وزارت ماہی پروری، مویشی پروری و ڈیری
azadi ka amrit mahotsav

مویشیوں کے لئے افزائش سے متعلق پالیسی

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 FEB 2022 6:33PM by PIB Delhi

 

ماہی پروری ، مویشی پروری اورڈیری کے مرکزی وزیر جناب پرشوتم روپالانے  آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں درج ذیل معلومات فراہم کیں ۔

مویشی پروری  ریاستی موضوع ہے اورزیادہ ترریاستوں نے مویشیوں کی نسل سے متعلق پسند ، کراس بریڈنگ حکمت عملی ، ضرورت کے حساب سے  مختلف نسلوں کے جانور ، متوقع جینیاتی پیش رفت  سے متعلق ہدف کو حاصل کرنے کے معاملے میں افزائشی مقاصد ، افزائش کے مخصوص پروگرام  پرمویشیوں کی آبادی کے مطلوبہ جینیاتی مقاصد کو حاصل کرنے میں اپنائے جانے والے اقدام کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کے لئے مویشیوں سے متعلق اپنی اپنی پالیسیاں بنائی ہیں ۔

سال 2020کی مویشی پروری سے متعلق بنیادی شماریات کی بنیاد پر سال 20-2019کے دوران  ملک میں  دیسی نسل  کے مویشی سے حاصل ہونے والے دودھ کی  اوسط مقدار  یومیہ 3.08کلوتھی ۔

مقامی سطح کی زیادہ ترگائیں چھوٹے اور غریب کسانوں اوربے زمین مزدوروں کے ذریعہ  کم ان پٹ اور کم آؤٹ پٹ سسٹم پرپالی جاتی ہیں  اوراس طرح  یہ لوگ  گھریلو تغذئی ضروریات کو پوراکرنے  کے لئے دودھ کی پیداوارکرتے ہیں اور گھریلو مصرف سے  بچ جانے والے دودھ کو  ڈیری کو آپریٹو یا  مقامی دودھ کے کاروباریوں کو فروخت کردیتے ہیں ۔ دودھ سے وابستہ کاروبار  دیہی ہندوستان میں ایک پائیدار سرگرمی ہے اور یہ ڈیری کاروبارسے منسلک 8کروڑ افراد   اورخاص کردیہی خاندانوں کے  چھوٹے او ر  غریب کسانوں اوربے زمین مزدوروں  کو معاش کا ذریعہ فراہم کرنے میں کلیدی کرداراداکرتاہے ۔ قومی اکاؤنٹ شماریات 2021کے مطابق  20-2019میں  دودھ  کی پیداوارکی  قدر تازہ قیمتوں کی بنیاد پر 8.4لاکھ کروڑروپے  ہے جو کہ اناجوں سے حاصل ہونے والی کل قیمت سے زیادہ ہے ۔

*****

ش ح ۔ق ت ۔ ع آ

U-1229


(ریلیز آئی ڈی: 1796062) وزیٹر کاؤنٹر : 167
یہ ریلیز پڑھیں: English