وزارت دفاع

وزارت دفاع کی خالی پڑی زمینوں پر غیرقانونی قبضے

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 04 DEC 2019 7:16PM by PIB Delhi

وزیرمملکت برائے دفاع جناب شریپد نائک نے لوک سبھا میں ڈاکٹر سوجے رادھاکرشنن وکھے پاٹل اور جناب دھیرشیل سمبھاجی راؤ مانے کے سوالات کے تحریری جواب میں بتایا کہ  وزارت دفاع نے دفاعی زمینوں پر ناجائز قبضوں کے بارے میں معلومات کے لیے ایک نظام پہلے سے ہی متعین کررکھا ہے اور اس سلسلے میں وقتاً فوقتاً اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں اور ان پر وقتاً فوقتاً کارروائی ہوتی رہتی ہے۔

31دسمبر 2018 تک  9622.807 ایکڑس دفاعی زمینوں پر ناجائز قبضوں کی معلومات حاصل ہوچکی ہے اور سرکار نے اس سلسلے میں ناجائز قبضوں کے تدارک کے لیے درج ذیل اقدامات کیے ہیں:

*        دفاعی زمینوں پر انتظام و انصرام کرنے والے متعلقہ ادارے ان زمینوں کی حفاظت، ان سے غیرقانونی قبضے ہٹانے اور اس کے استعمال کی منصوبہ بندی کے ذمہ دارہیں۔

*        اس کے ساتھ ہی  زمینوں کے ریکارڈ کی کمپیوٹر کاری اور ڈیجیٹل کاری کے ذریعے دفاعی زمینوں کے انتظامات کو مستحکم بنایا جائے گا، اس کے لیے دفاعی زمینوں کے سروے کیے جائیں گے۔ ان کی حدود کا ڈی مارکیشن یعنی تعین کیا جائے گا اور تصدیق کے ساتھ ساتھ ان دفاعی زمینوں کا محاسبہ کیا جائے گا۔

*        متعلقہ معاملے کے مطابق چیف ایگزیکیٹیو آفیسر سی ای او/ڈی ای او/اسٹیشن کمانڈر اپنے اپنے تحت آنے والی دفاعی زمینوں کی باقاعدگی سے نگرانی کے ذمہ دار ہوں گے۔

*        دفاعی زمینوں پر نئے غیرقانونی قبضوں پر نگاہ رکھنے، ان کا پتہ چلانے اور اس کی روک تھام کو یقینی بنانے کی غرض سے سرکارکی جانب سے تفصیلی ہدایات جاری کی جائیں گی۔

*        پبلک پریمیسیز (ایویکشن آف ان اتھرائزڈ آکوپنٹس) ایکٹ، کی1971 کی دفعات اورکنٹونمنٹ ایکت 2006 کی دفعات کے مطابق دفاعی زمینوں پر غیرقانونی قبضے ختم کیے جائیں گے۔

یاد رہے کہ کوئی دفاعی زمین ایسی نہیں جو زیر استعمال نہ ہو یا فالتو ہو۔ تمام دفاعی زمینوں کو جائز فوجی  اور حکمتی مقاصد کےلیے ہی استعمال کیا جارہا ہے۔بعض وہ زمینیں جو بادی النظر میں زیر استعمال نہیں ہیں، انہیں تربیت ، عمومی بیداری کے طریقوں، کی لوکیشن پلانس (کے ایل پی) اور شادی شدہ عملے کو فراہم کیے جانے والی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 م ن ۔س ش۔ ت ع۔

U-5573


(ریلیز آئی ڈی: 1595043) وزیٹر کاؤنٹر : 59
یہ ریلیز پڑھیں: English