کامرس اور صنعت کی وزارتہ
azadi ka amrit mahotsav

بھارت – متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) کے لئے بات چیت کے آغاز پر مشترکہ پریس بیان

Posted On: 22 SEP 2021 7:25PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،  22/ستمبر 2021 ۔ بھارت کے صنعت و تجارت، صارفین امور، خوراک اور عوامی نظام تقسیم اور ٹیکسٹائل کے وزیر جناب پیوش گوئل اور متحدہ عرب امارات کے بیرونی تجارت کے وزیر مملکت ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی نے بھارت – متحدہ عرب امارات جامع اقتصادی شراکت داری معاہدہ (سی ای پی اے) سے متعلق بات چیت کا باقاعدہ آغاز کیا۔

ڈاکٹر ثانی بن احمد الزیودی اور متحدہ عرب امارات کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بات چیت کے لئے نئی دہلی میں ہے۔ اس بات چیت کا مقصد دو فریقی اقتصادی تعلقات کو بہتر بنانا ہے، جس میں موجودہ تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو وسعت شامل ہے۔ سی ای پی اے بات چیت کا پہلا دور 23-24 ستمبر 2021 کو ہوگا۔

جامع اسٹریٹیجک شراکت داری معاہدہ جس پر 2017 میں دستخط کئے گئے تھے، کے تحت دونوں ملکوں کے ذریعے کی گئی پیش رفت کی بنیاد پر، دونوں وزراء نے ایک باہم مفید اقتصادی معاہدے تک پہنچنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ دونوں فریقوں کا ہدف دسمبر 2021 تک بات چیت کو مکمل کرنا اور داخلی قانونی پروسیجر اور توثیق کی تکمیل کے بعد مارچ 2022 میں ایک رسمی معاہدے پر دستخط کرنے کا ہوگا۔

دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ سی ای پی اے سے نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، معیار زندگی میں بہتری آئے گی اور دونوں ملکوں میں وسیع تر سماجی و اقتصادی مواقع دستیاب ہوں گے۔ ایک نئے اسٹریٹیجک اقتصادی معاہدے سے یہ توقع ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے پانچ برسوں کے اندر اشیاء کی تجارت بڑھ کر 100 بلین امریکی ڈالر  اور خدمات سے متعلق تجارت 15 بلین امریکی ڈالر کی ہوجائے گی۔

متحدہ عرب امارات فی الحال بھارت کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان 2019/2020 میں دو فریقی تجارت 59 بلین امریکی ڈالر کی ہوئی تھی۔ متحدہ عرب امارات، امریکہ کے بعد بھارت کی دوسری سب سے بڑی برآمداتی منزل ہے، جہاں 2019-20 میں تقریباً 29 بلین امریکی ڈالر کے بقدر کی برآمدات ہوئی تھیں۔ بھارت 2019 میں متحدہ عرب امارات کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا تھا۔ اس سال  تیل کو چھوڑکر دو فریقی تجارت 41 بلین امریکی ڈالر کے بقدر ہوئی تھی۔ متحدہ عرب امارات بھارت میں آٹھواں سب سے بڑا سرمایہ کاری کرنے والا ملک ہے، جس نے اپریل 2000 سے لے کر مارچ 2021 کے دوران 11 بلین امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جبکہ بھارتی کمپنیوں کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں کی گئی سرمایہ کاری کا تخمینہ 85 بلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے۔

بھارت سے متحدہ عرب امارات کو برآمد کی جانے والی اہم اشیاء میں پٹرولیم مصنوعات، قیمتی دھات، پتھر، جواہرات اور جیولری، معدنیات، خوردنی اشیاء جیسے کہ اناج، چینی، پھل و سبزیاں، چائے، گوشت اور سی فوڈ، ٹیکسٹائلس، انجینئرنگ اور مشینری مصنوعات اور کیمیاجات شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات سے بھارت میں درآمد کی جانے والی اہم چیزوں میں پٹرولیم مصنوعات، قیمتی دھات، پتھر، جواہرات اور جویلری، معدنیات، کیمیاجات اور لکڑی و لکڑی سے تیار مصنوعات شامل ہیں۔ بھارت نے 2019-20 میں متحدہ عرب امارات سے 10.9 بلین امریکی ڈالر کا خام تیل درآمد کیا جاتا تھا۔

نئی دہلی میں میٹنگ کے دوران جناب گوئل نے کووڈ-19 کی وبا کے دوران تعاون بالخصوص طبی آکسیجن اور دوائیں سپلائی کرنے کے لئے متحدہ عرب امارات کی زبردست ستائش کی۔ اپنی جانب سے ڈاکٹر الزیودی نے بھی وبا کے دوران تعاون کے لئے بھارت سرکار کا شکریہ ادا کیا، اس تعاون میں سپلائی چین کو کھلا رکھنا شامل ہے۔

ایک ساتھ کام کرنے کے تئیں اپنی عہد بستگی کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں وزراء نے ضابطوں پر مبنی، شفاف، غیرامتیازی، کھلی اور شمولیت پر مبنی کثیر جہتی تجارتی نظام کو مضبوط کرنے پر اتفاق کیا، جیسا کہ عالمی تجارتی تنظیم کے ذریعے متشکل کیا گیا ہے۔ انھوں نے سوئٹزرلینڈ کے جنیوا میں ہونے والی بارہویں ڈبلیو ٹی او وزارتی کانفرنس (ایم سی 12) کے متوازن اور شمولیت پر مبنی نتائج کی سمت میں کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

جناب گوئل نے یکم اکتوبر 2021 سے شروع ہونے والے ایکسپو 2020 دبئی کے تئیں بھارت کی نیک خواہشات پیش کیں اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ بھارت کی حصے داری سے دو فریقی تجارت اور سرمایہ کاری کو تقویت دینے میں مدد ملے گی۔ انھوں نے اس بات کی توثیق بھی کی کہ وہ ابوظہبی ایگزیکٹیو کونسل کے رکن عالی جناب شیخ حامد بن زائد النہیان کے ساتھ سرمایہ کاری سے متعلق نویں یو اے ای- بھارت اعلیٰ سطحی مشترکہ ٹاسک فورس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔

دونوں وزراء نے تال میل اور تجارت کو بہتر بنانے سے متعلق اقدامات کے سلسلے میں تعاون کے لئے دونوں ملکوں کے دوران جنوری 2017 میں دستخط شدہ میمورنڈم آف انڈر اسٹینڈنگ کے فریم ورک کے تحت باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ جیسا کہ معاہدہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک ایسے واضح شعبوں کی نشان دہی کریں گے جن پر توجہ مرکوز کی جاسکے اور تجارت کو بہتر بنانے سے متعلق مسائل کو حل کرنے کے لئے مل کر کام کرنے کے طریقے وضع کریں۔

دونوں وزراء نے اس بات پر زور دیا کہ سی ای پی اے مذاکرات کی فوری اور تعمیری تکمیل دونوں ملکوں کے درمیان گہرے تجارتی و اقتصادی رشتوں کو مزید مضبوط کرے گی۔

 

 

******

ش ح۔ م م۔ م ر

U-NO. 9285

 



(Release ID: 1757130) Visitor Counter : 136


Read this release in: English , Hindi