بھاری صنعتوں کی وزارت

حصص کی فروخت فرم کی کار کردگی اور مجموعی پیداواریت میں اضافہ کرتی ہے اور دولت کی تشکیل کی صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے: اقتصادی جائزہ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 31 JAN 2020 3:49PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،31؍جنوری،خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ 20-2019  پیش کیا۔ سروے میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حصص کی  فروخت فرم کی  کارکردگی اور مجموعی پیداواریت کو بہتر بناتی ہے اور  دولت  تشکیل دینے کی اہلیت کو اجاگر کرتی ہے۔ اس کا  معیشت کے دوسرے سیکٹروں پر بھی  اثر پڑتا ہے۔ سروے میں اس بات کی وکالت کی گئی ہے کہ تیزی کے ساتھ سرمایہ کاری ، ترجیحی طور پر اسٹریٹجک فروخت کے ذریعے  زیادہ منافع بخش بنانے ، صلاحیت کو فروغ دینے، مسابقت میں اضافہ کرنے اور  سی پی ایس ایز  میں  مینجمنٹ میں پیشہ وارانہ مہارت کو فروغ دیتا ہے۔

 جائزے میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کلیدی اہمیت کے حامل حصص کی فروخت کے معاملے میں توجہ غیر اسٹریٹجک کاروبار  اور  سی پی ایس ایز  کی اقتصادی  اہلیت کو زیادہ سے زیادہ فعال بنانے کے لئے مرکوز کی جانی چاہئے۔ اس  کے نتیجے میں پونجی کو کسی دوسری جگہ استعمال کرنے ، خاص طور پر سڑکوں ، بجلی ، ترسیلی لائنیں، سیوج کا نظام ، آب پاشی کا نظام ، ریلوے اور شہری بنیادی ڈھانچے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ سرمایہ کاری اور عوامی  اثاثوں کے بندوبست کا  محکمہ ( ڈی آئی پی اے این) پہلے ہی  موجود ہے۔

 جائزے کے مطابق کابینہ نے  مختلف سی پی ایس ایز  میں  حصص کی فروخت کو اصولی طور پر منظوری دے دی ہے۔ اسے  ما لئے کے لئے  خالی جگہ تیار کرنے اور سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال میں مدد کرنا ہے۔

جائزے میں اس بات کو اجاگر کیا گیا ہے کہ 38 مختلف وزارتوں ؍  محکموں کے تحت 264 سی پی ایس ایز ہیں، ان میں سے  13 وزارتوں ؍ محکموں کے تحت 10  سی پی ایس ایز ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کئی سی پی ایس ایز  منافع  بخش ہیں۔ البتہ  سی پی ایس ایز نے عام طور پر صلاحیت سے کم کارکردگی  کا مظاہرہ کیا ہے اور  بی ایس ای ، سی پی ایس ایز انڈیکس کا  صرف  چار فیصد ریٹرن 2014- 2019 کے عرصے میں بی ایس ای سنکسیکس کا 38 فیصد رہا۔ کسی بھی نج کاری  یا  حصص کی فروخت کا پروگرام کا مقصد  حکومت کے حصص  کی قدر  کو زیادہ سے زیادہ بڑھانا ہونا چاہئے۔

جائزے میں  مشورہ دیا گیا ہے کہ حکومت اپنی  لسٹڈ سی پی ایس ایز کے حصص ایک علیحدہ کارپوریٹ ادارے کو منتقل کرسکتی ہے۔ یہ اکائی  ایک خو د مختار بورڈ کے ذریعے چلائی جاسکتی ہے اور  یہ  کچھ عرصے کے بعد ان سی پی ایس ایز  میں  حکومت کے حصص کی فروخت کی اجازت مل جائے گی۔ اس کے نتیجے میں حصص کے فروخت کے پروگرام میں پیشہ ورانہ مہارت اور خود مختاری پیدا ہوگی اور سی پی ایس ایز  کی اقتصادی سرگرمیوں میں بہتری آئے گی۔

جائزے میں کہا گیا ہے کہ نومبر 2019 میں  بھارت نے  ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں نج کاری کی اپنی سب سے بڑی مہم کا آغاز کیا۔ حکومت ہند کے پیڈ اپ شیئر کیپٹل کو منتخب مرکزی سیکٹر کی کمپنیوں ( سی پی ایس ایز) میں 51 فیصد سے کم کرنے کو منظوری دی ہے۔ نج کاری  سے  کارکردگی  میں اضافے کی جانچ  کرنے اور  اس بات کی جانچ کرنے کے لئے  کہ آیا  نج کاری کے فوائد  بھارت کے ضمن میں بہتر ہوں گے، جائزے میں 11  ایسی سی پی ایس ایز کا پہلے  اور بعد میں تجزیہ کیا  گیا ہے جن کے حصص 2000-1999 اور  04-2003 کے دوران فروخت کئے گئے ہیں۔

جائزے میں  ہر ایک  سی پی ایس ایز  کی کار کردگی میں تبدیلی کی بھی جانچ کی گئی ہے۔ اس میں ہر فرم کے لئے  نج کاری ؍ حصص کی فروخت کے بعد اور اس سے پہلے کے سال کے درمیان مالی علامات  میں  تبدیلی کا بھی مطالعہ کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

U-433


(ریلیز آئی ڈی: 1601362) وزیٹر کاؤنٹر : 106
یہ ریلیز پڑھیں: English