صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند کا فکّی اعلیٰ تعلیم سمّٹ سے خطاب
प्रविष्टि तिथि:
27 NOV 2019 4:49PM by PIB Delhi
- مجھے کامرس اور صنعت کے بھارتی ایوانوں کی فیڈریشن کی طرف سے منعقدہ پندرہویں اعلیٰ تعلیم سمّٹ 2019 سے خطاب کرتے ہوئے خوشی ہورہی ہے جس کا انعقاد انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت اور کامر س اور صنعت کی وزارت کے اشتراک سے کیا گیا ہے۔ یہ عالمی کانفرنس اعلیٰ تعلیم سے متعلق دانشورانہ قیادت کے فورم میں ایک اہم مقام رکھتی ہے۔ اس تقریب میں ہمارے ساتھ بھارت اور بیرون ملک کے بڑے پیمانے پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے فریقین شرکت کررہے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اس بات کی سمّٹ سے بھی اتنے ہی بہرہ مند ہوں گے جتنی کہ پچھلی سمّٹ سے۔
- اعلیٰ تعلیم ایک عوامی پالیسی کا معاملہ ہے جسے پوری دنیا میں ترجیح حاصل ہے۔ اسے سماجی ، اقتصادی، سائنسی اور دانشورانہ ترقی نیز خود کو جدید بنانے کی راہ میں ایک بنیادی عنصر سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کے ضمن میں ہماری اعلیٰ تعلیم کی ایک امتیازی تاریخ رہی ہے جس سے جذبہ حاصل کیا ہے کیوں کہ ہم اپنی یونیورسٹیوں کو علم اور سیکھنے سکھانے کے وسیلے کے طور پر استحکام دینے اور انہیں منور کرنے کیلئے کام کرتے ہیں۔ بھارت دنیا میں قدیم ترین یونیورسٹی کامرکز رہا ہے۔ ساتویں صدی میں اپنے شباب پر نالندہ یونیورسٹی میں پورے ایشیا کے دس ہزار طلباء موجود تھے۔ جب ہم بچوں کی تدریس کے جدید طریقوں پر نظر ڈالتے ہیں تو سیکھنے سکھانے کے ان قدیم مندروں میں پڑھانے کے جو طریقے مروج تھے اور ان کے تنقیدی تجزیوں کی آج بھی افادیت ہے۔
- اعلیٰ اور اہم تعلیم کے ذریعے لوگوں کے لئے خود کو وقف کردینے کے ، قوم کی تعمیر پر بہترین اثرات و مضمرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہ سرمایہ محض ایک بار لگایا جاتا ہے لیکن اس کے فوائد ہمیشہ ملتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں، میسور کے آنجہانی مہاراجا شاہی جمہور جئے چماراجا واڈیار کی صدسالہ تقریبات میں شرکت کے لئے مجھے میسور جانا پڑا ۔ وہ اعلیٰ تعلیم کے میدان میں قائد کی حیثیت رکھتے تھے جنہوں نے اپنے عوام کیلئے دل کھول کر سرمایہ کاری کی۔ قیادت جو مہاراجا نے کئی دہائیوں پہلے عوام کو بااختیار بنانے کیلئے کی تھی آج تکنیکی کایاپلٹ کی ایک مضبوط بنیاد بن گئی ہے جو ہمیں بنگلورو ، میسور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں نظر آتی ہے۔ ہمارے ملک کی طرح کوئی ملک جو ایک مختصر مدت کے دوران خود کی کایاپلٹ کا خواہشمند ہو اسے پہلے اعلیٰ تعلیم کے سفرکا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔
خواتین وحضرات،
