امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت

خریف مارکیٹنگ سیزن 21-2020 کے دوران کم سے کم امدادی قیمت (ایم  ایس پی)کی کارروائیاں


کے ایم ایس خریداری عمل کے تحت112207.50 کروڑ روپے کی ایم ایس پی مالیت کے دھان کی خریداری سے تقریباً86.36لاکھ دھان کے کسانوں کو فائدہ پہنچا ہے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 29 JAN 2021 4:49PM by PIB Delhi

جاری خریف مارکیٹنگ سیزن (کے ایم ایس) 21-2020 کے دوران، حکومت نے موجودہ کم سے کم امدادی قیمت ( ایم ایس پی) اسکیموں کے مطابق کسانوں سے ایم ایس پی پرخریف سیزن 21-2020 فصلوں کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہے۔

خریف 21-2020 کے لئے دھان کی خریداری پنجاب، ہریانہ، اترپردیش، تلنگانہ، اتراکھنڈ، تمل ناڈو، چنڈی گڑھ، جموں و کشمیر، کیرالہ، گجرات، آندھراپردیش، چھتیس گڑھ، اڈیشہ، مدھیہ پردیش، مہاراشٹر ،بہار،جھارکھنڈ، آسام، کرناٹک اور مغربی بنگال جیسی ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بلا روک ٹوک سے جاری ہے۔ اس سال 28 جنوری 2021  تک594.31لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ دھان کی خریداری کی جاچکی ہے۔ گذشتہ سال کے498.83 لاکھمیٹرک ٹن کے مقابلےدھان کی خریداری میں 19.14 فیصد کا اضافہ  درج کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر594.31لاکھ میٹرک ٹن کی خریداری میں صرف پنجاب نے 202.77 لاکھ میٹرک ٹن کی خریداری کی ہے، جو مجموعی خریداری کا34.11فیصد ہے۔

1.JPG

کل112207.50کروڑ روپے کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی مالیت کے ساتھ جاری خریف مارکیٹنگ سیزن کے دوران خریداری کے عمل  سے تقریباً86.36لاکھ کسانوں کو  پہلے ہی فائدہ ہوچکا ہے۔

2.JPG

اس کے علاوہ،خریف مارکیٹنگ سیزن 2020 کیلئےریاستوں سے ملنے والی تجاویز کی بنیاد پرتمل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، تلنگانہ، گجرات، ہریانہ، اترپردیش، اڈیشہ، راجستھان اور آندھراپردیش ریاستوں کیلئے امدای قیمت اسکیم (پی ایس ایس) کے تحت51.92 لاکھ میٹرک ٹن دالیں اور تلہن کی خریداری کے لئے منظوری دی گئی تھی۔ مزید برآں آندھراپردیش، کرناٹک، تمل ناڈو اور کیرالہ  ریاستوں کے لئے 1.23 لاکھ میٹرک ٹن کھوپرا (بارہ ماسی فصل) کی خریداری کو بھی منظوری دی گئی ہے۔اس کے علاوہ گجرات اور تمل ناڈو ریاستوں کیلئے  مارکیٹنگ سیزن 21-2020   کی ربیع فصلوں کی 2.50 لاکھ میٹرک ٹن دالوں اور تلہن کی خریداری کو بھی منظوری دی گئی ہے۔دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لئے بھی  پی ایس ایس کے تحت تجویز موصول ہوجانے پر دالوں ، تلہن اور کھوپرا کی خریداری کو منظوری دی جائے گی، تاکہ سال 21-2020 کے لئے  اندراج شدہ کسانوں سےبراہ راست نوٹیفائیڈ ایم ایس پی پر ان فصلوں کی ایف  اےکیو گریڈ کی خرید اری کی جاسکے۔ البتہ اگر مارکیٹ کے ریٹ سے کٹائی کی مدت کے دوران متعلقہ ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایم ایس پی سے کم ہوتے ہیں، تو فصلوں کی خریداری، ریاست کی نامزد خریداری ایجنسیوں کے توسط سے مرکزی نوڈل ایجنسیوں کے ذریعے کی جائے گی۔

28 جنوری 2021 تک حکومت نے اپنی نوڈل ایجنسیوں کے توسط سے1628.77کروڑ روپے کی ایم ایس پی قدر والی مونگ، اڑد، مونگ پھلی اور سویابین کی303252.73 میٹرک ٹن کی  خریداری کی ہےجس سے تمل ناڈو، مہاراشٹر، گجرات، ہریانہ  اور راجستھان کے163571کسانوں کو فائدہ ہوا ہے۔

اسی طرح28 جنوری 2021  تک52.40 کروڑ روپے کے ایم یس پی قدر پر 5089 میٹرک ٹن کھوپرا(بارہ ماسی فصل) کی خریداری کی گئی ہے، جس سے کرناٹک اور تمل ناڈو کے 3961 کسان مستفید ہوئے ہیں۔ جہاں تک کھوپرا اور اڑد کا تعلق ہے، ان کے ریٹ زیادہ تر بڑی پیداوار ی ریاستوں میں ایم ایس پی سے زیادہ ہیں۔  متعلقہ ریاستیں نیز مرکز کے زیر انتظام علاقوں  کی حکومتیں  طے شدہ تاریخ سے خریداری شروع کررہی ہیں، جس کا فیصلہ خریف کی فصل دالیں اور تلہن کے سلسلےمیں آمد کی بنیاد پر متعلقہ ریاستوں کے ذریعے کیا گیا ہے۔

3.JPG

پنجاب، ہریانہ، راجستھان، مدھیہ پردیش،  مہاراشٹر، گجرات،تلنگانہ، آندھراپردیش، اڈیشہ اور کرناٹک  ریاستوں میں ایم ایس پی کے تحت کپاس کے بیج (کپاس) کی خریداری کا عملبلا روک ٹوک جاری ہے۔28 جنوری 2021تک8928325کپاس کی گانٹھوں کی خریداری کی گئی ، جن کی قیمت 26113.77کروڑ روپے ہے، اس سے1835728 کسانوں کو فائدہ ہوا ہے۔

4.JPG

 

*****

ش ح۔ ن ر (30.01.2021)

U NO: 975

 


(ریلیز آئی ڈی: 1693561) وزیٹر کاؤنٹر : 136
یہ ریلیز پڑھیں: English , हिन्दी , Manipuri