دیہی ترقیات کی وزارت
کووڈ -19عالمی وبا کے دوران دیہی معیشت کو فروغ دینے کی غرض سے حکومت کے ذریعہ کئے گئے اقدامات
غریب کلیان روزگار ابھیان کے دوران 39.293کروڑروپے کے اخراجات سے 50.78 کروڑ کام کے دن کا روزگار پیدا کیا گیا
پی ایم اے وائی –جی کے تحت کُل 5618.19کروڑروپے کے اخراجات سے کُل 770522 مکانات کی منظوری دی گئی اور481210 مکانات مکمل کئے گئے
प्रविष्टि तिथि:
06 AUG 2021 6:00PM by PIB Delhi
نئی دہلی09 اگست2021: وزارت خزانہ ، حکومت ہند نے پردھان منتری غریب کلیان یوجنا( پی ایم جی کے اے وائی ) کے تحت 26 مارچ 2020 کو غریب عوام کی کورونا وائرس کے خلاف ان کی لڑائی میں مدد کرنے کی غرض سے ایک راحتی پیکج کا اعلان کیا تھا۔ اس اعلان شدہ راحتی پیکج میں دوسری باتوں کے علاوہ درج ذیل بھی شامل ہیں۔
- جن دھن کھاتے والی خواتین کو تین ماہ کے لئے ( اپریل ، مئی اور جون 2020) 500 روپے ماہانہ کی یکمشت امداد ۔ اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے دیہی ترقی کی وزارت ( ایم او آر ڈی ) نے پی ایم جی کے اے وائی کے تحت 30944.9کروڑروپے منتقل کرنے میں سہولت پیدا کی جس سے پردھان منتری جن دھن یوجنا (پی ایم جے ڈی اے وائی ) کھاتے دار 20.64 کروڑخواتین کا فائدہ ہوا۔
- سماجی امدا د سے متعلق قومی پروگرام ( این ایس اے پی )کی اسکیموں کے مستفیدین بزرگ ،بیواؤں اور معذور ،دویانگ افراد کو پانچ پانچ سو روپے کی دوقسطوں میں 1000 روپے کی امداد ۔ این ایس اے پی اسکیموں کے موجودہ 282 لاکھ مستفیدین کے لئے پی ایم جی کے اے وائی کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو اپریل اور مئی 2020 میں دو قسطوں میں امداد کے طورپر کُل 2814.50 کروڑروپے جاری کئے گئے ۔
- مہاتما گاندھی قومی دیہی روز گار گارنٹی قانون (مہاتما گاندھی این آر ای جی اے )کے اجرتوں کی شرح میں یکم اپریل 2020 کو نظرثانی کی گئی اور 20-2019 کی اجرتو ں کی اوسط شرحوں کو بیس روپے سے زیادہ کا اضافہ کیا گیا۔اس کے علاوہ حکومت ہند نے 20 جون 2020 کو 125دن کے غریب کلیان روزگار ابھیان (جی کے آر اے ) کے نام سے معروف ایک مہم کا آغاز کیا تھاتاکہ کووڈ-19 عالمی وبا کے پیش نظر اپنے اپنے گھرلوٹنے والے مائیگرینٹ کارکنوں اور اسی طرح دیہی علاقوں میں متاثر ہونےوالے شہریوں کے لئے روزگار اور ذریعہ معاش کے مواقع کو فروغ دیاجاسکے ۔اس ابھیان کا مقصد چھ ریاستوں بہار ، جھارکھنڈ ، مدھیہ پردیش ، اوڈیشہ ،راجستھان اور اترپردیش کے منتخبہ 116 ضلعوں میں پریشانی سے دو چار لوگوں کو فوری طور پر روزگار اور ذریعہ معاش کے مواقع فراہم کرانا اور گاؤوں میں عوامی بنیادی ڈھانچہ اور ذریعہ معاش سے متعلق اثاثے تیار کرنا ہے تاکہ آمدنی کے مواقع پیدا کرنے سے متعلق سرگرمیوں کو تقویت فراہم کی جاسکے اور مختلف 25 کاموں پر توجہ مرکوز کرکے طویل مدتی ذریعہ معاش کے مواقع میں اضافہ کیا جاسکے ۔ یہ ابھیان ، مرکزی حکومت کی 12 وزارتوں اور محکموں کے ذریعہ جاری اسکیموں کے ارتکاز سے متعلق ایک کوشش ہے۔
دیہی ترقی کی وزارت ایم او آر ڈی کی 4 اسکیموں یعنی مہاتما گاندھی دیہی روزگار گانٹی اسکیم ( مہاتما گاندھی این آر ای جی ایس ) ، پردھان منتری آواس یوجنا ۔ گرامین ( پی ایم اے وائی – جی )، مشن ( ایس پی ایم آر ایم ) کو جی کے آر اے کے تحت نشاندہی کی گئی ہے۔
اس سلسلے میں حصولیابیاں درج ذیل ہیں:
