وزارت خزانہ
گروگرام ڈی جی جی آئی نے 141کروڑ روپے مالیت کی جی ایس ٹی دھوکہ دہی کے لئے دو افراد کو فرفتار کیا
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
27 NOV 2019 12:05PM by PIB Delhi
نئی دہلی،27؍نومبر:ہریانہ کے گروگرام ژونل یونٹ (جی زیڈ یو)کے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹلی جنس (ڈی جی جی آئی)نے نئی دہلی کے میور وہار کے رہنے والے اور میسرز ڈی کے انٹرپرائز کے پروپرائٹر دیپک متل اور ہریانہ کے حصار ضلع ہانسی کے رہنے والے میسرز گرگ انٹر پرائزز کے پروپرائٹر انکور گرگ کو گرفتار کیا ہے۔
دونوں افراد مختلف کمپنیوں کی کمپلیکس ویب چین کی مدد سے لگ بھاگ 141 کروڑ روپے مالیت کے جعلی انوائسز ریکٹ اور دھوکہ دہی سے پاس کئے گئے ؍دستیاب کئے گئے اِن پُٹ ٹیکس کریڈٹ میں ملوث پائے گئے تھے۔
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ دیپک متل نے جو آئی ٹی سی کا ایک اتھارائزڈ ڈیلر ہے(شری انکور گرگ کے ذریعے)بالواسطہ ؍ بلاواسطہ طور سے سگریٹس کے سیل(فروخت) انوائسز ایسی مختلف نقلی تجارتی کمپنیوں یا جن کا وجود ہی نہیں تھا ، کو جاری کی تھی، جس کے نتیجے میں جی ایس ٹی سے بچنے کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو نقصان ہوا۔ان نقلی ؍وجود نہ رکھنے والی تجارتی کمپنیوں نے مختلف برآمداتی کمپنیوں کو جعلی مزید انوائسز جاری کئے تھے، جنہوں نے ان جعلی انوائسز کی بنیاد پر آئی جی ایس ٹی رفنڈ کلیم داخل کیا ہے۔تفتیش کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سیگریٹس کی کوئی برآمدگی نہیں ہوئی اور ان برآمداتی کمپنیوں کے ذریعے داخل کئے گئے آئی جی ایس ٹی رفنڈ کلیم فوگس تھا اور کئی معاملوں میں عدالتی سینٹر؍ریاستی جی ایس ٹی کے ذریعے کلیم مسترد کردیاگیا تھا۔
اس طرح دیپک متل اور انکور گرگ نے سینٹرل گُڈس اینڈ سروسز ٹیکس ایکٹ (سی جی ایس ٹی)، 2017 کی دفع 132 (1)(b)اور (c)کی شقوں کے تحت جرائم کئے ہیں، جو قابل دست اندازی اور غیر ضمانتی جرائم ہیں اور سی جی ایس ٹی قانون 2017 کی دفعہ 132 کے تحت قابل سزا جرم ہے۔
دیپک متل اور انکور گرگ کو سی جی ایس ٹی قانون 2017 کی دفعہ 69(1) کے تحت 26 نومبر 2019 کو گرفتار کیاگیا تھا اور اسی روز گروگرام عدالت میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔ عدالت نے دونوں کو 10 دسمبر 2019ء تک عدالتی تحویل میں بھیج دیاہے۔ اس معاملے مزید تفتیش جاری ہے۔
********
م ن۔ح ا۔ن ع
U: 5390
(ریلیز آئی ڈی: 1593822)
وزیٹر کاؤنٹر : 72