ارضیاتی سائنس کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج نئی دلّی میں ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی جاری کی

ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی،ملک کو ایک ایسے مستقبل کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی جہاں ماحولیاتی تبدیلی جیسے انسانیت کے سب سے بڑے چیلنجز کو اجتماعی  ارادے اور کاوشوں کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے

ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی کو نافذ کرنے میں، اکیڈمیاں، تحقیقاتی کمیونٹی، کاروبار اورصنعت سمیت متعدد شراکت دار شامل ہوں گے

قطب شمالی کے  خطے کے ساتھ ہندوستان کی مصروفیت مسلسل اور کثیر جہتی  رہی ہے اور اس کا خیال ہے کہ تمام انسانی سرگرمیاں پائیدار، ذمے دار، شفاف اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر  مبنی ہونی چاہئیں

Posted On: 17 MAR 2022 5:53PM by PIB Delhi

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ، سائنس اور ٹیکنالوجی، آراضی سائنسز، پی ایم او، پرسنل، عوامی شکایات، پنشن، ایٹمی توانائی اور خلاء کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ’انڈیا اینڈ دی آرٹکس: پائیدار ترقی کے لیے شراکت داری کی تعمیر‘ کے عنوان سے ہندوستان کی قطب شمالی  سے متعلق پالیسی کو  آج نئی دلّی میں آراضی سائنسز کے ہیڈ کوارٹر سے جاری کیا۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001L9JK.jpg

ہندوستان کی قطب شمالی  کی پالیسی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ  وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں،  ہندوستان قطب شمالی کے مختلف پہلوؤں پر کام کرنے والے ممالک اشرافیہ کے گروپ میں شامل ہونے کے لیے  فخر کے ساتھ آگے بڑھا ہے۔

قطب شمالی کے مطالعے میں ہندوستانی سائنسدانوں کی تعریف کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ  ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی، ملک کو ایک ایسے مستقبل کے لیے تیار کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی جہاں ماحولیاتی تبدیلی جیسے انسانیت کے سب سے بڑے چیلنجوں کو اجتماعی ارادے اور کاوشوں کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے۔ ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی کو ایک ایکشن پلان کے ذریعے نافذ کیا جائے گا اور اس میں ایک موثر حکمرانی اور جائزہ کا طریقہ کار ہوگا جس میں  بین وزارتی، بااختیار شطب شمالی کی پالیسی  کا گروپ شامل ہے۔ ہندوستان قطب شمالی کی پالیسی کو نافذ کرنے میں اکیڈمیاں، تحقیقاتی برادری، کاروبار اور صنعت سمیت متعدد شراکت دار شامل ہوں گے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0021FP6.jpg

وزیر موصوف نے واضح کیا کہ قطب شمالی کے ساتھ ہندوستان کی مصروفیت ایک صدی پرانی ہے جب فروری 1920 میں پیرس میں ’سوالبارڈ معاہدہ‘ پر دستخط ہوئے تھے اور آج ہندوستان  قطب شمالی کے خطے میں بہت سی سائنسی معالعات اور تحقیقات کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندوستان کے محققین قطب شمالی کے گلیشئرس کو ان کے وسیع پیمانے پر توازن کے لیے  نگرانی کر رہے ہیں اور ان کا ہمالیہ کے علاقے میں موجود گلیشئرس سے موازنہ کر رہے ہیں۔ ہندوستان  قطب شمالی ، سمندری سائنس، ماحول، آلودگی اور مائیکروبایولوجی سے متعلق مطالعات میں بھی سرگرم عمل رہا ہے۔پچیس سے زیادہ ادارے اور یونیورسٹیاں جس وقت ہندوستان میں قطب شمالی کی تحقیق میں شامل ہیں۔ 2007 سے اب تک  قطب شمالی کے مسائل پر  ایک سو کے قریب ہم مرتبہ نظر ثانی شدہ  مقالے  شائع ہوچکے ہیں۔ قطب شمالی کونسل میں  13 ممالک مبصر ہیں جن میں فرانس ، جرمنی، اطالوی جمہوریہ، جاپان،  ہالینڈ، عوامی جمہوریہ چین، پولینڈ، ہندوستان، جمہوری کوریا، اسپین، سوئیزرلینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔ ہندوستان نے 2022 تک قطب شمالی میں 13 مہمیں کامیابی کے ساتھ انجام دی ہیں۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003BYXA.jpg

