں بھی بہت ضروری ہیں
اسی راستے سے کوئی ہماری سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے، اس لئے الگ الگ سرحد پر تعینات سی اے پی ایف اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ اتھارٹی کی بات چیت بھی بہت ضروری ہے
سرحدی علاقوں میں عوام سے عوام کا جڑاؤ ایک بہت بڑے خطرے کو ٹالنے کا ذریعہ بن سکتا ہے
کوئی بھی ملک عوامی جذبات سے دور جاکر دوسرے ملک سے رشتوں کی نوعیت نہیں بدل سکتا، کیونکہ عوامی امنگوں میں بڑی طاقت ہوتی ہے، لہٰذا اگر عوام سے عوام کا رشتہ مضبوط کرنا ہے تو اتھارٹی کو اسے بھی ایک الگ نقطہ نظر سے دیکھنا پڑے گا
آج اٹاری بارڈر گارڈنگ فورس کی رہائش گاہوں کا افتتاح بھی کیا گیا ہے، تقریباً سبھی جگہوں پر اس طرح کا نظام بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے
آج جن جدید ترین رہائشی مقامات کا افتتاح ہوا ہے ان کا چار سال پہلے ہی بھومی پوجن ہوا تھا اور آج یہ کام پابندی وقت کے ساتھ پورا ہوا ہے
ایک زمانہ تھا جب نو بارڈر انفرااسٹرکچر، نو کنیکٹیوٹی، نو ٹریڈ اور ایک طرح سے سبھی چیزیں رکی ہوئی تھیں، مگر آج سبھی چیزوں میں تیزی ہے
گتی شکتی کے توسط سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی پورے ملک کے ہر خطے میں ٹرانسپورٹ نظام کو آگے بڑھانے کے لئے پابند عہد ہیں اور اس میں اتھارٹی کی ذمے داری اور بڑھ جاتی ہے
سرحدی چوکیوں پر ناقص بنیادی ڈھانچہ علاقائی تجارت کو بڑھانے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی اور ہم بہت اچھے طریقے سے اس میں بہتری لائیں گے اور اس کی رفتار کو مزید تیز کریں گے
ہماری سرحدی سکیورٹی اور سرحدی بندوبست کی پالیسی بھی بہت واضح ہے، ملک کو سرحدوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے مضبوط بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کرنا، سرحدی علاقوں سے نقل مکانی کو روکنے کے لئے فلاحی اسکیموں کو 100 فیصد نافذ کرنا، وہاں اچھی کنیکٹیوٹی دستیاب کرانا، زمینی سرحد کے توسط سے تجارت کو فروغ دے کر نقل مکانی کو روکنا اور عوام سے عوام کے رابطے کو مضبوط کرنا
اگر ہم ان پانچ نکات کو اچھی طرح عمل میں لاتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہم سرحدوں کے بندوبست، سرحدوں کی سکیورٹی اور سرحدوں کے استعمال، تینوں جہتوں میں بہت اچھا کام کرپائیں گے
لینڈ پورٹس اتھارٹی کی بہت ساری حصول یابیاں ہیں لیکن کرتارپور صاحب کوریڈور سے اس میں دنیا بھر کے ہندو اور سکھ عقیدت مندوں میں جو ملک کے لئے اچھے جذبات پیدا کئے ہیں، اس کے لئے میں آج اتھارٹی کے سبھی ملازمین کو بہت بہت مبارک باد دینا چاہتا ہوں
جب ملک کی تقسیم ہوئی تب ایک غلطی ہوگئی، کرتارپور صاحب 6 کلومیٹر ہی دور تھا، کیوں ہم چوک گئے، مجھے معلوم نہیں لیکن ہمیشہ ایک کسک ہوتی تھی جب پہلے گرو کا کوئی بھی پرو آتا تھا تب سب کو ایک کسک سی ہوتی تھی
آج کرتارپور صاحب کوریڈور نے سب کو جانے کا راستہ اور اپنی عقیدت کو مضبوط کرنے کا ایک مضبوط ذریعہ دیا ہے، آج دنیا بھر کے لوگ چاہے سکھ ہوں یا ہندو سب کے من میں اتھارٹی نے اپنی عقیدت کے اظہار کا ایک مضبوط وسیلہ دیا ہے
