مکانات اور شہری غریبی کے خاتمے کی وزارت
azadi ka amrit mahotsav

مرکزی وزیرہردیپ سنگھ پوری کی صدارت میں قومی راجدھانی خطے کے منصوبہ بندی بورڈ کی 41ویں میٹنگ منعقد ہوئی


بورڈ نے کچھ ترامیم کے ساتھ  خطے کے منصوبے کے مسودہ 2041کو   عام رائے زنی کے لئے دستیاب کرانے کو منظوری دی

آر۔پی  2041کو مارچ ، 2022تک حتمی شکل دی جائے گی

Posted On: 12 OCT 2021 8:42PM by PIB Delhi

نئی دہلی ،12؍اکتوبر:مکانات اور شہری امورکے وزیرجناب ہردیپ سنگھ پوری کی صدارت میں آج قومی راجدھانی خطے کے منصوبہ بورڈ کی  41ویں میٹنگ منعقد ہوئی ، جس میں ہریانہ کے وزیراعلیٰ جناب منوہرلعل کھٹر،اترپردیش کے کھادی اور گرام ادیوگ ، کپڑا ایم ایس ایم ای اور این آرآئی محکمے  کے وزیرجناب سدھارناتھ سنگھ ، راجستھان کے شہری ترقیات کے وزیرجناب شانتی کمار، قومی راجدھانی خطے کی سرکارکے شہری ترقیات کے وزیرجناب ستیندرجین نے ڈیجیٹل موڈ کے ذریعہ میٹنگ میں شرکت کی ۔ اس کے علاوہ ایچ یواے بھارت سرکار ، ہریانہ سرکارکے چیف سکریٹری قومی راجدھانی خطے دہلی کی سرکارکے ایڈیشنل چیف سکریٹری ، این سی آرپی بی کے ممبرز سکریٹری اور مرکزی حکومت کے علاوہ  این سی آر ریاستوں کے دیگرسینئر افسروں نے بھی میٹنگ میں شرکت کی ۔

میٹنگ میں اظہارخیال کرتے ہوئے این سی آر پی بی کے چیئرمین جناب پوری نے کہاکہ این سی آرپلاننگ بورڈ بین ریاستی اور بین ایجنسی تال میل اور علاقائی ترقی کی  ایک منفرد مثال ہے ۔ انھوں نے کہاکہ این سی آرمیں  بڑھتی  ہوئی شہرکاری کے ساتھ یہ خطہ 2030تک دنیا کا سب سے بڑی آبادی والا خطہ بننے جارہاہے جو اس خطے کے مستقبل کے لئے بڑے چیلنج پیداکرے گا۔ وزیرموصوف نے کہا کہ ہم سب کو نئے ابھرتے ہوئے بھارت کے مستقبل کے لئے تیارقومی راجدھانی خطے کی سوچ  اورتعمیر میں مل کر کام کرنا ہوگا۔

آرپی2041کے مسودے کے اہم معاملوں پر ایک وسیع  سمجھوتہ بناہے میٹنگ میں مندرجہ ذیل کچھ معاملوں پر تفصیل سے گفتگوکی گئی اورحسب ذیل اتفاق رائے کا اظہارکیاگیا۔

  • این سی آر کی حدود -اس بات پر اتفاق رائے بنا ہے کہ اس خطے کا جغرافیائی  سائز راج گھاٹ دہلی سے 100کلومیٹرکے دائرے سے متصل ہوا علاقہ ہونا چاہیئے ۔ 100کلومیٹرکے دائرے سے آگے اور موجودہ  این سی آرحدتک سبھی  نوٹیفائیڈ شہر وں  /قصبوں کے ساتھ ایکسپریس وے  /قومی شاہراہ /ریاستی شاہراہ /علاقائی ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم کو جوڑنے کے دونو ں طرف ایک کلومیٹرکا  کورویڈور شامل کیاجائے گا ۔ اس کے علاوہ اس 100کلومیٹرکے  حدود کے اندر جزوی طورسے آنے والی  تحصیلوں کو شامل کرنے یاچھوڑنے کا فیصلہ متعلقہ ریاستی سرکارو ں پرچھوڑ دیاجائیگا۔
  • آبادی  کااندازہ – مسودہ آرپی کے آبادی تخمینے    ظاہرکرنے والے ہیں اور ریاستوں پر کوئی پابندی نہیں لگاتاہے ۔ ریاستیں  اگلے 20سالوں کے لئے اپنے اندازوں اور ان کے بنیادی ڈھانچے اوردیگر ترقیاتی  ضرورتوں کے مطابق  آنکڑے لے سکتے ہیں /استعمال کرسکتے ہیں ۔
  • قدرتی تحفظ کے زون –ا س پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا اور یہ اتفاق رائے ہوا کہ اسے قدرتی زون کہاجائے گا اور اس کے اندرترقی کو متعلقہ مرکزی یاریاستی  قوانین اور عدالتوں اور این جی ٹی کی ہدایات کے مطابق  محفوظ  /تحفظ  /منضبط / استعمال کیاجائے گا ۔
  • اترپردیش نے درخواست کی ہے کہ چارنئے جوڑے گئے ضلعوں کے لئے این سی زیڈ  کی حدود آرپی 2041کے تحت کی جاسکتی ہے ، کیونکہ موجودہ آرپی 2021اگلے کچھ مہینوں میں ختم ہونےوالی ہے ۔ اس پر گفتگو ہوئی اوربورڈ نے اس پراتفاق رائے ظاہرکیا۔
  • چیئرمین نے ان خیالات کا اظہارکیاکہ مسودہ آرپی ایک دستاویز ہے اور مسودے  کی شقوں پرریاستوں کے خیالات کاجائزہ   تب تک  کیاجاسکتاہے ، جب تک کہ اسے حتمی شکل نہیں دیاجاتی ہے اور اشاعت اور نفاذ کے لئے بورڈ کی طرف سے منظوری نہیں دیدی جاتی ہے ۔
  • یہ فیصلہ کیاگیا کہ آرپی 2041کے مسودہ میں ضروری تبدیلیاں کرنے کے بعد اسے 30دنوں کے لئے پبلک ڈومین میں رکھاجاناچاہیئے ، جیسا کہ سبھی شراکت داروں  کے خیالات حاصل کرنے کے لئے قانون کے تحت لازمی  ہیں ، جس میں ریاستوں /تنظیموں /عوام وغیرہ شامل ہیں ۔
  • یہ خواہش تھی کہ رائے زنی /فیڈ بیک پرغورکرنے  کے طریقہ کارکے مطابق  ضروری تبدیلیاں کرنے کے بعد بورڈ کی منظوری  سے  مارچ 2022کے آخرتک آرپی 2041کے حتمی ورژن کو نوٹیفائی کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے ۔

****************

 

ش ح۔  ح ا۔ ع آ 

U. NO. 10058


(Release ID: 1763834) Visitor Counter : 193


Read this release in: English , Hindi