ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

قومی راجدھانی خطے اور اس کے ملحقہ علاقوں میں فضا کے معیار سے متعلق انتظامیہ کے کمیشن نے فضائی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے سلسلے وار اقدامات کئے ہیں

پنجاب، این سی آر ریاستوں کی حکومتوں اور جی این سی ٹی ڈی نے فصل کے باقیات جلانے کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے کمیشن کے لائحہ عمل پر مبنی تفصیلی منصوبہ تیار کیا ہے، جس کی نگرانی کی جاسکے گی

Posted On: 22 SEP 2021 8:07PM by PIB Delhi

 

فضا کے معیار سے متعلق  انتظامیہ کے  کمیشن نے قومی راجدھانی خطہ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں آج  فضائی آلودگی  پر قابو  پانے  کے لئے کمیشن کی جانب سے کئے گئے اقدامات پر  آج  ایک سلسلے وار  ٹوئیٹ میں  مطلع کیا ہے۔

 

 فصل کے باقیات جلانے کی وجہ سے پیدا ہونے والی   آلودگی کو  کم کرنے کے  سلسلے  میں کمیشن نے بتایا ہے کہ  پنجاب  این سی آر  خطے کی ریاستوں  نے  باقیات  جلانے کی روک تھام کے لئے تفصیلی لائحہ  عمل تیار کیا  ہے۔ سی اے کیو ایم کی جانب سے  تیار کئے گئے   لائحہ عمل پر  مبنی  منصوبے کو باقاعدہ طور پر حتمی شکل دے دی  گئی ہے اور  اس  لائحہ عمل پر سختی سے نفاذ کے لئے ہدایات  جاری کردی  گئی ہیں۔

کمیشن نے  پنجاب، این سی آر  ریاستوں کی حکومتوں اور  جی این  سی ٹی ڈی کو  درج ذیل  فریم ورک کے اجزاء پر مبنی  ایکشن کے نفاذ  کے لئے  ہدایت  دی ہے۔

اِن-سیتو  فصل کی باقیات کا  انتظام-   وزارت زراعت کی  سی آر ایم اسکیم کی  مدد سے 14380  مشینیں پہلے سے ہی دستیاب ہیں۔ مزید  56513 مشینیں سیتو فصل کی باقیات کے  انتظام کی سہولت کے لئے موجودہ سال میں خریدی  جارہی ہیں۔

  • پچھلی سیتو فصل کی باقیات کا انتظام
  • کھڑی فصل کی باقیات جلانے کی ممانعت
  • مؤثر نگرانی/ نفاذ
  • منصوبے ؍  دھان  کے چھلکے  کی پیداوار  کو کم کرنے کی اسکیمیں
  • لائحہ عمل کے لئے آئی ای سی سرگرمیاں

اسرو کی ہرف  سے  تیار کردہ ایک معیاری پروٹوکول اختیا ر کرنے کے لئے ہدایات جاری  کی ہیں۔ ٹھونٹھ جلانے کے لئے آگ لگائے جانے کی ریکارڈنگ اور اس پر قریبی نظر رکھنے کے لئے  یہ  پروٹوکول تیار کیا گیا ہے۔ آئی اے آر آئی  کی  تیار کردہ  بائیو  ڈی کمپوزر ٹیکنالوجی کے استعمال  کے فرو۷غ کے سلسلے میں ان – سیتو  فصل  کے باقیات  کے بندوبست  کے حصے کے طور پر  یوپی میں 6 لاکھ ایکڑ  رقبے میں  پوسا  کے بائیو  ڈی  کمپوزر ، ہریانہ میں ایک لاکھ ایکڑ  ، پنجاب میں 7413  ایکڑ  اور  دہلی میں 4000 ایکڑ  کے بارے میں  کمیشن  کو   جانکاری دی  جاتی رہی ہے۔

