الیکٹرانکس اور اطلاعات تکنالوجی کی وزارت
بہترپڑھائی کے لئے اے آئی کے توسط سے ذاتی تعلیم کی فراہمی
عظیم الشان عالمی اجلاس کے چوتھے روزایک ذمہ داراے آئی کا موضوع چھایارہا
اے آئی کے ماہرین نے ذمہ داراے آئی کے قیام کی ضرورت اوراے آئی تعلیم کے نتائج میں بہتری لانے پرتفصیلی گفتگوکی
ہندوستان کی پائیدارترقی کے نشانے کو پوراکرنے میں اے آئی کے رول پربھی سیرحاصل گفتگو
اے آئی کے لئے ایک ایکونظام وضع کرنے کے سلسلے میں تلنگانہ حکومت کی حصولیابیوں کی جھلک ریاست میں پیش کی گئی ، ریاست کا مقصد یہ ہے کہ حیدرآباد کو دنیا کے 25سرکردہ اے آئی اختراعی ہبس یامراکز میں سے ایک مرکز کے طورپرترقی دی جائے
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 OCT 2020 7:55PM by PIB Delhi
نئی دہلی ،9؍اکتوبر:سماجی اختیارات 2020کے لئے ذمہ داراے آئی ریز2020اجلاس کے چوتھے روز بڑے سماجی مسائل کو حل کرنے کے لئے اے آئی تحقیق میں تیزی لانے تعلیمی نتائج میں سدھارکے لئے اے آئی کو بااثربنانے اورہندوستان کے لئے کلی طورپر اے آئی کے مواقع جیسے موضوعات پر تفصیلی گفتگوہوئی ۔ پہلے اجلا س میں ڈاکٹرمنیش گپتا، ڈائرکٹرگوگل ریسرچ لیب نے سماجی ضروریات کے تناظرمیں اے آئی کی صلاحیت اوروسیع پیمانے پران سماجی ضروریات کا حل نکالنے جیسے موضوعات پر تفصیل سے گفتگوکی ۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ سیلاب سے بچاو کے انتباہ کو لے کر موسمیاتی پیش گوئی کے لئے اے آئی کا استعمال ہونے لگاہے ۔ علاوہ ازیں صحت کو لاحق خطرات جیسے اندھاپن، دل کو ہونے والے امراض ، ذیابیطس اورکینسرجیسی بیماریوں کا قبل از وقت پتہ لگانے میں بھی اس کا استعمال ہوسکتاہے ۔ انھوں نے کہاکہ اے آئی کی خصوصیات بہت ہیں اس لئے اس کو بہتربنانے اوراس کے استعمال میں تیزی لانے کی اشد ضرورت ہے ۔
اسی اجلاس میں وی پی آئی بی ایم کلاؤڈاینڈ کاگنیٹوسافٹ ویئر کے گوروشرمانے کہاکہ اقوام متحدہ کی حصولیابیوں میں اے آئی کا کامیابی کے ساتھ استعمال ہورہاہے ۔ پائیدارترقی کے نشانے کو پوراکرنے میں اے آئی پرمبنی حل کے تعلق سے عوام کو بیدارکرنے کی ضرورت ہے ۔ انھوں نے مزید کہاکہ ہندوستان میں اے آئی کے وسیع ترامکانات ہیں ۔ اورخلامیں ایک عالمی قائد کی حیثیت سے خود کو منوانے کے لئے ہمارے ملک کو اے آئی پرمبنی معاشرے میں تبدیل کیاجانا ازحدضروری ہے ۔ ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ اے آئی نظام کو محفوظ اورشفاف بنایاجائے ۔ساتھ ہی صارفین کے اعتماد کی حوصلہ افزائی کے لئے جواب دہی بھی مقررکی جائے ۔
اسی اجلاس میں ایک ایکونظام وضع کرنے کے سلسلے میں تلنگانہ حکومت حصولیابیوں کی ایک جھلک بھی پیش کی گئی ۔ آئندہ دہائی تک ریاستی حکومت حیدرآباد کو دنیا کے 25سرکردہ اے آئی اختراعی ہبس یامراکز میں سے ایک مرکز کے طورپر ترقی دینے کا منصوبہ تیارکیاہے ۔جناب جائش رنجن ، پرنسپل سکریٹری آئی ٹی ای سی محکمہ حکومت تلنگانہ نے اے آئی شعبہ میں تحقیق کو ترقی دینے کے حوالے سے ریاستی حکومت کے ذریعہ کی جارہی متعدد کوششوں کی تفصیل پیش کی ۔
اے آئی کو قابل قبول بنانے اوراختراعات کو فروغ دینے کے لئے شراکت داری کی ضرورت پر ہوئے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جناب بھاسکرگواتی صدر، اورچیف ڈیجیٹل آفیسر نوکیہ سافٹ ویئر نے کہاکہ اے آئی کو فروغ دینے کے تعلق یہ ضروری ہے کہ اختراعات اوراس شعبے میں خدمات وعام لوگوں کو جوڑنے کی مہم کو اولیت دی جائے ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے سوشل میڈیا کا حوالہ دیتے ہوئے اے آئی سے جوڑے خطرات سے بھی آگاہ کیا۔ اورکہاکہ وسیع پیمانے پر سوشل میڈیا کے استعمال سے دماغی اورجسمانی صحت واطمینان بخش زندگی پرمضراثرات مرتب ہوسکتے ہیں ۔
