اقلیتی امور کی وزارتت
azadi ka amrit mahotsav

1984 کے فسادات کے لیے معاوضے پر این سی ایم کا نوٹس

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 DEC 2021 4:42PM by PIB Delhi

قومی اقلیتی کمیشن (این سی ایم) نے 9 ریاستوں/ مرکز زیر انتظام علاقوں یعنی جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، ہریانہ، مغربی بنگال، اوڈیشہ، بہار، ہماچل پردیش، جموں و کشمیر اور دہلی سے 1984 کے سکھ فسادات کے بارے میں درج ذیل سے متعلق معلومات طلب کی ہیں: (a) درج مقدمات کی فہرست؛ (b) سزا یافتہ/ بری ہونے والے افراد کی تعداد؛ (c) مقدمات کی موجودہ حیثیت؛ (d) ہلاک/ زخمی افراد کی تعداد؛ (e) تباہ شدہ املاک کی تفصیلات؛ (f) متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی اور اس کی تفصیلات؛ (g) ان متاثرہ خاندانوں کی فہرست جن کے لیے خاندان کے ایک فرد کے لیے ملازمت کا اعلان کیا گیا تھا، ان خاندانوں کی تعداد جن کے خاندان کے ایک فرد کو ملازمت فراہم کی گئی تھی، اور ان خاندانوں کی تعداد جن کے لیے خاندان کے کسی فرد کو ابھی تک ملازمت نہیں دی گئی اور اس کی وجوہات؛ (h) ہر ریاست میں تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی/ کمیشن کی تفصیلات؛ اور (i) پولیس اہلکاروں سے متعلق تفصیلات، جن کے خلاف فسادات میں ملوث ہونے کے الزامات لگائے گئے ہیں اور ان کے خلاف کی گئی کارروائی کی تفصیلات کے ساتھ ساتھ درج کردہ فوجداری/ سول مقدمات کی تعداد، مجرم قرار دیے گئے/ بری ہونے والے پولیس اہلکاروں کی تعداد اور ان مقدمات کی تعداد جو اب بھی زیر التوا ہیں۔

وزارت داخلہ نے 16.01.2006 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین کو امداد فراہم کرنے کے لیے بحالی کا ایک پیکیج متعارف کرایا تھا۔ اس اسکیم میں، دوسری باتوں کے ساتھ، ہر موت کے معاملے میں 3.5 لاکھ روپے اور زخمی ہونے کی صورت میں 1.25 لاکھ روپے کی اضافی ادائیگی شامل ہے۔ اس اسکیم میں ریاستی حکومتوں کے لیے موت کا شکار ہونے والوں کی بیواؤں اور بوڑھے والدین کو پوری زندگی کے لیے 2500 روپے ماہانہ کی یکساں شرح پر پنشن دینے کا انتظام بھی شامل ہے۔ پنشن کی ادائیگی کا خرچ ریاستی حکومتوں کو برداشت کرنا تھا۔ مذکورہ سکیم 31.12.2012 کو ختم ہو گئی۔ اس کے علاوہ، حکومت ہند نے 16.12.2014 کے نوٹیفکیشن کے ذریعے 1984 کے سکھ مخالف فسادات میں مرنے والوں کے لواحقین کو 5 لاکھ روپے کی شرح سے اضافی معاوضے کی ادائیگی کے لیے ایک اور اسکیم متعارف کرائی تھی۔

مذکورہ دونوں اسکیموں میں، اسکیم کو نافذ کرنے کی ذمہ داری متعلقہ ریاستی حکومت پر ہے۔ حکومت ہند کا کردار اور ذمہ داری صرف متعلقہ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ استعمال کے سرٹیفکیٹس کی وصولی پر کیے گئے اخراجات کی ادائیگی تک محدود ہے۔

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ معلومات فراہم کی۔

                                           **************

 

 

ش ح۔ ف ش ع- س ا  

U: 14201


(ریلیز آئی ڈی: 1781082) وزیٹر کاؤنٹر : 133
یہ ریلیز پڑھیں: English