زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود کی وزارت
جناب نریندر سنگھ تومر نے خواتین کے بین الاقوامی دن کے موقع پر ڈی ڈی کسان لائیو ٹی وی پروگرام میں اپنی مدد آپ گروپوں کی دیہی خواتین کے ساتھ بات کی
2022 تک 75 لاکھ اپنی مد د آپ گروپ بنانے کے لئے ابھی 14 لاکھ گروپوں کو جوڑے جانے کی ضرورت ہے: جناب تومر
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
08 MAR 2020 5:52PM by PIB Delhi
نئی دہلی 09 مارچ 2020 ۔زراعت اور کسانوں کی بہبود ،دیہی ترقی اور پنچایتی راج کے مرکزی وزیر جناب نریندر سنگھ تومر نے کہا ہے کہ خواتین کی شرکت کے بغیر بھارت دنیا کے ملکوں میں ایک ترقی یافتہ معیشت کے طور پر نہیں ابھر سکتا ۔ خواتین کے بین الاقوامی دن کے موقع پر آج خواتین کو بااختیار بنانے کے سلسلے میں ڈی ڈی کسان پر ایک رواں ٹی وی پروگرام پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک نئے بھارت کا ، وزیر اعظم نریندر مودی کا مشن ایک حقیقت میں اسی وقت بدل سکتا ہے ، جب اس میں خواتین کی شرکت بھی ہو، جو معیشت میں آبادی کا آدھا حصہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا خواتین نہ صرف تعلیمی بورڈ اور مقابلہ جاتی امتحانات میں سرفہرست ہیں بلکہ صنعت ،سائنسی اور تکنیکی تحقیق ، خلائی تحقیق اور نیوکلیائی پروگراموں ، پولیس اور مسلح فوجوں اور افسر شاہی جیسے مختلف شعبوں میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔

جناب تومر نے کہا کہ خواتین کے اپنی مدد آپ گروپ ( ایس ایچ جی ) غریبی کو ختم کرنے کے پروگراموں کا اہم ترین حصہ ہیں اور زراعت، تعاون اور کسانوں کی بہبود کے محکمے ، اور دیہی ترقی و پنجائتی راج کے محکموں کی پور ی توجہ خواتین کو راحت دینے پر مرکوز ہے ۔ انہوں نے کہا :’’ چونکہ سماج ، افراد کی بہ نسبت زیادہ موثر ہوسکتا ہے لہذا ایس ایچ جی کا رول تبدیلی لانے میں ترقیاتی عمل کے دوران نہایت اہم ہوتا ہے اور اس کی اہمیت تمام دیہی علاقوں میں ہوتی ہے ۔‘‘
جناب تومر نے کہا کہ حکومت ایس ایچ جی گروپوں کو گزر بسر کے مشن کے تحت آسان قرضوں کی فراہمی کی غرض سے بینکوں سے جوڑ نے کے لئے رقوم اورتربیت فراہم کررہی ہے اور دیہی ترقی کی وزارت نے ایس ایچ جی کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہ وہ بہتر کارکردگی پیش کرے ،انعامات بھی شروع کئے ہیں۔خواتین کو خودکفیل بنانے کے لئے پچھلے 6سا ل کےدوران ایس ایچ جی کو دو لاکھ 75 ہزار کروڑروپے سے زیادہ کا قرض د یا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی قومی ،دیہی روزگار گارنٹی اسکیم کے تحت 5 کروڑسے زیادہ لوگوں کو سالانہ طور پر روزگار دیا جاتا ہے اور ایم جی نریگا کے تحت ملازمین 55 فیصد خواتین ہیں ۔ یہاں تک کہ دین دیال اپادھیائے ، گرامین کوشلیہ یوجنا ( ڈی ڈی یو – جی کے وائی ) کے تحت 4لاکھ 66 ہزار خواتین سرگرم ہیں ۔

جناب تومر نے کہا کہ سورن جینتی گرام سوروزگار یوجناب ( ایس جی ایس وائی ) کی تشکیل نو کی گئی ہے اور اسے دین دیال اپادھیائے انتودیہ یوجنا (ڈی اے وائی ) – قومی ،دیہی گزر بسر مشن (آجیوکا ) ( این آر ایل ایم ) میں ضم کردیا گیا ہے ۔ اس مشن کے تحت حکومت کا مقصد تقریباََ 10 کروڑ دیہی غریب گھروں تک رسائی حاصل کرنا ہے ۔ سووچھ بھارت مشن ( ایس بی ایم ) کی وجہ سے ، پورے ملک میں 9 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ بیت الخلا کی تعمیر کے سبب خواتین کو وقار فراہم ہوا ہے اور ان کی سلامتی میں اضافہ ہوا ہے ۔
جناب تومر نے کہا کہ حکومت نہ صرف خواتین اور دیہی آبادی کی مدد کررہی ہے بلکہ انہیں سرکاری ای - مارکیٹ پلیس ( جی ای ایم ) جیسے پلیٹ فارم بھی فراہم کررہی ہے تاکہ ان کی مصنوعات کی بہتر قیمتیں مل سکیں ۔

دیہی خواتین جنہوں نے بھوپال ، بھوبنیشور ،حیدرآباد ، جے پور ، پٹنہ اور رانچی نیز دلی میں دوردرشن اسٹوڈیو میں بیٹھی ہوئی ہیں ان خواتین نے پروگرام کے دوران وزیرموصوف سے بات چیت کی ۔ انہوں نے اپنی کامیابیوں کی کہانیاں بیان کیں اور بتایا کہ کس طرح ایس ایچ جی سے انہیں خودکفیل ہونے میں مدد ملی نیز کبنے کی آمدنی بڑھانے میں تعاون ملا ۔ خاتون شرکا میں پشو سکھی ، کرشی سکھی ، بینک سکھی اور پوشن سکھی سمیت بہت سے کمیونٹی وسائل کے افراد سمیت خاتون شرکا کو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰
U-1115
(ریلیز آئی ڈی: 1605762)
وزیٹر کاؤنٹر : 118