 فصل کی باقیات  کے  ایکس – سیتو استعمال کے لئے بڑے متعلقہ  فریقوں کے ساتھ پروجیکٹوں کے جائزے اور  حرارتی  بجلی  پلانٹس  میں  آ گ جلانے کے لئے دھان کے چھلکے  کے استعمال کو فروغ دینے کے جائزے  کے لئے  ایسے سبھی  11  بجلی پلانٹس   کے لئے ہدایات جاری کردی گئی ہیں، جو دہلی کے  300 کلو میٹر  آس پاس  واقع ہے۔ زرعی  ٹھونٹھ  جلانے سے متعلق یہ کچھ  دیگر اقدامات ہیں۔

 ’’دھول مٹی پر کنٹرول اور اس کے بندوبست  سے متعلق سیل‘‘  کے  ذریعے سڑکوں ؍ کھلے علاقوں  سے  دھول مٹی  کے بندو بست کے مقصد سے   این سی آر  ریاستی سرکاروں  ؍ جی این  سی ٹی ڈی ،  سڑک کی ملکیت والی  ایجنسیوں اور  میونسپل اداروں کو بھی  ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

سڑک پر  دھول مٹی  کے مؤثر بندو بست  کے لئے نشان دہ  سر گرمیوں  میں ، نامزد جگہوں  ؍  زمین کی  بھرائی والی جگہوں میں  اکٹھا کی گئی  دھول کو سائنسی  طریقے سے  ٹھکانے لگانے اور سڑکوں کی صفائی ستھرائی  کے ،  مشینی  ذرائع کا زیادہ سے زیادہ استعمال شامل ہے۔ ان سرگرمیوں میں دھول کو  زمین میں بیٹھانے والے  مادوں کو  چھڑکنا، سڑکوں اور کھلے علاقوں میں پانی  چھڑکنا، سڑکوں مناسب دیکھ بھال ، کچی سڑکوں کے کنارے  فرش بنانا ؍  ان پر شجر کاری کرنا، خاص طور پر  صنعتی علاقوں میں  بیٹو مین  سے  بنی  سڑکوں  کے مقابلے  سیمنٹ سے بنی   سڑکوں کو ترجیح دینا، دھول مٹی پر قابو پانے کے اقدامات پر قریبی نظر رکھنا اور ان پر عمل  در آمد کرنا اور بڑے پیمانے پر  شجر کاری  بھی شامل ہے۔

کمیشن نے  تعمیر  ی اور انہدامی  سرگرمیوں سے  ہوا کی آلودگی کے کنٹرول ؍  روک تھام کے لئے بھی  ہدایات جاری کی ہیں، جس میں اس کام کے لئے مخصوص ویب پورٹل پر  پروجیکٹوں کے  ویڈیو بنا کر  دھول مٹی پر قابو پانے کی تصویریں اور  اس سے نمٹنے کے اقدامات بھی   فراہم کئے گئے ہیں۔

تعمیراتی مقامات پر  دھوئیں کو ختم کرنے والے آلات اور  اسکرین  نصب کرنا ، دھول کو  زمین میں بیٹھانے والے مادوں اور پانی چھڑکنا ، بند گاڑیوں میں سی اینڈ ڈی سامان  لانا لے جانا، پروجیکٹوں کی جگہوں پر ہوا  کی کوالٹی پر نظر رکھنے والے سینسرز کی  تنصیب اور اپنا آڈٹ  کرنے والے  اور سرٹیفکٹ دینے والے نظام کی تنصیب، تعمیراتی  اور انہدامی  پروجیکٹوں سے متعلق سرگرمیوں میں ، دھول مٹی کے بندوبست کے تئیں کچھ بنیادی اقدامات ہیں جو  پروجیکٹوں سےمتعلق  ایجنسیوں کی طرف سے کئے  چاہئیں۔

