وزارت اطلاعات ونشریات
میری فلمیں شمال مشرق کے عوام اور ان کی سیاسی حیثیت، بقا کے لئے ان کی جدوجہد کے گرد گھومتی ہے: فوجی ایوارڈ یافتہ منجو بورہ
72 حوروں کا مقصد، سماج کے کم از کم ایک شخص میں تبدیلی لانا ہے: پروڈیوسر گلاب سنگھ تنور
نئی دہلی،27/ نومبر۔انڈین پنورما سیکشن کے تحت ہندوستان کے بین الاقوامی فلمی میلے (آئی ایف ایف آئی) میں قومی ایوارڈ یافتہ فلم ‘‘ دی لانڈ آف پوائزن ہومین’’ جو منجو بورہ کی ہدایات میں پنچنپا زبان میں بنی ہے اور ہندی فلم 72 حوریں کی نمائش ہوئی۔ یہ سنجے پورن سنگھ چوہان کی ہدایت پر بنی ہے۔
قومی ایوارڈ یافتہ بورہ نے کہا‘‘ مجھے آئی ایف ایف آئی کی گولڈن جوبلی کے ہندوستانی پنورما سیکشن میں اپنی فلم کے انتخاب پر کافی خوش ہوں۔ میں شمال مشرق کے لوگوں ان کی سیاسی حالت کا بقا کے لئے ان کی جدوجہد کو قریب سے دیکھتا رہا ہوں۔ شمال مشرق میں لوگ تقریباً 120 مختلف لہجوں ( زبانوں ) میں باتیں کرتے ہیں۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ ہندوستان ان لہجوں (زبانوں) کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ محترکہ بورہ گوا کے شہر پنچی کے آئی ا یف ایف آئی میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔

دور دراز میں واقع اہم مقامات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ‘‘ لوگ ان مقامات سے واقف نہیں ہیں جہاں میری فلم کی بنتی ہوئی۔ یہ ہندوستان ۔ چین سرحد پر واقع ہے۔5000 ہزار سے کم افراد باہر رہتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر کوئی وہاں جائے تو فطرت کو محسوس کرسکتا ہے، جو نہایت وسیع اور خوبصورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس فلم کی شوٹنگ فلم کی کریو کے لئے جسمانی اور مالی اعتبار سے کافی پریشان کن تھی۔ ہندوستانی فوج نے میرے ‘کریو’ کی مدد کی تھی جب شدید برفباری کی وجہ سے ہم لوگ وہاں پھنس گئے تھے۔
اس کانفرنس میں بہترّ حوروں کے پروڈیوسر گلاب سنگھ تنور نے ہدایتکاروں کے ساتھ اپنی فلم کے بارے میں باتیں کیں۔
ہدایتکار سنجے سنگھ چوہان نے بہترّ حوروں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا یہ دو لوگوں کی کہانی ہے جو اپنی زندگی کے بعد 72 حوروں کی تلاش میں سرکردہ تھے۔ میں اپنے پروڈیوسر کا ایسے غیر روایتی موضوع پر میرے ساتھ رہنے کے لئے شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں اپنے کیرئیر کی ابتدا ئی مرحلے میں ہی ہدایتکار کے طور پر بہترّ حوریں جیسی فلم بنانا چاہتا تھا کیونکہ ایسے بولڈ اور غیر روایتی موضوع پر اپنے کیرئیر میں مستقل ہونے کے بعد بھی ایسی فلم بنانا مشکل ہوتا ہے۔ اگرچہ میری ابتدائی فلم ‘ لاہور’پر پاکستان میں پابندی عائد تھی۔ تاہم میں اب بھی یہ فلم پاکستان، خلیج، بنیادی طور پر ہر اس ملک میں جو دہشت گردی سے متاثر ہے وہاں اس کی فلم بنانے کا منصوبہ رکھتا ہوں۔ کیونکہ فلم میں بہت سارے وی ایف ایکس شارٹ کا استعمال کیا گیا ہے اس کی پروڈکشن کے بعد کافی وقت لگا۔
بہترّ حوریں کے اداکار پون ملہوترا نے کہا کہ‘‘ میں نے بہترّ حوروں کی تلاش میں ایک عقیدت مند کے طور پر اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن آپ کو اسے دیکھناچاہئے۔ سنجے نے جب کہانی سنائی تو میں نے فوراً قبول کرلیا تھا۔ پھر بھی میں نے کئی مصالحہ فلموں میں کام کیا ہے۔ لیکن ہمارے کام کا زیادہ حصہ سنجیدہ فلموں کا ہے۔
پروڈیوسر گلاب سنگھ تنور نے کہا ‘‘ میں اصل میں ایک پائلیٹ ہوں اور اپنی ہوائی کمپنیاں چلاتا ہوں۔ مجھے بہت دنوں سے فلم کے تئیں دلچسپی رہی ہے۔ میں نے 2012 سے فلمیں بنانی شروع کردی تھی اور مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ میں روزگار کے لئے فلم نہیں بناؤں گا۔ میں ایسی فلم بنانا چاہتا تھا جو یاد رکھی جاسکیں۔ بہترّ حوروں کو بنانا ایک بڑا چیلنج تھا ۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ اس فلم کے ذریعہ سماج میں کم از کم ایک شخص کی زندگی کو تبدیل کرناتھا’’۔
ان ڈا لینڈ آف پائزن ہیومین:
اپنی کوششوں کے حصے کے طور پر‘‘ نئی پہل شروع کی ہے۔ اس پہل میں یہ فلم اروناچل پردیش کے دور دراز کے حصہ میں ‘‘وش کنیا(پوائزن ہیومین) کے عقیدے کو توڑنے کی ایک فرد کی کوشش کو ظاہر کرتی ہے۔ تھونگچی تھوانگ ضلع کے زیمپتھنگ نے خطہ کے پس منظر میں ایک ناول تحریر کیا تھا۔ ناول میں حیرت و استعجاب کو پیش کرنے کے علاوہ قبائلیوں میں موجود توہم پرستی کو بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس فلم نے بہترین پنگسنپا فلم کے لئے 66 واں قومی ایوارڈ حاصل کیاہے۔
دہشت گردوں کے ایک تربیتی کیمپ میں بلال اور حاکم نے کہاتھا کہاگر اللہ کے نام پر اپنی زندگی قربان کرتے ہیں تو انہیں جنت میں انعام کے طور پر بہترّ حوریں ملیں گی۔ ممبئی میں دہشتگردانہ حملے کے بعد حاکم اور بلال کو خوبصورت حوروں کے آغوش میں خود کو نہ پا کر حیرت ہوئی لیکن اسپتال ان کابھوت ان کی لاشوں پر ہورہی پوسٹ مارٹم کو دیکھ رہاتھا۔ بہترّ حوریں ایک تاریک مذاق ہے جس میں پرتشدد اور انتہائی پسندی کے نتائج کے حقائق کی جانچ کی گئی ہے اورہر شخص کے ساتھ عزت و احترام اور وقار کا برتاؤ کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
*********
U –5407
(रिलीज़ आईडी: 1593885)
आगंतुक पटल : 238