- اعلیٰ تعلیم ایک ایسا موضوع ہے جوذاتی اور پیشہ ورانہ دونوں وجوہات سے میرے دل کے قریب ہے۔میں نے نسلوں کے دوران تبدیلی اور پیش رفت کے پس منظر میں اس کی طاقت اور صلاحیت کو محسوس کیا ہے۔ صدر جمہوریہ ہند کے طور پر میں 152 یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیم کے اداروں کا وِزٹر ہوں ، مجھے ان میں سے تقریباً سبھی کے وائس چانسلروں اور ڈائرکٹروں کے ساتھ بات چیت کرنے کاموقع ملا ہے۔ بھارت میں 990 سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں اور یہ دنیا میں اعلیٰ تعلیم کے لئے سازگار ماحول کےحامل ملکوں میں سے ایک سب سے بڑا ملک ہے۔ ہم ان کے معیارات میں بہتری لانے اور انہیں علم کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کیلئے لگاتار کام کررہے ہیں۔ ہم نے ابھی نئی تعلیمی پالیسی پر ملک گیر صلاح ومشورہ شروع کیا ہے۔اس سے اکیسویں صدی کی ضرورتوں کو پورا کرنے کیلئے بھارت کے تعلیمی منظر نامے کو یکسر بدلنے کیلئے راستہ ہموار ہوگا۔
- کل کی دنیا، علم ، مشینی ذہانت اور ڈیجیٹل راستوں کی دنیا ہوگی۔ ہمیں اس یکسر تبدیلی کے مقصد سے خود کو تیا رکرنے اور اس کے لامحدود موقعوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہمیں اپنی اعلیٰ تعلیم کی، نئے نصابات اور مزید گہرا تحقیقی رجحان پیدا کر کے تشکیل نو کرنی ہوگی۔ نت نئے نظریات ، اختراع اور انہیں پروان چڑھانے کے عمل کو ہمیں اپنے نصاب میں شامل کرنا چاہئے۔ بھارت دنیا میں انسانی وسیلے کا تیسرا سب سےبڑا سائنسی مرکز ہے۔ اگر ہم تعلیمی صنعت کو بڑے پیمانے پر قائم کریں تو ہم میں اتنی صلاحیت ہے کہ ہم دنیا کی تحقیق وترقی کی راجدھانی بن جائیں گے۔ ہمیں ٹیکنالوجی سے فائدہ حاصل کرنے کیلئے سائنس کے ساتھ ساتھ آزادانہ فنون لطیفہ اور انسانی ہمدردی کے علوم کو بھی اتنی ہی ترجیح دینی ہوگی اور اسے عوام ، برادریوں اور ثقافتوں کیلئے آخرکارفائدہ مند بنانا ہوگا۔ آج مختلف موضوعات کو ایک دوسرے سے وابستہ کرنا محض ایک معمولی حقیقت نہیں ہے بلکہ یہ خود معلومات کا اندرون ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں نے مختلف موضوعات کے مابین ربط ضبط پیدا کرنے کے نظریے کے ساتھ پیش رفت کی ہے جس میں ریاضیات کو موسیقی سے منسلک کیا گیا ، مصنوعی ذہانت کو مویشیوں کی افزائش نسل سے وابستہ کیا گیا۔ اس مد میں ابھی اور بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے۔
خواتین وحضرات،
- ایک اور اہم پہلو جسے ہمیں اختیار کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اپنے تعلیمی نظام میں بچوں کے تدریسی عمل میں کس طرح تبدیلیاں لے کر آئیں۔ سوال پوچھنے ، تنقیدی سوچ کا حامل ہونے اور کیا ، کیسے اور کیوں کے معاملات پرغور وخوض کرنے کی مجموعی ثقافت کے جذبے کو پروان چڑھائے جانے کی ضرورت ہے۔تخلیقیت،تخیل اور ہمارے طلباء کے ذہن میں خیالات کو ان کے ذہن سے باہر لانا ہوگا اور اس سے متعلق جوش وجذبے کو روانی بخشنی ہوگی اور اس کی پذیرائی کرنی ہوگی۔ یہ تعلیمی انقلاب لانے کیلئے ہمیں بہت سے محاذوں پر نئے تصورات کے بارے میں اپنے رویے میں ، تعلیمی قیادت کی سطح پر ، طلباء واساتذہ کی سرگرمیوں کی سطح پر ، اور ٹیکنالوجی کو مربوط کرنے کی سطح پر تبدیلی اور کھلا پن لانے کی ضرورت ہے۔ یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے کہ ہمارے اندر آگے بڑھنے کا تصور موجود ہو اور ہم نے ان چیزوں پر عمل کرنے کا مصمم ارادہ کیا ہوا ہوا۔ اس ضمن میں ، میں ان پروگراموں پر اظہار رائے کرنا چاہوں گا جو انسانی وسائل کی ترقی کی وزارت نے شروع کیے ہیں۔ ایل ای اے پی ’’ماہرین تعلیم کی قیادت کا پروگرام‘‘ اور اے آر پی آئی ٹی ’’تدریسی عمل میں سالانہ ریفریشر پروگرام‘‘ ایل ای اے پی کا مقصد اعلیٰ تعلیمی منتظمین میں قیادت اور مستقبل کے خاکے کی تعمیر کرنا ہے جبکہ اے آر پی آئی ٹی کا مقصد ہمارے اساتذہ کی ، بچوں کی تدریس سے متعلق صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے۔
- اس سے پہلے میں نے ہماری قدیم یونیورسیٹوں کا ذکر کیا ، ان میں سیکھنے سکھانے کی ایک تہذیب تھی جہاں نت نئے خیالات اور تصورات کو لگاتار پرکھا جاتا تھا اور ان کی تصدیق کی جاتی تھی نیز ان کا تنقیدی جائزہ لیا جاتا تھا۔ ایک نظام جس نے ایک پننی ، ایک آریہ بھٹ ، ایک چرکھ یا ایک کوٹلیہ پیدا کی تھی، وہ یقیناً ایک بڑا نظام رہا ہے۔ ہمیں اپنی معلومات کی بے شمار روایتوں میں موجود فہم وفراست کو دوبارہ کام میں لانے کیلئے جدید طریقے استعمال کرنے ہوں گے۔ یہاں تک کہ ہمیں ایک مشینی ذہانت کے دور کے موقعوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہوگا۔ سیکھنے سکھانے کی کھلی تہذیب سے اختراع کے جذبے کو بڑھاوا ملے گا اور ہماری یونیورسٹیوں میں قائم کئے گئے اٹل اختراعات مراکز کو نئے پَر میسر آئیں گے۔
خواتین وحضرات،
- ہماری اقتصادی ضرورتیں شدید ہیں، اگلی بہت سی دہائیوں میں بھارت میں زبردست ترقی ہوگی جس کی وجہ سے اس کے عوام کے اعلیٰ معیارات زندگی وجود میں آئیں گے۔ اس سب کے لئے ہمیں اپنی اعلیٰ تعلیم میں نئی توانائی اور تحریک لانی ہوگی۔ نظریاتی اور عملی جانکاری کو یکجا کرنے کیلئے پیشہ ورانہ تعلیم سیکھنے سکھانے کے عمل اور تربیت کے لئے مختلف پروگراموں کی ضرورت ہوگی۔ ہمیں عالمی اداروں اور عالمی تجربات سے بھی بہت کچھ سیکھنا ہے۔
- اسی دوران بھارت کا تنوع سے بھرپور اعلیٰ تعلیمی نظام دنیا کیلئے بڑے پیمانے پر زبردست موقعوں پر پیشکش کرتا ہے۔سیکھنے سکھانے کے عمل کو عالمگیریت کی طاقتیں ،ثقافتوں کے مابین ایک تجربہ بنانے کیلئے اور ایک مربوط ڈھانچہ بنانے کیلئے زور ڈال رہی ہیں۔ بھارت کو عالمی معلومات کا ایک مرکز بنانے کیلئے حکومت ہند نے بین الاقوامی طلباء کو راغب کرنے کی غرض سے ’’اسٹڈی اِن انڈیا‘‘ یعنی بھارت میں پڑھو پروگرام شروع کیا ہے۔ ہماری یونیورسٹیوں میں بھی اساتذہ ، طلباء ، بچوں کی تدریس اور ایک دوسرے کو اپنی اپنی معلومات سے واقف کرانے کے بین الاقوامی نیٹ ورکس کو فروغ دیا جارہا ہے ۔ اپنے اعلیٰ تعلیمی نظام کو عالمی درجے پر لانے سے اُن بھارتی طلباء کو بڑے متبادل مہیا ہو جائیں گے جو معیاری تعلیم کے لئے بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔
خواتین وحضرات،