صنعتی آلودگی پر قابو پانے کے لئے کمیشن نے  بتایا کہ پی این جی ؍ مزید  صاف ستھرے  ایندھن والی جگہوں پر صنعتوں کو منتقل کیا جانا  ایک ترجیحی کام ہے۔ دہلی نےاپنی  سبھی  1635 نشان زد صنعتوں کے لئے پی این جی ؍ صاف ستھرے ایندھن کی جگہوں پر مکمل طور پر  منتقلی  اختیار کرلی ہے۔ این سی آر  میں  ہریانہ نے  ابھی تک  1469   نشان زد صنعتی یونٹوں میں سے  408  صنعتی یونٹوں کو منتقل کیا ہے۔ یوپی میں   2273 صنعتی یونٹوں میں سے  1167  صنعتوں، اور راجستھان میں 436  نشان زد صنعتوں میں سے 126  کو ، پی این جی  منتقل کیا گیا ہے۔

ہریانہ ، یوپی اور راجستھان کی سرکار کو   صنعتوں میں  کوئلے کے استعمال کو کم سے کم  کرنے  کے نظریے سے  مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ  این سی آر ضلعوں میں صنعتوں  کو  مزید صاف ستھرا ایندھن استعمال کرنے کے مقصد سے لائحہ عمل تیار کریں، جہاں گیس  سے متعلق  بنیادی ڈھانچہ پہلے سے دستیاب ہے۔ جہاں کہیں گیس  دستیاب نہیں  ہے ، وہاں  این سی آر ضلعوں میں واقع  پی این جی  سے متعلق بنیادی ڈھانچے  کو استعمال  کرنے کے مقصد سے ایک لائحہ عمل کو بھی لاگو کیا جا رہا ہے۔ نیز  ضابطے  نافذ کرنے والی مختلف ایجنسیوں کی طرف سے این سی آر  میں غیر منظور شدہ ایندھن  کے استعمال پر  بھی سخت نگرانی ، اہم اقدامات  میں سے کچھ   ہے۔

ہوا کی  آلودگی  کا  ایک اور  بڑا وسیلہ گاڑیوں کی آلودگی ہے اور کمیشن نے  ٹرانسپورٹ  شعبے میں صاف ستھری ٹیکنالوجی کےاستعمال  پر  مزید  زور  دینے کے لئے ’’مضر صحت گیسوں کا  اخراج پوری طرح ختم کرنے اور  ای- گاڑیاں  خریدنے کو  لازمی قرار دینے‘‘ کے  مقصد سے ہدایت جاری کی ہیں اور  جن  گاڑیوں سے  مضر صحت گیسوں کا  اخراج  بالکل نہیں ہوتا  ؍ ای- موبلٹی  کی جانب بتدریج توجہ دی جارہی ہے اور  اس سلسلے میں پیش رفت کا لگا تار جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دہلی  میں داخل ہونے والی  سبھی نامزد  124  سرحدی جگہوں  پر اب آر ایف  آئی ڈی نظام فراہم  کردیا گیا ہے تاکہ  بغیر نقدی  والے ٹول  ؍  محصول  کی  وصولیابی کی سہولت  حاصل ہو، جس سے  کہ گاڑیوں  کا ہجوم  کم ہوگا  اور سرحدی جگہوں پر زبردست فضائی  آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔

کمیشن کی طرف سے  کچھ دیگر اقدامات  یہ کئے گئے ہیں کہ ’’سیف گارڈنگ اور  انفور سمنٹ‘‘ کے ذریعے رپورٹ کرنے کا ایک نظام  تیار کیا گیا ہے، جس کے ذریعے لگا تار  قریبی نظر رکھی جارہی ہے،  جو   ذیلی کمیٹی کا  ایک  15  روزہ  جریدہ ہے ۔ یہ جریدہ  ہوا کی کوالٹی  سے  متعلق ہنگامی کارروائی  کے لئے  فیصلہ کرنے سے متعلق ایک  امدادی نظام   (ڈی ایس ایس) ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۰۰۰۰۰۰۰۰

(ش ح- ا س- ق ر)

U-9298



(Release ID: 1757201) Visitor Counter : 62


Read this release in: English , Hindi