نیتی آیوگ

مختلف شعبوں میں انوویشن کو آگے بڑھانے کیلئے اٹل انوویشن مشن کا وزارتوں کے ساتھ تال میل

Posted On: 05 FEB 2020 7:34PM by PIB Delhi

نئی  دہلی  06 فروری 2020 ۔بھارت میں   خوراک کو ڈبہ بند کرنے اور زرعی شعبے کے تمام ساجھیداروں کو  ایک ساتھ لانے کے ویژن سے نیتی آیوگ کے اٹل انوویشن مشن  ( اے آئی ایم ) نے کئی دنوںتک مظاہرے کے ذریعہ سمجھانے کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے، جس میں  اسٹارٹ اپس  بہت چھوٹی ،چھوٹی اور درمیانہ درجے کی صنعتوں ( ایم ایس ایم ایز ) صنعت کاروں  کارپوریٹ شراکتداروں  اور اس سے متعلق ماہرین کو  ایک ساتھ لایا جائے گا تاکہ  سرکاری فنڈ سے ہونے والی اختراعات کو اجاگر کیا جاسکے ۔

          اس طر ح کی  پہلی تقریب آج نئی دلی میں  اٹل  انکیوبیشن سینٹر ( اے آئی سی ) ، اینٹر پرینیور شپ  اینڈ منجمنٹ پراسس  انٹرنیشنل  ( ای ایم پی آئی ) بزنس اسکول میں منعقدہوئی ۔ یہ کام  خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوں کی وزارت اور زراعت  نیز کسانوںکی فلاح وبہبود کی وزارت کے تعاون سے انجام دیا گیا ۔

          مظاہرے کے ذریعہ سمجھانے  کے سلسلے جیسے قدم کا مقصد  زراعت اور کسانوں کی فلاح وبہبود کی وزارت نیز خوراک کو ڈبہ بند کرنے اور صنعتوں کی وزارت کے ذریعہ فراہم کردہ  فنڈ سے چلنے والی  ٹیکنالوجیوں   کو تجارتی بنانے  کے عمل کو فروغ دینا ہے ۔اس کا یہ بھی مقصد ہے کہ اختراعات کو بھارتی  ایم ایس ایم  ایز  صنعت  اور حکومت  کے فنڈ سے چلنے والی  تحقیقی صنعتوں  جیسے سیکٹروں  سے وابستہ کیا جائے ۔

          اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے نیتی آیوگ کے  اے آئی ایم کے مشن ڈائریکٹر جناب آر رمانن نے کہا :’’  ہمیں  یقین ہے کہ اس طرح کے اقدامات  کی بدولت ٹکنالوجیوں  کو تجربہ گاہوں سے نکال کر مارکیٹ تک پہنچانے اور ایک  معاون  ماحولیاتی نظام قائم کرنے میں مدد ملے گی۔نیتی آیوگ کا اے آئی ایم   بھارت کو دنیا کی  انوویشن راجدھانی بنانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔‘‘

          انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرے کے ذریعہ سمجھانے کے اس ابتدائی دن سے  ہماری کوشش یہ ہوگی کہ مختلف شعبوں میں  اختراعات  کو اجاگر کیا جائے  اور انہیں بڑھاوا دیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم ا س سلسلے میں وزارتوں  کےساتھ قریبی تعاون کے منتظر ہیں  ۔اس مقصد کے پیچھے  یہ خیال کارفرما ہے کہ حکومت  اسٹارٹ اپس کی بہتر طریقے پر مد د کرسکے ۔ کیونکہ  ہم دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں سے ایک ہیں  اس  لئے حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ملک میں  اختراعات اور صنعت کاری میں اضافے کو یقینی بنایا جائے ۔

          ملک  میں خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعت کو فروغ دینے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہوئے   خوراک کو ڈبہ بند کرنے کی صنعتوںکی وزارت کے جوائنٹ سکریٹر ی  جناب منہاج عالم نے کہا  خوراک کو ڈبہ بند کرنے کے عمل کو آگے بڑھانے کی بہت سخت ضرورت ہے کیونکہ بھارت کو خوراک کے دوبارہ استعمال کے معاملے میں زبردست نقصانات کا سامنا ہے ۔

          انہوں  نے کہا :’’  بھارت کو فصل کی کٹائی کے بعد کے عمل میں بہت سے مسائل کا سامنا ہے ،جن پر فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہماری وزارت نے سیفیٹ  لدھیانہ کے ذریعہ  ایک جائزے کا اہتمام کیا تھا ،جس سے پتہ چلا ہے کہ ہرسال تقریباََ  11 لاکھ کروڑخوراک کی مصنوعات ضائع ہوجاتی ہیں۔ ملک میں  ڈبہ بندی  کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے جو کہ اس وقت صرف  دس فیصد ہے جبکہ دوسرے ملکوں میں یہ 50فیصد ہے ۔ ہمیں اختراعات کی حوصلہ افزائی کرنی پڑے گی ،جس سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

          انہوں  نے مزید  کہا کہ وزارت  خوراک کو ڈبہ بند کرنے  کے یونٹ قائم کرنے کے لئے صنعت کاروں اور ایم ایس ایم ایز  کی حوصلہ افزائی کررہی ہے اور ان کی مدد کررہی ہے۔ انہوں  نے کہا کہ یہ کام  ارائز  اسکیم کے تحت  نیتی آیوگ کے اے آئی ایم کی مدد اور حمایت سے کیا جارہا ہے۔

          ایگری نوویٹ   انڈیا لمٹیڈ  کی سی ای او ڈاکٹر سدھا میسور نے بھی اس موقع  پر اظہار خیال کیا اور بھارت کی معیشت میں ٹکنالوجی کو  تجارتی شکل دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔

          اس موقع پر  حکومت کی مدد اور حمایت سے خوراک کو ڈبہ بندکرنے اور زراعت سے متعلق  30سے زیادہ  ٹکنالوجیوں کی نمائش کی گئی ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

 

U-592



(Release ID: 1602193) Visitor Counter : 11


Read this release in: English