ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت
جنگلات کا بچاؤ، تحفظ اور بندوبست
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
14 MAR 2022 4:03PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 14/مارچ 2022 ۔ ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت کا ماتحت ادارہ فاریسٹ سروے آف انڈیا (ایف ایس آئی)، دہرادون ہر دو سال پر ملک کے اندر موجود جنگلوں کا جائزہ لیتا ہے اور اس کے نتائج کو انڈین اسٹیٹ آف فاریسٹ رپورٹ (آئی ایس ایف آر) میں شائع کرتا ہے۔ یہ تجزیہ انٹینسو گراؤنڈ ویری فکیشن (گہری زمینی توثیق) کی مدد سے ریموٹ سیسنگ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ آئی ایس ایف آر- 2021 کے مطابق، سابقہ تجزیہ یعنی آئی ایس ایف آر – 2019 کے مقابلے ملک گیر سطح پر جنگل کے پھیلاؤ میں بحیثیت مجموعی 1540 مربع کلومیٹر کا اضافہ ہوا ہے۔
نیشنل فاریسٹ پالیسی 1988 اصل پالیسی دستاویز ہے، جس میں بچاؤ، تحفظ اور ملک میں جنگلات کے بندوبست کے متعلق رہنما اصولوں کو شامل کیا گیا ہے۔ نیشنل فاریسٹ پالیسی 1988 کا اصل مقصد ماحولیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنا ہے۔
نیشنل فاریسٹ پالیسی 1988 ’’قبائلی لوگوں اور جنگلات‘‘ کے بارے میں ایک لائحہ عمل دستیاب کراتی ہے، جس میں قبائلی لوگوں اور جنگلات کے مابین ہم زیستانہ تعلق کا اعتراف کیا گیا ہے۔ پالیسی میں یہ بات کہی گئی ہے کہ قبائلی لوگوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتے وقت جنگلات سے متعلق پروگراموں میں چھوٹے جنگلاتی پیداواروں کی مارکیٹنگ کے لئے ادارہ جاتی بندوبست کے ساتھ ساتھ ایسی پیداوار کے تحفظ، ری جنریشن اور زیادہ سے زیادہ کلیکشن پر خصوصی توجہ دی جانی چاہئے۔ اس طرح سے موجودہ جنگلاتی پالیسی میں جنگلوں میں رہنے والے دیسی لوگوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ جنگلات کے تحفظ کا خیال بھی رکھا گیا ہے۔
یہ اطلاع ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت میں وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبے نے آج لوک سبھا میں دی۔
******
ش ح۔ م م۔ م ر
U-NO.2608
(ریلیز آئی ڈی: 1806007)
وزیٹر کاؤنٹر : 452