- اعلیٰ تعلیم کی دنیا کافی مہنگی ہے، اس کی ترقی کے لئے اور یہ ہمیں بااختیار بنائے اس کے لئے ، ہمیں تمام متعلقہ فریقوں ۔ پالیسی سازوں ، ماہرین تعلیم ،محققین، چھوٹے صنعت کاروں اور دیگر کی حمایت کی ضرورت ہے۔ اپنے ملک کی سماجی واقتصادی حقیقت پر نظر ڈالیں تو سرکاری ادارے ایک قائدانہ رول ادا کریں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ شعبے کو بھی قومی کوششوں میں لگاتار تعاون دینا ہوگا۔ ہمیں تحقیق اور دانشوری کو فروغ دینے کے مقصد رقوم فراہم کرنے اختراعی طریقے بھی تلاش کرنے ہوں گے ، پچھلے ہی مہینے مجھے آئی آئی ٹی دلّی کے قدرتی صلاحیت سے متعلق فنڈ کا آغاز کرنے کاموقع ملا ، یہ بھارت میں اپنی نوعیت کا پہلا فنڈ ہے جواس کے سابقہ طلباء کے تعاون کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے۔ اس فنڈ نے بہت ہی مختصر عرصے میں 250 کروڑ روپئے اکٹھا کرلئے اور اس کانشانہ ایک ارب امریکی ڈالر اکٹھا کرنے کا ہے تاکہ آئی آئی ٹی دلّی میں تعلیمی مہارت اور تحقیق کے لئے مدد دی جاسکے۔ میں فکّی اعلیٰ تعلیمی کمیٹی سے زور دیکر کہتا ہوں کہ وہ ہمارے اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مستحکم بنانے میں لوگوں کی زیادہ سے زیادہ شرکت میں آسانی پیدا کرے۔
- جیسا کہ ہم اعلیٰ تعلیم کو ایک عوامی شئے مانتے ہیں ، بھارتی ضمن میں اہم بات یہ ہے کہ تعلیم کے معیار میں علاقائی عدم توازن سے ہم کیسے نمٹیں۔ ہم اس فرق کو کم سے کم کرنے کی کشش کررہے ہیں لیکن ابھی بہت سے اقدامات کیے جانے کی ضرورت ہے۔ ایک اور متعلقہ پہلو ، دیہی -شہری فرق ہے جو ہمیں اپنی اعلیٰ تعلیم کے میدان میں نظر آتا ہے ۔ چاہے وہ وردھا میں میڈیکل کالج ہو یا شانتی نکیتن میں وشوبھارتی ہو ، ہمارے بانی آبا و اجداد مہاتما گاندھی اور روندر ناتھ ٹیگور نے اس پر تفصیلی توجہ مرکوز کی تھی۔ مجھے اس سال ان دونوں کیمپسوں میں جانے کاموقع ملا، ہمیں اپنی سب کی شمولیت والی ترقی اور پیش رفت کے لئے اِن شخصیتوں سے جذبہ حاصل کرنا ہوگا اور ان کے خیالات کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔ اس کوشش میں ڈیجیٹل کلاس روم ، ای ۔ لرنگ اور قومی ڈیجیٹل لائبریری جیسے ٹیکنالوجی کے پلیٹ فارم کلیدی طور پر مدد گار ثابت ہوسکتے ہیں۔
خواتین وحضرات،
- میں نے آپ کے سامنے اعلیٰ تعلیم کے بارے میں کچھ نئے نظریات پیش کیے ہیں۔ اس کاانحصار اب آپ پر یعنی متعلقہ فریقوں پر ہے کہ آپ اس سے آگے کا راستہ بناتے ہوئے چلیں اور جیسا کہ آپ بات چیت کرتے ہیں، تبادلہ خیال کرتے ہیں، میں آپ کو سنسکرت کی ایک قدیم کہاوت یاد دلاتا چلوں اور میں یہ کہاوت دوہراتا ہوں :“ सा विद्या या विमुक्तये” جس کامطلب ہے ’’سچی سیکھ وہ ہوتی ہے جس سے انسان کو آزادی ملے ‘‘۔ آئیے ہم ملکر وہ یونیورسٹی ، وہ کلاس روم ، وہ نصاب ،وہ ثقافت قائم کریں جس سے ہمارے طلباء ایک بنی نوع انسان کے طور پر اپنے عوام ، اپنی قوم اور دنیا کی خدمت کے میدان میں اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں۔
- میں اس سمّٹ کے لئے تمام تر کامیابیوں کی دعا کرتا ہوں۔
شکریہ
جئے ہند
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
U-5416
(रिलीज़ आईडी: 1593970)
आगंतुक पटल : 214