لوکلائزیشن اینڈ ایسیسبلٹی لیڈ مائیکروسافٹ کے جناب بالندوشرما نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔ انھوں نے اس شعبہ میں حکومت کے رول اوراے آئی تک رسائی میں اضافے کے تعلق سے گفتگوکی ۔ پڑھائی کے لئے اے آئی کے استعمال کے موضوع پر اے آئی فیلواور ڈائرکٹروسی ٹی او ۔آئی بی ایم اے آئی ایپس محترمہ شالنی کپور اورجناب پرکاش مالیہ وی پی سیلس مارکیٹنگ کمیونیکیشن گروپ اور ایم ڈی انٹیل نے سیرحاصل گفتگوکی ۔محترمہ کپورنے کہاکہ اس سلسلے میں تعلیم کی ضرورت میں تیزی سے اضافہ ہورہاہے ۔اس سے تعلیمی نتائج میں بھی بہتری آرہی ہے ۔ اے آئی ذاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ ابتدائی تعلیم کے ڈھانچے میں بہتری لانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے ۔ تاکہ انفرادی سطح پر لوگوں کی صلاحیتوں میں پیداہونے والے خلاء کوپرکیاجاسکے ۔ یونیسیف میں ہندوستان کی نمائندہ ڈاکٹریاسمین علی حق نے اے آئی میں ہونے والی اختراعات سے بچوں پرپڑنے والے اثرات پر گفتگوکی ۔ انھوں نے کہاکہ اے آئی شعبے میں ہونے والی اختراعات کا مرکز بچوں کی ضروریات ہونی چاہیئے ۔ ابتداہی میں اے آئی کے استعمال سے نوجوانوں کے دل ودماغ پر جو اثرات مرتب ہوں گے وہ دیرپااور مضبوط ہوں گے ۔ چنانچہ اے آئی لوگوں کی صلاحیتوں کو بہتربنانے اورلیبرمارکیٹ کی ضرورتوں کو پوراکرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے ۔
اجلاس کے آخرمیں تین نکات پر تفصیل سے گفتگوہوئی ۔ سویڈش بینکراور صنعت کار جناب مارکس ویلن برگ ، نیتی آیوگ کے سی او، جناب امیتابھ کانت نے جہاں یہ کہاکہ ہندوستان کے لئے اے آئی بہتراقتصادی مواقع فراہم کرسکتی ہے وہیں دوسری طرف محترمہ ریکھامینن چیئرمین اور ایم ڈی اسینچیوراورجناب ابھیشیک سنگھ صدراورسی ای او ، این ای جی ڈی نے اے آئی کو ذمہ داربنانے پر زوردیا۔ تیسری گرماگرم بحث میں جناب تلین کمار سی ای او، گورنمنٹ ای ۔مارکیٹ پلیس اورجناب سائبال چکرورتی ،ایم ڈی اینڈ پارٹنربی سی جی نے ای ۔مارکیٹ کے حوالے سے اے آئی کے رول پربحث کی ۔
ریز 2020 ، 5اکتوبر سے 9اکتوبر کے درمیان منعقد ہوا جس میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 77ہزار زائد لوگوں نے شرکت کی ۔ علاوہ ازیں 146ملکوں کے نمائندوں نے بھی اس اجلاس میں حصہ لیا۔ ہندوستان تکلنالوجی کی سطح پر اوراپنے ڈاٹاکی بنیاد پر عالمی سطح پر اے آئی کا مرکز بن سکتاہے ۔ ریز 2020ایک ایسا اجلاس ہے جس کے پلیٹ فارم سے ڈاٹاپرمبنی ماحولیات کو فروغ دینے میں بڑی مددمل سکتی ہے ۔ اور اس سے عالمی برادری کو اے آئی کو ترقی دینے میں بھی بڑی آسانی ہوسکتی ہے ۔ ریز2020اپنی نوعیت کا ایک ایسا اجلاس ہے جس سے ہندوستان میں سماجی طورپراصلاحات کا روڈ میپ تیارکیاجاسکتاہے ۔ لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ اے آئی کو ذمہ داربنانے کے ساتھ ساتھ اسے بااختیاربنایاجائے ۔ اس اجلاس کا انعقاد حکومت ہند نے وزارت الیکٹرانکس وانفارمیشن تکنالوجی اور نیتی آیوگ کے اشتراک سے کیاگیاہے ۔ اس اجلاس میں عالمی صنعتی شخصیتوں نے جہاں شرکت کی وہیں بڑے پیمانے پرحکومتوں کے نمائندوں اورپالیسی ساز اداروں کے افراد نے شرکت کی ۔ .
***************
)م ن۔ج ق ۔ ع آ)
U-6214
(ریلیز آئی ڈی: 1663071)
وزیٹر کاؤنٹر : 127