آنے والے دنوں میں ریل کنیکٹیوٹی، ندیوں اور زمینی راستے سے تجارت بڑھنے والی ہے، ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اتھارٹی کو اپنا کارروائی منصوبہ بھی بنانا پڑے گا
اگر ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ چست درست کردیں تو کتنا بھی بوجھ پڑے، تجارت اور آمد و رفت کتنی بھی بڑھے وہ اپنے آپ سانچے میں ڈھلتی جائے گی
اس کے لئے وزارت داخلہ سے اس مدد کی ضرورت ہے، وزارت داخلہ اس معاملے میں یقیناً آپ کے ساتھ ہے، کیونکہ زمینی راستے نے ہی اس ملک کو کبھی دنیا میں عظیم بنایا تھا اور حکومت کا ماننا ہے کہ یہ راستہ کبھی بھی بند نہیں ہونا چاہئے
امور داخلہ اور امداد باہمی کے مرکزی وزیر جناب امت شاہ نے آج نئی دہلی میں لینڈ پورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایل پی اے آئی) کے 10ویں یوم تاسیس کی تقریب سے مہمان خصوصی کے طور پر خطاب کیا۔ اس موقع پر جناب امت شاہ نے اتھارٹی کی میگزین بھومی پورٹ اینڈ بارڈر اکانومی کا اجرا اور بہترین خدمات کے لئے لینڈ پورٹس اتھارٹی کے ملازمین کی عزت افزائی کی۔ تقریب میں امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب نتیانند رائے، داخلہ سکریٹری، بارڈر مینجمنٹ سکریٹری اور ایل پی اے آئی کے چیئرمین سمیت متعدد معززین بھی موجود تھے۔
اپنی تقریر میں امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ وزارت داخلہ کی سبھی انڈر ٹیکنگ میں ایل پی اے آئی کی عمر سب سے کم ہے، لیکن 10 سال کے مختصر عرصے کے باوجود اس اتھارٹی نے اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بہت بڑا سفر طے کیا ہے، جو کئی معنوں میں انتہائی قابل ستائش ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم پورے ملک کے جغرافیہ اور تاریخ کا باریکی سے مطالعہ کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ دنیا بھر میں بھارت واحد ایسا ملک ہے جو جیو- کلچرل ملک ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ دنیا کے بہت سارے ملک جیو- پولیٹکل ہیں، جبکہ پوری دنیا میں بھارت ہی ایسا واحد ملک ہے جسے ہم خالصتاً جیو- کلچرل ملک مانتے ہیں۔ متعدد زبانوں، متعدد ثقافتوں، خورد و نوش اور لباس میں تنوع کے باوجود ہم ایک مشترکہ ثقافت سے جڑکر ایک ملک بنے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ہم اس سفر کا توجہ کے ساتھ مطالعہ کریں تو اس میں زمینی راستوں کی بہت بڑی اہمیت ہے، کیونکہ ان راستوں کے توسط سے ہی پورے ایشیا میں کوئی نہ کوئی ہماری بھارتی ثقافت کا پرچم لے کر گیا اور اسے وہاں پھیلانے کا کام کیا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ ان زمینی راستوں نے زمانہ قدیم سے ہی پورے خطے کے اندر بھارت کو ایک طرح سے تجارتی غلبہ دلانے کا کام کیا ہے اور ان زمینی راستوں کے توسط سے ہی متعدد ملکوں کے سیاح بھارت آئے اور انھوں نے یہاں سے علم حاصل کرکے دنیا بھر میں ہمارا پرچم بلند کیا۔ انھوں نے کہا کہ آزادی کے بعد ان زمینی راستوں پر ہماری جتنی توجہ ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں رہی اور جب اس پر توجہ گئی تب سے اتھارٹی نے گزشتہ دس برسوں میں 75 سال کی کمی پوری کرکے ایک بہت بڑا سفر طے کیا ہےاور اس کے لئے یہ قابل مبارک باد ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ اتھارٹی ویزا، تجارتی بل اور کاغذات چیک کرتی ہے، قانون کا ریگولیشن کرتی ہے اور تجارت اور آمد و رفت کا ایک قانونی وسیلہ ہے، لیکن اگر توجہ سے دیکھیں تو اتھارٹی سکیورٹی کے ساتھ کسی طرح کا سمجھوتہ کئے بغیر ہماری معیشت کو رفتار دینے اور پڑوسی ملکوں میں تجارت کو بڑھانے کا اہم کام بھی کرتی ہے۔ ساتھ ہی یہ اتھارٹی ثقافتی لین دین اور سرحد کے دونوں جانب رہنے والے لوگوں کو ان کا لباس، بولی اور ثقافت ایک سا ہے، ان کے درمیان بات چیت کا رشتہ استوار کرکے دو ملکوں کے درمیان تعلقات کو تروتازہ اور مضبوط بنانے کا کام بھی کررہی ہے اور تیسرے نقطہ سے دیکھیں تو دو ملکوں کے عوام کے درمیان بات چیت کا ذریعہ بھی یہ اتھارٹی ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ اتھارٹی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ سبھی ضابطوں اور قوانین پر عمل کرتے ہوئے تجارت میں اضافہ، ہزاروں سال سے ہورہے ثقافتی لین دین کو اور تیز، مضبوط اور بامعنی بنانے نیز عوام کے درمیان بات چیت کے ذریعے سیاست اور ڈپلومیسی سے اٹھ کر دو ملکوں کے درمیان کی بانڈنگ کو مضبوط کرنے کا کام کرے۔
امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ ہماری 15000 کلومیٹر کی زمینی سرحد ہے اور سکیورٹی کے نقطہ نظر سے چوکسی رکھنے کی ضرورت بھی ہے۔ ان سب کے درمیان توازن برقرار برقرار رکھتے ہوئے کام کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ مجھے پورا بھروسہ ہے کہ اگر اس کو ہم ڈھنگ سے کریں گے تو اتھارٹی کے لئے پڑوسی ملکوں سے تجارت، تعلقات میں بہتری اور ثقافت کی نشر و اشاعت کے لئے بہت بڑے امکانات موجود ہیں اور ہمیں اسی جذبے کے ساتھ کام کرناہوگا۔ جناب شاہ نے کہا کہ اتھارٹی نے 10 کی مختصر مدت کے اندر اپنی افادیت اور معنویت دونوں ثابت کی ہے۔ بنگلہ دیش کے ساتھ ہماری تجارتی راہداری بڑی مضبوطی کے ساتھ ایک شکل لیتی جارہی ہے اور جب تجارتی راہداری بنتی ہے تب تجارت اپنی فطرت اور بہاؤ بدلتی ہے اور یہ تجارتی راہداری کی ذمے داری ہے کہ وہ پڑوسی ملک کی تجارت کے بہاؤ اور فطرت دونوں کو بدلے۔ جناب شاہ نے کہا کہ 600 سال کے معاشی نظام کا مطالعہ کریں تو کئی ایسے روٹ ملیں گے جنھوں نے پوری دنیا کے ساتھ تجارت کرنے والے کئی ملکوں کے معاشی نظام میں تعاون کے نقطہ نظر سے بہت اہم مقام حاصل کیا۔ ہمیں اس طرح کے تجارتی راہداری کے توسط سے تجارتی راہداری کی روایت کو بھی مضبوط کرنا پڑے گا، مگر اس کے ساتھ ساتھ سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ اتھارٹی کی بات چیت اور مستقل میٹنگیں بھی بہت ضروری ہیں، کیونکہ اسی راستے کوئی ہماری سکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس لئے الگ الگ سرحد پر تعینات سی اے پی ایف اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ اتھارٹی کی بات چیت بھی بہت ضروری ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں عوام سے عوام کا جڑاؤ ایک بہت بڑے خطرے کو ٹالنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کوئی بھی ملک عوامی امنگوں سے دور جاکر دوسرے ملک کے رشتوں کی نوعیت نہیں بدل سکتا، کیونکہ عوامی امنگوں میں بہت طاقت ہوتی ہے، لہٰذا اگر عوام سے عوام کا رشتہ مضبوط کرنا ہے تو اتھارٹی کو اسے بھی ایک الگ نقطہ نظر سے دیکھنا پڑے گا۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ یہ سال ہماری آزادی کے امرت مہوتسو کا سال ہے۔ آزادی کے 75 سال ہوگئے ہیں اور وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے ملک کے ہر خطے، ہر اکائی کو یہ ہدف طے کرنے کا کام دیا ہے کہ جب ہم آزادی کی صدی منائیں گے اس وقت وہ اکائی کہاں کھڑی ہوگی۔ وزیر اعظم نے 75 سال سے 100 سال کے اس سفر کو امرت کال کے طور پر بیان کیا ہے۔ یہ 25 سال بھارت کو عظیم بنانے اور محنت کی انتہا کرنے کے 25 سال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ لینڈ پورٹس اتھارٹی کو بھی اپنے 25 سال کا خاکہ بنانا چاہئے کہ ان 25 برسوں میں زمینی راستوں سے اپنے پڑوسی ملکوں اور پڑوسی ملکوں سے آگے بھی ہماری تجارت کا کیا ہدف ہوگا۔ ساتھ ہی ہمیں سکیورٹی کے نقطہ نظر سے سبھی جدید ترین تکنیک کو اپناتے ہوئے ایک انتہائی ٹھوس سکیورٹی سائیکل بنانے کا ہدف بھی طے کرنا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ ان اہداف کے حصول کے لئے پانچ پانچ سال کے پانچ دورانیے بنانے چاہئیں اور ان کا ایک ایک سال کا بھی ہدف طے ہونا چاہئے اور سالانہ اس کا تجزیہ بھی ہونا چاہئے۔ ان کا مسلسل جائزہ لیا جائے اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کی تکمیل کی جائے، تبھی ہم اپنے اہداف حاصل کرپائیں گے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج اٹاری بارڈر گارڈنگ فورس کی رہائش گاہوں کا افتتاح بھی کیا گیا ہے اور تقریباً سبھی جگہوں پر اس طرح کا نظام بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی ہورہی ہے کہ آج جن جدید ترین رہائش گاہوں کی نقاب کشائی ہوئی ہے ان کا چار سال پہلے ہی بھومی پوجن ہوا تھا اور آج یہ کام پابندی وقت کے ساتھ مکمل ہوا ہے۔ جناب شاہ نے کہا کہ ہماری 15000 کلومیٹر کی زمینی سرحد ہے اور اس میں ہر 50 کلومیٹر پر الگ الگ چیلنج ہیں۔ شاید ہی کسی ملک کی زمینی سرحد اتنی چیلنجنگ ہو جتنی بھارت کی ہے اور شاید ہی کسی ملک میں زمینی سرحد اتنے مواقع رکھتی ہوگی جتنی بھارت کی زمینی سرحد کے پاس ہے، کیونکہ آج وزیر اعظم مودی کی قیادت میں بھارت خودکفیل بھارت بننے کی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ آنے والے دس برسوں کے اندر دنیا کے سبھی پیداواری مراکز والے ملکوں میں بھارت اپنی اہم جگہ بنالے گا، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔ ہم بھارت کی پیداوار کو باہر بھیجنے کے لئے ہماری زمینی سرحد سے متصل قرب و جوار کے سات ملکوں سے تجارت کے لئے سہولیات پیدا کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب نو بارڈر انفرااسٹرکچر، نو کنیکٹیوٹی، نو ٹریڈ اور ایک طرح سے سبھی چیزیں رکی ہوئی تھیں، مگر آج سبھی چیزوں میں تیزی ہے۔ گتی شکتی کے توسط سے وزیر اعظم جناب نریندر مودی پورے ملک کے ہر خطے میں ٹرانسپورٹ نظام کو آگے بڑھانے کے تئیں پابند عہد ہیں اور اس میں اتھارٹی کی ذمے داری اور بڑھ جاتی ہے۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ سرحدی چوکیوں پر ناقص بنیادی ڈھانچہ علاقائی تجارت کو بڑھانے میں ایک بہت بڑی رکاوٹ تھا اور ہم بہت اچھے طریقے سے اس میں بہتری لاسکتے ہیں اور اس کی رفتار کو مزید تیز کرسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری سرحدی سکیورٹی اور سرحدی بندوبست کی پالیسی بہت ہی واضح ہے۔ ملک کو سرحدوں کے ساتھ جوڑتے ہوئے مضبوط بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سرحدی علاقہ سے نقل مکانی روکنے کے لئے فلاحی منصوبوں کا 100 فیصد نفاذ، وہاں اچھی کنیکٹیوٹی کی سہولت دستیاب کرانا، زمینی سرحد کے توسط سے تجارت کو فروغ دے کر نقل مکانی کو روکنا اور عوام سے عوام کے رشتے کو مضبوط کرنا، جیسے کام کرنے ہیں۔ اگر ہم ان پانچ نکات کی تکمیل اچھی طرح سے کرلیتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہم سرحدوں کے بندوبست، سرحدوں کی سکیورٹی اور سرحدوں کے استعمال، تینوں جہتوں میں بہت اچھا کام کرپائیں گے۔ یہاں پر انفرااسٹرکچر، اچھی کنیکٹیوٹی، تجارت کو فروغ دینے اور عوام سے عوام کے رابطے، ان چاروں معاملے میں اتھارٹی کافی کچھ کرسکتی ہے۔
امور داخلہ و امداد باہمی کے مرکزی وزیر نے کہا کہ لینڈ پورٹس اتھارٹی کی بہت ساری حصول یابیاں ہیں، تاہم کرتارپور صاحب کوریڈور نے دنیا بھر کے ہندو اور سکھ عقیدت مندوں میں ملک کے تئیں جو اچھے جذبات پیدا کئے ہیں اس کے لئے میں آج اتھارٹی کے سبھی ملازمین کو بہت بہت مبارکباد دینا چاہتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک کی تقسیم ہوئی تب ایک غلطی ہوگئی۔ کرتارپور صاحب 6 کلومیٹر ہی دور تھا، کیوں ہم چوک گئے، مجھے معلوم نہیں، لیکن ہمیشہ ایک کسک پیدا ہوتی تھی، پہلے جب گرو کا کوئی بھی پرو آتا تھا تب ایک کسک ہوتی تھی۔ آج جب کرتارپور صاحب کوریڈور نے سب کو جانے کا راستہ دیا ہے اور اپنی عقیدت کو مضبوط کرنے کا ایک ذریعہ فراہم کیا ہے۔ آج دنیا بھر کے لوگ چاہے سکھ ہوں یا ہندو، سب کے من میں اتھارٹی نے اپنی عقیدت کے اظہار کا ایک مضبوط ذریعہ فراہم کیا ہے۔ سبھی لوگ دل کی گہرائیوں سے ستائش کرتے ہیں۔
جناب امت شاہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں ریل کنیکٹیوٹی، ندیوں اور زمینی راستے سے تجارت بڑھنے والی ہے اور ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے اتھارٹی کو اپنا کارروائی منصوبہ بھی بنانا پڑے گا۔ انھوں نے کہا کہ افرادی قوت میں اضافہ کرنا واحد راستہ نہیں ہے، حالانکہ کچھ حد تک یہ ضروری ہے، تاہم ہمیں ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ کے استعمال سے اتھارٹی کو مضبوط کرنے کا کام کرنا ہوگا۔ اگر ٹیکنالوجی اور مینجمنٹ چست درست کردیں تو کتنا بھی بوجھ پڑے، تجارت اور آمد و رفت کتنی بھی بڑھے، وہ اپنے آپ سانچے میں ڈھلتی چلی جائے گی۔ اگر ٹیکنالوجی کو اپ گریڈ نہیں کرتے ہیں اور افرادی قوت کا بندوبست نہیں کرتے ہیں تو ہمارے سامنے بدنظمی پیدا ہونے کا چیلنج آجائے گا۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ اس کے لئے وزارت داخلہ سے جس طرح کی مدد کی ضرورت ہوگی اس کے لئے وزارت داخلہ یقیناً آپ کے ساتھ ہے، کیونکہ زمینی راستے نے ہی اس ملک کو کبھی دنیا میں عظیم بنایا تھا اور حکومت کا ماننا ہے کہ راستہ کبھی بھی بند نہیں ہونا چاہئے۔
*****
ش ح۔ م م۔ م ر
U-NO. 2817
(ریلیز آئی ڈی: 1807213)
وزیٹر کاؤنٹر : 172