خواتین اور بچوں کی ترقیات کی وزارت
بچوں میں غذائیت سے متعلق نتائج کو بہتر بنانے سے متعلق اقدامات
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
01 DEC 2021 5:06PM by PIB Delhi
نئی دہلی یکم دسمبر 2021
خواتین اور بچوں کی بہبود کی مرکزی وزیر محترمہ اسمرتی زوبین ایرانی نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں یہ جانکاری فراہم کی ہے۔
صحت اور خاندانی فلاح وبہبود کی وزارت کے ذریعہ وقتاً فوقتاً منعقد کئے گئے سروے کو خاندانی صحت سے متعلق قومی سروے این ایچ ایچ ایس نے ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے بچوں میں سوئے تغذیہ، فطری نشونما کے ساکت ہوجانے، کمزور پڑجانے اور عمر کے لحاظ سے وزن کم ہونےسے متعلق صورتحال فراہم کی ہے۔
این ایف ایچ ایس-4 اور این ایف ایچ ایس-5 کے مطابق قومی سطح پر سوئے تغذیہ کی صورتحال کی تفصیلات ذیل میں پیش ہیں۔
|
اشارے
|
این ایف ایچ ایس-4
16-2015
(قومی سطح)
|
این ایف ایچ ایس-5
21-2019
(قومی سطح)
|
|
بچوں میں جسمانی کمزوری
|
21%
|
19.3%
|
|
بچوں میں فطری نشونما ساکت ہوجانا
|
38.4%
|
35.5%
|
|
عمر کے لحاظ سے وزن کم ہونا
|
35.8%
|
32.1%
|
بچوں میں غذائیت سے متعلق نتائج کو بہتر بنانے کے مقصد سے، حکومت آنگن واڑی خدمات، نوخیز لڑکیوں کے لئے اسکیم اور پردھان منتری ماترو وندنا یوجنا (پی ایم ایم وی وائی) جیسی بہت سی اسکیموں پر عمل درآمد کررہی ہے۔ ان اسکیموں کو براہ راست تشخیص کردہ اقدامات کے طور پر بچوں کے فروغ سے متعلق مربوط خدمات (آئی سی ڈی ایس) سرپرست اسکیم کے تحت نافذ کیا جارہا ہے۔ 8 مارچ 2018 کو پوشن ابھیان کا آغاز کیاگیا تھا، جس کا مقصد ایک مربوط اور نتیجہ خیز طریق کار اختیار کرکے ملک میں مرحلہ وار طریقے سے بچوں میں نقص تغذیہ میں کمی کرنا ہے۔
حکومت نے بھی پوشن-2 کے تحت صحت کی دیکھ بھال اور نگہداشت، خیر وعافیت اور بیماریوں اور سوئے تغذیہ سے مدافعت کی صلاحیت پیدا کرنے والے طور طریقوں پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے بچوں میں غذائیت کی مقدار، دستیابی، رسائی اور نتائج کو مستحکم بنانے کی غرض سے اقدامات کئے ہیں۔
پوشن-2، غذائیت میں معاون ایک مربوط پروگرام ہے جس کا 22-2021 کے بجٹ میں اعلان کیا گیا تھا۔ آئی سی ٹی کے ایک اہم پلیٹ فارم، پوشن ٹریکر کے تحت حکمرانی کو بہتر بنانے کی غرض سے غذائیت کے معیار کو بہتر بنانے، فراہمی اور متعلقہ ٹکنالوجی کو مستحکم بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں، تاکہ فوری نگرانی اور خدمات کے بندوبست کے لئے اضافی معاون تغذیہ بخش خوراک کے انتظامات پر بروقت نظر رکھنے کے حوالے سے حکمرانی کو بہتر بنایا جاسکے۔
حکومت نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو صلاح دی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اضافی معاون تغذیہ بخش خوراک کا معیار، خوراک کی حفاظت اور معیارات سے متعلق قانون 2006 اور اس کے تحت بیان کئے گئے ضابطوں کے تحت مجوزہ معیارات کے عین مطابق ہو۔ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو یہ صلاح بھی دی گئی ہے کہ وہ نقص نغذیہ اور اس کے سبب ہونے والی بیماریوں سے بچنے کی غرض سے آیوش نظام یا طریق علاج اختیار کرنے کی حوصلہ افزائی کریں۔ آنگن واڑی مراکز پر پوشن واٹیکاؤں کی ترقی میں معاونت کی خاطر ایک پروگرام کا بھی انعقاد کیاگیا تاکہ غذائیت سے متعلق طور طریقوں میں روایتی علم اور معلومات کو بروئے کار لانے میں محدود یا مقررہ غذا میں تنوع کی خامی کو دور کیا جاسکے۔ اس کے علاوہ معاون تغذیہ بخش خوراک کی فراہمی میں شفافیت اور جوابدہی اور تغذیہ بخش خوراک سے متعلق نتائج کا پتہ چلانے کی غرض سے 13.01.2021 کو زیادہ کارگر بنائی گئی رہنما ہدایات جاری کی گئی تھیں۔
**********
ش ح۔ ع م۔ ع ر۔
U-13618
(ریلیز آئی ڈی: 1777173)
وزیٹر کاؤنٹر : 145