’انڈیا اینڈ دی آرٹکس: پائیدار ترقی کے لیے شراکت داری کی تعمیر‘ کے عنوان سے  ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی  سے چھ اہم ستونوں کا احاطہ  کرتی ہے۔ ہندستان کی سائنٹفک تحقیق اور تعاون کو مستحکم کرنا : آب وہوا اور ماحولیاتی تحفظ،  اقتصادی ا ور انسانی ترقی، نقل وحمل اور کنیکٹی ویٹی، حکمرانی اور بین الاقوامی تعاون اور قومی قطب شمالی کے علاقے میں صلاحیت سازی  کے لیے  ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی کو  نافذ کرنے میں متعدد شراکت دار شامل ہوں گے جن میں اکیڈمیاں، تحقیقی برادری، کاروبار اور صنعت شامل ہے۔

قطب شمالی میں ہندوستان کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ  قطب شمالی کونسل میں مبصرکا درجہ ررکھنے والے 13 ممالک میں ایک ہے۔ یہ ایک اعلیٰ سطحی بین حکومتی فارم ہےجو قطب شمالی حکومتوں اور قطب شمالی کے مقامی لوگوں کو درپیش مسائل کو حل کرتا ہے۔ قطب شمالی خطے کے ساتھ ہندوستان کی مصروفیت مستقل اور کثیر جہتی رہی ہے۔ ہندوستان کا موقف ہے کہ  تمام انسانی سرگرمیاں پائیدار، ذمے دارانہ، شفاف اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر  مبنی ہونی چاہئے۔

ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی کا مقصد درج ذیل دیئے گئے ایجنڈے کو فروغ دینا ہے –

  1. سائنس اور تحقیق، آب وہوا اور ماحولیاتی تحفظ،  بحری اور قطب شمالی خطے کے ساتھ اقتصادی تعاون میں قومی صلاحیتوں اور اہلیت کو مستحکم کرنا۔ حکومتی اور تعلیمی ، تحقیقی اور کاروباری اداروں کے اندر ادارہ جاتی اور انسانی وسائل کی صلاحیتوں کومستحکم کیا جائے گا۔
  2. قطب شمالی میں ہندوستانی مفادات کے حصول میں بین وزارتی رابطہ کاری۔
  3. قطب شمالی میں آب وہوا کی تبدیلی کے ہندوستان کی آب وہوا، اقتصادی اور توانائی کی سلامتی پر  پڑنے والے اثرات کی سمجھ میں اضافہ کرنا۔
  4. عالمی جہاز رانی کے راستوں، توانائی کی حفاظت اور معدنیاتی دولت کے استحصال سے متعلق ہندوستان کے اقتصادی ، فوجی  اور تزمیراتی مفادات پر قطب شمالی میں برف پگھلنے کے مضمرات سے متعلق بہتر تجزیہ ، پیشین گوئی اور مربوط پالیسی سازی میں تعاون کرنا۔
  5. قطبی خطوں اور ہمالیہ کے درمیان روابط کا مطالعہ کرنا۔
  6. سائنسی اور روایتی علوم سے مہارت حاصل کرتے ہوئے مختلف قطب شمالی فورمز کے تحت ہندوستان اور  قطب شمالی خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو گہرا کرنا۔
  7. قطب شمالی کونسل میں ہندوستان کی شرکت میں اضافہ کرنا اور قطب شمالی میں پیچیدہ حکمرانی کے ڈھانچے، متعلقہ بین الاقوامی قوانین اور خطے کی جغرافیائی سیاست کی سمجھ کو  بہتر بنانا۔

ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی کو نافذ کرنے میں  متعدد شراکت دار شامل ہوں گے، جن میں اکیڈمیاں، تحقیقی برادری، کاروبار اور صنعت شامل ہیں۔ یہ ٹائم لائنز کا تعین کرے گی، سرگرمیوں کو ترجیح دے گی اور مطلوبہ وسائل مختص کرے گی۔آراضی سائنسز کی وزارت کے تحت  گوا میں قائم ایک خود مختار ادارہ  قومی مرکز برائے پولر اور سمندری تحقیق (این سی پی او آر)، ہندوستان کے پولر ریسرچ پروگرام کے لیے نوڈل  ادارہ ہے جس میں قطب شمالی  اسٹڈیز شامل ہیں۔

ہندوستان کی قطب شمالی کی پالیسی، حکومت ہند کی آراضی سائنسز کی وزارت کی ویب سائٹ  (https://www.moes.gov.in) پر دستیاب ہے۔

*****

U.No.2798

(ش ح - اع - ر ا)   

 



(Release ID: 1807031) Visitor Counter : 74


Read this release in: English , Hindi , Tamil