قانون اور انصاف کی وزارت
الیکشن کے لئے خرچ کی حد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
11 FEB 2022 5:23PM by PIB Delhi
نئی دہلی:11؍فروری2022:
الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی)نے مطلع کیا ہے کہ لاگت اور دوسرے متعلقہ امور کے مطالعہ کے لئے سبکدوش آئی آر ایس آفیسر جناب ہریش کمار، ای سی آئی کے سیکریٹری جنرل جناب اُمیش سنہا ، ای سی آئی میں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر جناب چندر بھوشن کمار اور ڈائریکٹر جنرل(اخراجات)پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔الیکشن کمیشن نے اس کمیٹی کی سفارشات کو منظور کرلیا ہےاور اپنی سفارشات سرکار کو بھیج دی ہے۔
سرکار نے اپنے نوٹیفکیشن ایس او 72(ای) تباریخ 6جنوری 2022ء انتخاب کرانے کے قوانین 1961ء کے قانون 90 کے تحت مقررہ امیدواروں کے انتخابی خرچ کی زیادہ سے زیادہ حد کو بڑھایا ہے اور اسے کمیشن کے ذریعے تمام ریاستوں؍ مرکز کے زیر انتظام ریاستوں کے سی ای او کو ارسال کردیا گیا ہے۔اسے تمام ضلعی الیکٹرول آفیسر، ریٹرننگ آفیسر و دیگر متعلقہ انتخابی اتھارٹیز اور سیاسی پارٹیوں کے علم میں لانے کی گزارش بھی کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ منی پاور کے خطرے کو لے کر بے حد فکر مندہیں، جو انتخاب کے میدان جنگ کی سطح کو متاثر کرتا ہے۔الیکشن کمیشن نے انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے انتخابی خرچ کی نگرانی کے لئے کئی قدم اٹھائے ہیں اور ماضی میں اس تعلق سے کئی گائیڈ لائن بھی جاری کی گئی ہے۔اس کے ساتھ ہی اسے ’’انتخابی خرچ نگرانی پر ضابطوں کا مجموعہ(اکتوبر 2021)‘‘ میں بھی مذکور کیا گیا ہے، جو کمیشن کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔اس کے ساتھ ساتھ 5ریاستوں اترپریش، پنجاب، اتراکھنڈ، منی پور اور گوا میں جاری اسمبلی الیکشن کے دوران بھی جاری کردیا گیا ہے۔قانون کے ذریعے مقررہ حد کے اندر انتخابی خرچ رکھنے کے لئے (انتخاب کرانے کے قانون 1961)اور امیدواروں کے درمیان یکسانیت برقرار رکھنے کے لئے ہی ایسا کیا گیا ہے۔الیکشن کمیشن نے مقررہ طریقے سے ہرروز کے کھاتہ رجسٹر کو بناکر رکھنے اور انتخابی مدت کے دوران انتخابی افسروں سے تین بار اس کا آڈٹ کرانے کا حکم جاری کیا ہے۔الیکشن کمیشن نے اہم اخراجات کا ریکارڈ رکھنے کے لئے شیڈ آبزرویشن رجسٹر مقرر کیا ہے۔انتخابی افسران کے ذریعے امیدواروں کی رپورٹ اور تضاد کے معاملے میں رپورٹ کرنا یعنی اخراجات کی کم رپورٹنگ جیسے معاملوں کو سامنے لانے کے لئے ہے۔اخراجات مشاہدین ، ویڈیو نگرانی ٹیموں ، آڈٹ ٹیموں، شکایات کی نگرانی اور کال سینٹر ، میڈیا تصدیق نامہ اور پیڈ نیوز پر نگرانی کمیٹی کی تقرری ، انتخابی اخراجات کی نگرانی کے لئے اڑن دستے اور مستقل نگرانی ٹیموں کی تعیناتی کے اقدامات کئے گئے ہیں۔الیکشن کمیشن نے اپنے حکم نامے 76/Instructions/EEPS/2015/Vol. dated 29.05.2015جو بتاریخ 29مئی 2015ء کو جاری ہوا اس کے ذریعے اس میں کہا گیا ہے کہ بے حساب پیسے پر نگرانی اور دیگر غیر قانونی اشیاء پر بھی نگرانی رکھی جائے گی۔الیکشن کمیشن نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ امیدوار کے ذریعے 10ہزار روپے سے زیادہ کے انتخابی خرچ کی صورت میں تمام لین دین اس بینک اکاؤنٹ سے کیا جائے گا ، جو انتخابی اخراجات کے مقصد کے لئے ہی کھولا گیا ہے۔
الیکشن کمیشن نے مختلف انفورسمنٹ ایجنسیوں کی خدمات طلب کی ہیں۔جیسے کہ سی بی ڈی ٹی، سی بی آئی سی، ڈی جی آئی ٹی ، اسٹیک ایکسائز ڈپارٹمنٹ ، اسٹیٹ پولس ڈپارٹمنٹ ، نارکوٹکس کنٹرول بیور، ڈی آر آئی، ای ڈی، ایف آئی یو-آئی این ڈی، بی سی اے ایس، آر پی ایف، ڈپارٹمنٹ آف پوسٹ، بی ایس ایف،ایس ایس بی، آئی ٹی بی پی، کوسٹ گارڈ، آسام رائفل تاکہ انتخابی اخراجات کی مؤثر طور پرنگرانی کی جاسکے۔ اس کے علاوہ انتخابی ضابطے عمل بھی لاگو کیا جاچکا ہے۔الیکشن کمیشن نے ’سوویدھا‘ کے نام سے آئی ٹی ٹول بھی بنایا ہے، تاکہ پہلے آؤ اور پہلے پاؤ کی بنیاد پر انتخابی تشہیر کی اجازت دی جاسکے۔الیکشن کمیشن نے سی ای او کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو یکساں طورپر انتخابی مہم چلانے کی سہولت فراہم کرے۔اس کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے تمام تسلیم شدہ پارٹیوں کے لئے دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو پر تشہیر کے لئے مختص وقت کو بڑھا کر دوگنا کردیا ہے۔
الیکشن میں منی پاور کو روکنے کے لئے الیکشن مختلف اقدامات کرتا رہا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ الیکشن کے دوران امیداوار کے ذریعے کئے جارہے روزانہ کے خرچ کی نگرانی کے لئے اور نقدی ، شراب، نشیلی دواؤں وغیرہ کی تقسیم کرکے ووٹروں کو متاثر کرنے کے عمل کی مؤثر جانچ کے لئے متعدد نگرانی سسٹم قائم کئے جاتے ہیں۔عوام ، پولس اور خرچ کے مشاہد کی صورت میں سول سروسز کے اعلیٰ حکام کی تعیناتی کی جاتی ہے، تاکہ وہ پورے انتخابی عمل پر نظر رکھ سکیں۔
یہ معلومات آج لوک سبھا میں قانون و انصاف کے مرکزی وزیر جناب کرن رجیجو نے دی۔
************
ش ح۔ج ق۔ن ع
(U: 1519)
(ریلیز آئی ڈی: 1797799)
وزیٹر کاؤنٹر : 164