اقلیتی امور کی وزارتت

مرکزی وقف بورڈ ؍ کونسل کے کام کاج

प्रविष्टि तिथि: 19 MAR 2020 4:29PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،19؍مارچ،مرکزی وقف کونسل (سی ڈبلیو سی)   اوقاف  اور وقف بورڈوں  کے انتظامیہ  سے متعلق  امور پر مرکزی حکومت ، ریاستی حکومتوں اور ریاستی وقف بورڈوں  کو  مشورہ دینے والا ایک  اہم ادارہ  ہے۔ سی ڈبلیو سی  وقف قانون 1995 کی دفع  9 (4)  کے تحت  وقف بورڈوں کو ہدایات بھی جاری کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ  یہ  وقف سے متعلق  حکومت کی کچھ اسکیموں کو نافذ کررہا ہے۔

 سی ڈبلیو سی کے کام کاج کی  مختصر تفصیلات  مندرجہ ذیل ہیں:

  1. ریاستی وقف بورڈوں  کے کام کاج کی نگرانی کرنا  تاکہ ان  کے مؤثر کام کاج کو یقینی بنایا جاسکے۔۔
  2. ریاستی وقف بورڈوں کو  اُن کی مالی کارکردگی ،  سروے ، وقف  معاہدوں  کو برقرار رکھنے ، ریوینیو کے ریکارڈ ،  وقف املاک  پر ناجائز قبضے ، سالانہ رپورٹ  اور  آڈٹ رپورٹ  سے متعلق  امور پر ہدایات جاری کرنا۔
  3. مرکزی حکومت ، ریاستی حکومتوں ، ریاستی وقف بورڈوں  کو  بورڈس کی کار کردگی اور  اوقاف کے درست انتظام  سے متعلق  امور پر  مشورہ فراہم کرنا۔
  4. وقف املاک کو  تجارتی مقاصد کے لئے  فروغ دینے کی خاطر  وقف اداروں ؍  وقف بورڈوں  کو  سود  کے بغیر  قرض  کی فراہمی  کے لئے  شہری وقف سمپتی  وکاس یوجنا  اسکیم کو نافذ کرنا۔
  5. وقف املاک  کے ریکارڈ کو کمپیوٹر کے منسلک کرنے یا ڈیجیٹل بنانے اور  وقف بورڈوں کو  مؤثر یقینی بنانےکی خاطر  ریاستی   ؍ مرکز کے زیر انتظام وقف بورڈ کو  مزید فنڈ کی دستیابی کے لئے قومی وقف بورڈ ترقیاتی اسکیم  کو نافذ کرنا۔
  6. وقف قانون 1995 کے تحت  ریاستی وقف بورڈوں کی کارکردگی  کے بارے میں ریاستی حکومتوں ؍ وقف بورڈوں سے معلومات  طلب کرنا۔

حج کمیٹی قانون  2002 کے مطابق حج کمیٹی  کے فرائض مندرجہ ذیل ہیں:

  1. حج زائرین کے لئے  کار آمد معلومات یکجا کرنا اور  انہیں زائرین تک پہنچانا  اور  حج زائرین کے لئے  تربیتی پروگرام  کا بندوبست کرنا۔
  2. زائرین کو  بھارت میں سفر کی روانگی کے ان کے مقامات  پر قیام  کے دوران  امداد اور  مشورہ فراہم کرنا اور  انہیں  ٹیکہ کاری اور طبی جانچ وغیرہ کے معاملے ،  زائرین کے لئے  پاس  کے اجراء ، زر مبادلہ کی فراہمی  اور  دیگر معاملات میں  مقامی حکام کے ساتھ  تال میل پیدا کرنا۔
  3. پریشانی میں مبتلا زائرین کو راحت فراہم کرنا۔
  4. مرکزی حکومت کی منظوری کے ساتھ سالانہ حج منصوبے  کو قطعی شکل دینا اور  فضائی سفر  یا دیگر طریقوں  سے سفر  سمیت  منصوبے پر عمل در آمد کرنا اور زائرین کو ان کی رہائش سے متعلق مشورہ فراہم کرنا۔
  5. کمیٹی کے بجٹ تخمینے کو منظور کرنا اور اسے مالی سال شروع ہونے  سے کم از کم تین ماہ پہلے اس کی منظوری کے لئے مرکزی حکومت کو پیش کرنا۔
  6. زائرین کے لئے سفر کی سہولیات کی فراہمی  کی خاطر  مرکزی حکومت ، ریلوے ، ایئر ویز  اور  ٹریول ایجنسیوں کے ساتھ تال میل کرنا۔
  7. کمیٹی کے ان تمام کاموں کی اشاعت کرنا جو  زائرین کے مفاد میں ہیں یا جنہیں کمیٹی کی جانب سے ضابطوں میں شامل کیا گیا ہے۔
  8. مرکزی حکومت کی طرف سے تفویض کئے گئے حج سے متعلق دیگر فرائض انجام دینا۔

وزارت کی کسی بھی اسکیم کے تحت  جموں وکشمیر کے اونتی پورہ میں اسلامک یونیورسٹی  آف سائنس  اینڈ ٹیکنالوجی کے لئے کوئی رقم  ؍ فنڈ  ؍ وظیفے جاری نہیں کئے گئے ہیں۔

اقلیتی امور کے مرکزی وزیر جناب مختار عباس نقوی نے آج لوک سبھا میں  ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے مذکورہ بالا معلومات فراہم کیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۰۰۰۰۰۰۰۰

(م ن-وا- ق ر)

U-1355


(रिलीज़ आईडी: 1607218) आगंतुक पटल : 383
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English