پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 NOV 2019 3:18PM by PIB Delhi
نئی دہلی،27 نومبر : امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب جی کشن ریڈی نے جموں و کشمیر میں سیکیورٹی کی صورتحال سے متعلق ایک سوال کےتحریری جواب میں راجیہ سبھا کو بتایا کہ حکومت نے دہشت گردی کےخلاف زیرو ٹولرینس کی پالیسی اپنائی ہے اور سیکورٹی فورسیز نے دہشت گردی کے مقابلے کیلئے موثر اور لگاتار اقدام کئے ہیں جس کے نتیجے میں گذشتہ چند برسوں کے دوران ریاست جموں و کشمیر میں کثیر تعداد میں دہشت گردوں کو مار گرایا گیا ہے۔
گذشتہ سال اور رواں سال (17 نومبر تک ) جموں و کشمیر میں دہشت گردانہ تشدد کے واقعات ، شہری اور سیکیورٹی عملہ کی ہلاکت کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:-
|
سال
|
دہشت گردی کے واقعات
|
ہلاک ہونے والے شہری
|
ہلاک ہونے والے فوجی
|
|
2018
|
614
|
39
|
91
|
|
2019(17 نومبر تک )
|
594
|
37
|
79
|
سرحد پار سے دراندازی کی روک تھام کیلئے حکومت کے ذریعے اپنائے گئے کثیر رخی طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ان اقدامات میں بین الاقوامی سرحد ؍ لائن آف کنٹرول کے ساتھ ساتھ فوجیوں کی کثیر سطحی تعیناتی، سرحدوں پر باڑ لگانا ، خفیہ اطلاعات اور کارروائیوں میں تال میل ، سلامتی دستوں کو جدید ترین اسلحہ سے لیس کرنا اور دراندازوں کے خلاف مثبت کارروائی کرنا شامل ہے۔
گذشتہ سال اور رواں سال ( اکتوبر 2019) تک جموں و کشمیر میں دراندازی کی کوششیں ، تفصیلات حسب ذیل ہیں:-
|
سال
|
دراندازی کی کوششیں
|
دراندازی
|
|
2018
|
328
|
143
|
|
2019(اکتوبر تک )
|
171
|
114
|
وزیر موصوف نے مزید کہا کہ سرحد پار سے جاری گولی باری کی وجہ سے بین الاقوامی سرحد ؍ لائن آف کنٹرول پر رہنےوالے افراد کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کی غرض سے 14460 بنکروں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔
گذشتہ سال اور رواں سال اکتوبر 2019 تک جموں و کشمیر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی ؍ سرحد پار سے گولہ باری کے واقعات ، شہریوں اور سیکیورٹی عملہ کی ہلاکت کی تفصیلات حسب ذیل ہیں:
|
سال
|
جنگ بندی کی خلاف ورزی ؍ سرحد پار سے گولی باری
|
شہریوں کی ہلاکت
|
سیکیورٹی عملہ کی ہلاکت
|
|
2018
|
2140
|
30
|
29
|
|
2019 ( اکتوبر تک )
|
2753
|
15
|
17
|
وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر کی حکومت کی رپورٹ کے مطابق 5 اگست 2019 سے قانون اور نظم و نسق کی بحالی کے لئے پولیس فائرنگ کے واقعات میں کوئی بھی شخص ہلاک نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی مدت کے دوران دہشت گردی سے متعلق معاملات میں تین سیکیورٹی عملہ اور 17 شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 129 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
****************