سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت

جے این سی اے ایس آر  کے سائنس دانوں نے غیر مکعب  والے لیٹس   میں  ڈی ایس ٹی کے استحکام والے  سونے  کی  موثر معدنی  خصوصیات کو اجاگر کیا

Posted On: 25 SEP 2020 9:00PM by PIB Delhi

 

نئی دلّی ،26 ستمبر / سونا  زندگ آلود نہ ہونے کی  اپنی  خصوصیت  کی وجہ سے   زیورات اور صنعتی استعمال کے لئے  ہمیشہ   سے مقبول  دھات رہی ہے ۔  اے یو  کی منفرد خصوصیت    کرسٹل اسٹرکچر  کے ایٹمی  بندوبست میں خاص مقام رکھتی ہے ، جسے تکنیکی طور پر    فیس سینٹرڈ کیوبک لیٹس  ( ایف سی سی ) کہا جاتا ہے ۔ 

سائنس دانوں نے  سب سے مستحکم   ایف سی سی لیٹس   میں تبدیلی کرکے  سونے کی  خصوصیات  میں   ایک نئی خصوصیت پیدا کی ہے اور اسے  ایک نیا اوتار دیا ہے ، جس سے صنعت کے لئے  سونے پر مبنی کیٹالائسس  کا استعمال  کیا جا سکتا ہے ۔

     جے این سی اے ایس آر  کے پروفیسر   جی یو کلکرنی کی قیادت میں ایک ٹیم  نے  جمیٹریکل  اشکال   میں دی گئی  مائکرو کرسٹل  کی شکل میں کم سمٹری والی لیٹس   پر مشتمل    مرکب  لیٹس میں اے یو  کو مستحکم کیا ہے ۔  روایتی ایف سی سی  سونے کے برعکس یہ  بہت  باریک کرسٹل   اپنی  کیٹالائٹک  سرگرمیوں میں زیادہ موثر ہیں ۔  اس کے علاوہ ،  یہ کرسٹل  روایتی   ایف سی سی اے یو میں  مرکری اور ایکوا ریگیا  سے زیادہ بہتر طور پر کام کرتے ہیں ۔  یہ اے یو کرسٹل   ہمارے روز مرہ کے استعمال ہونے والے  کرسٹلس کے   بالکل مختلف انداز میں کام کرتے ہیں  اور اس کا سہرا  غیر روایتی لیٹس  کے سر جاتا ہے ۔

     اے سی ایس نینو   جرنل  میں شائع اس تحقیق کی حکومتِ ہند   کے سائنس اینڈ ٹیکنا لوجی کے محکمے  نے بھی حمایت کی ہے    ،  بشرطیکہ   یہ  انڈیا ایٹ ڈیزی   اشتراک اور   یوروپی یونین کے  ہورائزن  - 2020 تحقیق اور  نینو سائنس   فاؤنڈریز اینڈ فائن  اینا لیسز   ( این  ایف ایف اے ) کے اختراعی پروگرام   کی تکنیکی    سپورٹ  کے حامل ہوں ۔ 

     اس کام میں  کولکاتہ کے  ایس آئی این پی کے پروفیسر  ایم کے سانیال  نے جے این سی اے ایس آر کی ٹیم  میں شرکت کی اور    نینو  بیم تکنیک   کے ساتھ  ایکسرے مائکرو اسکوپی  تکنیک  ( ایس ایکس  ڈی ایم )  کو استعمال کیا  ، جس سے   کوئی  ٹکڑے کرنے والی تکنیک کو استعمال کئے بغیر مختلف لیٹسز کو   کرسٹل کی شکل میں تقسیم کرنے    والی جرمنی کی پیٹرا III  کے لئے استعمال کیا گیا ۔

     اس مطالعے سے کئی حیرت انگیز چیزیں سامنے آئی ہیں ۔ کرسٹل کا مرکزی حصہ    نچلی سیمٹری لیٹس   سے مالا مال ہوتا ہے ، جب کہ  یہ ایف سی سی مالا مال   ٹپ کے ساتھ بند ہوتا ہے ۔ 

پبلیکشن اشاعت کا لنک  /https://doi.org/10.1021/acsnano.0c02031

مزید تفصیل کے لئے    ، اس ریسرچ کی  شریک مصنف  محترمہ چیتالی سو   ( پی ایچ ڈی  طالب علم ، جے این سی اے ایس آر ) سے    chaitali@jncasr.ac.in  پر رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

( م ن ۔ و ا ۔ ع ا ) (26-09-2020)

U. No.  5866

 



(Release ID: 1659328) Visitor Counter : 140


Read this release in: English