کامرس اور صنعت کی وزارتہ

نامیاتی غذائی اجناس کی برآمدات

Posted On: 02 FEB 2022 6:59PM by PIB Delhi

نئی دہلی، 02 فروری 2022:

تجارت و صنعت کی وزیر مملکت محترمہ انوپریہ پٹیل کے ذریعہ آج لوک سبھا میں ایک تحریری جواب کے تحت یہ اطلاع فراہم کی گئی کہ زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت کے تحت نامیاتی کاشتکاری کا قومی مرکز (این سی او ایف)ملک میں نامیاتی کاشتکاری کی نوڈل تنظیم ہے۔ این سی او ایف نامیاتی مصنوعات کے پروڈکشن ، سند بندی اور مارکیٹنگ کو فروغ دینے کے لیے نامیاتی کاشتکاری پر قومی پروجیکٹ  (این پی او ایف) کو نافذ کرتی ہے۔ تجارت کے محکمہ کے ذریعہ متعارف کیے  گئے نامیاتی پیداواریت کے لیے قومی پروگرام (این پی او پی)  کا مقصد برآمدات کے لیے نامیاتی پیداوار کو ضابطہ کے تحت لانا اور انہیں فروغ دینا ہے۔

نامیاتی پیداوار کی برآمدات کو مسلسل فروغ دیا جاتا ہے۔ محکمہ  تجارت کے انتظام کے دائرے کے تحت آنے والی ایک خودمختار تنظیم یعنی زراعت اور خوراک ڈبہ بندی مصنوعات کی برآمداتی ترقیاتی اتھارٹی (اے پی ای ڈی اے) کو نامیاتی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے اور این پی او پی کی نفاذکاری کے ساتھ لازمی قرار دیا گیا ہے۔اے پی ای ڈی اے اپنی برآمداتی فروغ اسکیم کے مختلف عناصر کے تحت نامیاتی مصنوعات کے برآمدکاروں کو تعاون فراہم کرتی ہے۔ اے پی ای ڈی اے  نامیاتی مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے مختلف سرگرمیوں کو بھی انجام  دیتی ہے، جیسے این پی او پی کے تحت نئی مصنوعات کا اضافہ، درآمدکار ایجنسیوں کے ذریعہ تسلیم شدہ این پی او پی معیارات حاصل کرنے کے لیے کوششیں کرنا، بین الاقوامی تجارتی میلوں اور نمائشوں میں شرکت کے توسط سے ’انڈیا آرگینک‘ برانڈ کو فروغ دینا، خریدار۔ فروخت کار ملاقاتو (بی ایس ایم) کا اہتمام کرنا، صلاحیت سازی اور رابطہ کاری سے متعلق پروگراموں کا انعقاد، وغیرہ ۔

سال 2020۔21 کے دوران بھارت کی نامیاتی مصنوعات کی برآمدات 1.04 بلین امریکی ڈالر کے بقدر تھی۔ نامیاتی غذائی اجناس کو اناج اور باجرا زمرے کے تحت ملک سے برآمد کیا جا رہا ہے۔ 2020۔21 کے دوران، نامیاتی پیداوار کے لیے قومی پروگرام (این پی او پی) کے تحت ، 76 ملین امریکی ڈالر کے بقدر 59908 ایم ٹی نامیاتی مصنوعات کو ’اناج اور باجرا‘ زمرے کے تحت برآمد کیا جا چکا ہے۔

حکومت ہند بالترتیب گھریلو اور برآمداتی منڈیوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے، 2015۔16 سےکلی طور پر وقف اسکیموں ، جیسے پرمپراگت کرشی وکاس یوجنا (پی کے وی وائی) اور مشن آرگینک ویلیو چین ڈیولپمنٹ فار نارتھ ایسٹرن ریجن (ایم او وی سی ڈی این ای آر) کے توسط سے، بندیل کھنڈ اور اتراکھنڈ سمیت ملک  میں نامیاتی کاشتکاری کو فروغ دے رہی ہے۔ مارکیٹنگ اور برانڈنگ نامیاتی کاشتکاری اسکیم کا جزو لاینفک رہا ہے۔ مارکیٹنگ، برانڈنگ اور تجارت کے لیے، پی کے وی وائی کے تحت 6800/ ای اے کے بقدر اور ایم او وی سی ڈی این ای آر کے تحت 5000/ایچ اے کے بقدر تعاون فراہم کیا جاتا ہے۔ ریاست اتراکھنڈ کے لیے پی کے وی وائی کے تحت ’آرگینک اتراکھنڈ‘ نامی برانڈ تیار کیا گیا ہے۔

************

ش ح۔اب ن ۔ م ف

U. No. 1020



(Release ID: 1794952) Visitor Counter : 211


Read this release in: English