صحت اور خاندانی بہبود کی وزارت
ملاوٹی غذائی اشیاء فروخت کرنے والی کمپنیوں کے خلاف ایف ایس ایس اے آئی کی کارروائی
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
15 MAR 2022 5:01PM by PIB Delhi
نئی دہلی:15؍مارچ2022:
غذائی تحفظ اور معیار ایکٹ 2006 کی دفعہ 38، ذیلی دفعہ (3)میں التزام ہے ، جہاں کوئی نمونہ لیا جاتا ہے، اس کی لاگت کا شمار اُس شرح پر کیا جاتا ہے، جس پر عام طورپر اشیاء کو عوام کے ہاتھوں فروخت کیا جاتا ہے۔چنانچہ غذائی تحفظاتی افسران نفاذ اور نگرانی سرگرمیوں کے لئے غذائی نمونے اٹھاتے وقت درحقیقت اسے غذائی اشیاء کا کاروبار کرنے والوں سے خریدتے ہیں، جو کسی بھی غذائی مصنوعات سے متعلق سرگرمیوں ، جیسے تیاری، تھوک فروخت، خوردہ فروخت وغیرہ میں لگے ہوتے ہیں۔
کسی مخصوص مالی سال میں کی گئی کارروائی کے نتائج ایف ایس ایس اے آئی کی سالانہ رپورٹ میں دکھائے جاتے ہیں، جسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں رکھے جانے کے بعد عوام کی عام معلومات کے لئے ایف ایس ایس اے آئی کی ویب سائٹ پر پبلک ڈومین میں رکھا جاتا ہے۔
غذائی تحفظ اور معیار ایکٹ 2006 کے التزامات کا نفاذ اور عمل خاص طور سے ریاست ؍ مرکز کے زیر انتظام خطے کی سرکاروں کے ماتحت ہے۔ ریاست؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے غذائی تحفظ سے متعلق افسران کے ذریعے شہد سمیت مختلف غذائی اشیاء کی مستقل نگرانی ، تجربہ اور نمونہ کاری کی جاتی ہے اور جہاں نمونے معیار کے بر خلاف پائے جاتے ہیں، غذائی تحفظ اور معیار ایکٹ کی دفعات کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ گمران کن اشتہارات؍دعوے کے لئے بھی ایف ایس ایس ا یکٹ کے التزامات کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔
یہ معلومات آج راجیہ سبھا میں صحت و خاندانی بہبود کے وزیر مملکت ڈاکر بھارتی پروین پوار نے ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔
************
ش ح۔ج ق۔ن ع
(U: 2671)
(ریلیز آئی ڈی: 1806380)
وزیٹر کاؤنٹر : 176