زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت

زراعت کے شعبے میں خواتین کسانوں کی شراکت داری

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 19 MAR 2021 4:57PM by PIB Delhi

نئی دہلی:19،مارچ، 2021: زراعت اور کسانوں کی بہبود کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں اطلاع فراہم کی کہ زراعت اور کسانوں کی بہبود کی وزارت کے زراعت، امداد باہمی اور کسانوں کی بہبود کے محکمے (ڈی اے سی اینڈ ایف ڈبلیو) کے مستفیدین پر مبنی مختلف اسکیموں کے رہنما خطوط میں یہ بات کہی گئی ہے کہ ریاستیں اور دیگر تنفیضی ایجنسیاں خواتین کاشتکاروں پر کم سے کم 30فیصد اخراجات کریں گی۔ ان اسکیموں میں اصلاحات کی توسیع کیلئے ریاستی توسیع پروگراموں، قومی غذائی تحفظ مشن، تلہن اور آئل پام سے متعلق قومی مشن، پائیدار زراعت کیلئے قومی مشن، بیج اور پلانٹنگ میٹریل کے ذیلی مشن، زرعی میکینائزیشن سے متعلق ذیلی مشن اور باغبانی کی مربوط ترقی کیلئے مشن کو تعاون فراہم کرنا  شامل ہے۔

محکمہ برائے دیہی ترقیات، وزارت برائے دیہی ترقیات نے ڈی اے وائی – این آر ایل ایم (دین دیال انتودے یوجنا- قومی دیہی ذریعہ معاش مشن)کے ذیلی جزو کے طور پر مہیلا کسان سشکتی کرن پری یوجنا (ایم کے ایس پی) کے نام سے ایک خصوصی اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ اس اسکیم کا نفاذ 2011 سے کیاجارہا ہے تاکہ خواتین کو بااختیار بنایا جاسکے اور ان کی شراکت داری اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوسکے اور دیہی خواتین کیلئے پائیدار ذریعہ معاش پیدا کیاجاسکے۔ اس پروگرام کو پروجیکٹ تنفیضی ایجنسیوں کے طور پر ریاستی دیہی روزگار ذریعہ معاش مشن (ایس آر ایل ایم) کے ذریعے پروجیکٹ بورڈ میں نافذ کیا جارہا ہے۔

 

********

ش ح۔م ع۔ ع ن

U NO: 2829


(ریلیز آئی ڈی: 1706404) وزیٹر کاؤنٹر : 132
یہ ریلیز پڑھیں: English