- ابھیان کے دوران 39293 کروڑروپے کے اخراجات سے کُل 50.78 کروڑافرادی دن کے بقد ر روز گار فراہم کیا گیا۔
- پی ایم اے وائی – جی ) کے تحت کُل 5618.19 کروڑروپے کے اخراجات کے ساتھ کُل 770522 مکانات کی منظوری دی گئی اور 481210 مکانات مکمل کئے گئے۔
- پی ایم جی ایس وائی کے تحت 2902 کروڑروپے کے ہدف کے مقابلے ، پورے ملک میں 30 نومبر 2020 تک 1529 کروڑروپے کے اخراجات کئے گئے
- ایس پی ایم آر ایم کے تحت ان 6 ریاستوں میں 47 روربن کلسٹر س پر مشتمل 42 ضلعوں کا احاطہ کیا گیا ہے اور جی کے آر اے پر عمل درآمد کے آخر تک 693.55 کروڑروپے کے اخراجات کے ساتھ 13494 کام مکمل کئے گئے ۔کووڈ -19 عالمی وبا کے دوران دیہی ترقی کی وزارت ایم او آر ڈی کے ذریعہ مختلف اسکیموں کے تحت کئے گئے دیگر بڑے اقدامات درج ذیل ہیں:
1۔ مہاتما گاندھی این اار ای جی ایس ، جو مانگ پیدا کرکے اجرت کے روزگار سے متعلق پروگرام ہے، ہردیہی کنبے کو ،جس کے بالغ افراد رضاکارانہ طورپر غیر ہنرمند والے جسمانی کام کرتے ہوں ، ہر مالی سال میں ضمانت شدہ مزدوری روزگار کے کم از کم ایک سودن کا روزگار فراہم کیا جاتا ہے۔مالی سال 21-2020 کے دوران فراہم کئے گئے روزگار سے 47فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 21-2020 کے دوران کُل 1.89 کروڑنئے جاب کارڈ جاری کئے گئے ہیں اور کُل 7.55 کروڑکنبوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے جوکہ گزشتہ مالی سال کے دوران فراہم کئے گئے روزگار سے 38فیصد زیادہ ہے۔ 21-2020 کے دوران (3اگست 2021 تک ) کُل 54.8 لاکھ جاب کارڈ جاری کئے گئے ہیں اور 4.89 کروڑکنبوں کو روزگار فراہم کیا گیا ہے۔ مالی سال 21-2020 کے دوران 1,11,170.86 کروڑروپے جاری کئے گئے ہیں اور رواں مالی سال 21-2020 کے دوران (02اگست 2021 تک )اس اسکیم کے تحت 46,152.82 کروڑروپے کی رقم جاری کی گئی ۔
2- پی ایم اے وائی – جی کا مقصد ،2022 تک سبھی کے لئے گھر کے مقصد کے حصول کی غرض سے بنیادی سہولیات سے لیس 2.95 کروڑ پکے مکانات کی تعمیر کے لئے مستحق دیہی کنبوں کو مدد فراہم کرنا ہے۔ کووڈ -19 عالمی وبا کے دوران پی ایم اےوائی – جی کے تحت ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اہداف کو بروقت مختص کرنے کی غرض سے اقدامات کئے گئے مکانات کی تعمیر کے لئے خاطر خواہ فنڈ کا بندوبست کیا گیا اور ماحولیات کے لئے سازگار اور اختراعی ٹکنالوجیز کو فروغ دیا گیا اور دیہی علاقوں میں بے زمین مستفیدین کو زمین فراہم کرنے سے متعلق بندوبست کو یقینی بنانے کے مقصدسے ریاستوں کے ساتھ تال میل قائم کیا گیا۔
3- پی ایم ج ایس وائی کا آغاز سال 2000 میں کیا گیا تھا اس یوجنا کو دیہی آبای کو بہترین معیار کی سڑکیں فراہم کرکے اور انہیں بنیادی خدمات تک رسائی فراہم کرکے دیہی علاقوں میں غربت کےخاتمے کی جانب ایک قدم کے طور پر شروع کیا گیا تھی۔ کووڈ۔19 مدت کے دوران دیہی معیشت کو فروغ دینے کے مقصد سے یکم اپریل 2020 سے 3 اگست 2021 تک پی ایم جی ایس وائی کے مختلف اقدامات کے تحت 4323 کروڑروپے مالیت کے 50,509 کلومیٹر طویل پُلوں کے پورے پاٹ (LSBs) کی تعمیر کی منظوری دی گئی ۔ اس کے علاوہ 28,835 کروڑروپے کے اخراجات سے 44,893 کلومیٹر پیمائش کے 7350 سڑک کے کام اور 1663 LSBs مکمل کئے گئے ہیں۔(ان میں ریاستوں کا حصہ بھی شامل ہے)
4-ایس پی ایم آر ایم کے تحت ، تمام روربن کلسٹر س میں اقتصادی ترقی اور روز گار پر مرکوزسرگرمیاں شروع کی گئی ہیں۔وزارت باقاعدگی سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں پر زوردیتی ہے کہ وہ اقتصادیات سے متعلق سرگرمیوں کے ساتھ اپنی روربن کلسٹر کی ترقی کو مرکزی توجہ والے شعبے کے طورپر ہم آہنگ کریں ۔ریاستوں کو کووڈ -19 عالمی وبا کی وجہ سے کلسٹر کے ڈی پی آر میں مجوزہ موجود ہ پروجیکٹوں ، کاموں میں جزوی اصلاح کرنے کے بارے میں ریاستوں کو ایک مشاورت جاری کی گئی ہے کہ وہ دیہی معیشت میں پھر سے نئی جان ڈالنے ، زمینی سطح پر کئے جارہے کاموں کی پیش رفت میں تیزی لانے اور مشن کی تیزی سے اور موثر طریقے سے عمل درآمد کی غرض سے فنڈ جاری کرنے سے متعلق شرائط میں نرمی کریں تاکہ زیادہ اقتصادی سرگرمیوں کو شامل کیا جاسکے ۔
5- دین دیال انتودیہ یوجنا – ذریعہ معاش سے متعلق مشن ( ڈی اے وائی – این آر ایل ایم ) کا مقصد، دیہی غریب خواتین کو خود اپنی مدد کرنے والے گروپوں ( ایس ایس جی ایس ) میں منظم کرکے ، جاری رکھنے کے لئے مسلسل ان کی مدد کرکے، غربت میں کمی کرنا ہے۔
سال 21-2020 اور 22-2021 کے دوران ( جون 2021 تک )دیہی ترقی کی وزارت نے ڈی اے وائی – این آر ایل ایم کے تحت خواتین کے طورپر اپنی مدد آپ کرنے والے گروپوں کو سہولت فراہم کی ہے اور انہیں اپنے موجودہ اقتصادی کام اور سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لئے سرمایہ کاری کی غرض سے باضابطہ بینکنگ نظام سے 92953 کروڑروپے کے قرض حاصل کرنے میں سہولت فراہم کی ہے تاکہ وہ نئے کاروبار شروع کرنے کے لئے نئے متعلقہ اثاثے حاصل کرسکیں۔
مالی سال 21-2020 اور 22-2021 کے دوران (جون 2021تک ) خود اپنی مدد کرنے والے گروپوں ( ایس این جی ) کو سرمایہ کاری سے متعلق کُل امدادی فنڈ کے تحت 4019.19 کروڑروپے فراہم کئے گئے ۔سال 21-2020 اور 22-2021 کے دورن (جون 2021 تک ) ڈی اے وائی – این آر ایل ایم کے تحت ایک ذیلی اسکیم ، اسٹارٹ اپ ویلیج اینٹر پرے نیورشپ پروگرام (ایس وی ای پی ) کے تحت 63,326 کاروباری اکائیاں قائم کی گئی ہیں۔
6- ڈی اے وائی – این آر ایل ایم کے تحتت ہنرمندی کے دو دیگر پروگرام ہیں ، جن کے نام ہیں دین دیال اپادھیائے گرامین کو شلیا یوجناب ( ڈی ڈی یو – جی کے وائی ) اور خود کے روگار کے لئے تربیت فراہم کرنے والے دیہی ادارے (RSETIs)ان کا مقصد مزدوری کے لئے یا خود کے روزگار کے لئے دیہی نونوجوانوں کو روزگار کے قابل بنانے کے عمل میں تیزی لانا ہے ۔ ڈی ڈی یو – جی کے وائی کے تحت ، مالی سال 21-2020 کے دوران کُل 33716 امیدواروں کو تربیت فراہم کی گئی اور 11015امیدوار وں کو روزگار کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔ آر ایس ای ٹی آئی کے تحت مالی سال 21-2020 کے دوران ، کُل 255,141 امیدواروں کو تربیت فراہم کی گئی ہے اور 185234 امیدواروںکو پہلے ہی روزگار فراہم ہوچکا ہے اور مالی سال 22-2021 کے دوران ( جون 2021تک ) کُل 13319 امیدواروں کو تربیت فراہم کی گئی جبکہ 19751 امیدواروں کو پہلے ہی روزگار فراہم ہوچکا ہے۔
دیہی ترقی کی مرکزی وزیر مملکت سادھوی نرنجن جیوتی نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں یہ جانکاری فراہم کی ۔
-------------
ش ح۔ع م ۔رم
U-7621
(रिलीज़ आईडी: 1744002)
आगंतुक पटल : 245
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English