صدر جمہوریہ کا سکریٹریٹ
وشوشانتی استوپ کی گولڈن جبلی تقریب سے صدر جمہوریہ ہند جناب رام ناتھ کووند کا خطاب
प्रविष्टि तिथि:
25 OCT 2019 12:49PM by PIB Delhi
نئی دہلی،25؍ اکتوبر، مجھے یہاں وشوشانتی استوپ کی گولڈ جبلی کی یادگاری تقریب پر، جو بودھ کے قدیم مقام پر تعمیر کیا گیا ہے، آکر بہت خوشی ہوئی ہے۔ میں اس تقریب کے لئے حکومت بہار ، راجگیر بودھ وہار سوسائٹی ، نیپونزن میوہوجی کے عقیدت مندوں اور فوجی گروجی کے ماننے والوں کو مبارک باد دیتا ہوں۔ میں ایشیاء ، یوروپ اور امریکہ کے مختلف حصوں سے، خاص طور پر جاپان سے آئے مندوبین کی ستائش کرتا ہوں جنہوں نے اس سالگرہ کے لئے اس مقدس مقام تک کا سفر طے کیا ہے۔ آپ سبھی عالمی امن کے سفیر ہیں۔
میں یہاں رتنا گیری پہاڑی پر کھڑے ہو کر خود پر فخر محسوس کرتا ہوں ولچرچوٹی کے سامنے ہے، جہاں سے بھگوان بدھ نے 7 سال تک کمل سوتر کی تعلیم دی۔ مجھے بہار کے گورنر کی حیثیت سے 2015 اور 2016 میں اس امن کے پھگوڑا کی سالگرہ کی تقریب میں شرکت کا بھی فخر حاصل ہے۔ میں راجگیر بدھ وہار سوسائٹی کا اعلیٰ سرپرست بھی رہا ہوں۔ میں 2018 میں دھرم- دھم بین الاقوامی کانفرنس کے افتتاح کے لئے راجگیر آیا تھا۔ راجگیر کا ہر دورہ ، جو بھگوان بدھ کے پسندیدہ مقام میں سے ہے، مجھ کو خاص مسرت پہنچاتا ہے۔
ہم یہاں روحانی انقلاب کی اس مقدس سرزمین پر یکجا ہوئے ہیں، جس نے سماج میں تبدیلی پیدا کی ہے۔ بودھ گیا ، راجگیر ، پاٹلی پتر اور نالندہ ایسی تبدیلیاں لانے والے مقامات ہیں جو کئی صدیوں پہلے واقع ہوئی تھیں اور پوری دنیا میں پھیل گئیں۔ بھگوان بدھ نے بودھ گیا میں ایک درخت کے نیچے نروان حاصل کیا ۔ یہ مقام یہاں سے زیادہ دور نہیں ہے۔ جین ازم اور ہندو ازم نے اس خطے میں اپنی جڑی جمائی ہیں ، جو اہل قدیم سے ہی ہمارے ملک میں شاندار تنوع کو اجاگر کرتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ وشو شانتی استوپ اتحاد ، امن اور عدم وتشدد کی علامت ہے۔ اس کا پیغام آفاقی اہمیت کا حامل ہے جو تہذیب وثقافت ، مذاہب اور جغرافیائی حدود سے بالا تر ہے۔ یہ امن پسند جاپان اور بھارت کی جمہوریتوں کے درمیان پختہ ساجھیداری اور جامع تعاون کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تقریب ہمارے دونوں ملکوں کے درمیان کیوٹو - کاشی کے جذبے کے ساتھ باہمی تعلقات میں اضافے سے معمور عہد میں ہورہی ہے۔
خواتین وحضرات!
میرے عظیم پیشرو، آنجہانی ڈاکٹر رادھا کرشنن نے 1965 میں اس استوپ کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس کا افتتاح میرے ایک اور مثالی پیش رو آنجہانی وی وی گری نے گاندھی کے صد سالہ سال 1969 میں کیا۔ جیسا کہ ہم سبھی جانتے ہیں کہ مہاتما گاندھی نے مہاتما بدھ کے آفاقی محبت اور جذبے کے لئے مہا کرونک بدھا کے اصولوں پر عمل کیا۔ مہاتما بدھ کی تعلیمات کا اثر گاندھیائی فلسفے میں نظر آتا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ مہاتما گاندھی کے 150 ویں یوم پیدائش کے اس مہینے میں ہم وشو شانتی استوپ کی 50 ویں سالگرہ منانے کے لئے اکٹھا ہوئے ہیں۔ اس لئے جب ہم استوپ کی گولڈ جبلی کی یادگار مناتے ہیں تو ہم جدید دنیا میں سب سے بڑے امن کا مشن پھیلانے والے کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔
یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ فوجی گروجی نے پوری دنیا میں شانتی استوپ تعمیر کرنے کے نظریئے کا آغاز کیا۔ یہ شاندار استوپ بھی بنیادی طور پر فوجی گروجی کی انتھک کوششیں اور بودھ طرز تعمیر کے معروف فنکار اوپندر مہارتھی کے شاندار کام کا نتیجہ ہے۔ فوجی گروجی نے گاندھی جی سے ملاقات کی تھی اور وہ وردھا آشرم میں رکے تھے اور گاندھی جی اور گروجی دو عظیم شخصیتیں تھی، جو عدم تشدد اور امن کو فروغ دینے کے عزم میں یکسان یقین رکھتے تھے۔ یہی اثر جاپان کے نچرین بدھ ازم کا گاندھی جی پر ہو ا اور انہوں نے نمیو ہو رینگے کیو کا جاپ کرنا سیکھا اور ان کی پرارتھنا کے اجلاس کا آغاز اسی منتر کے ساتھ ہوتا تھا۔ میں بھی حال ہی میں جاپان کے دورے سے واپس آیا ہوں۔ اس دورے کے دوران ، 21 اکتوبر کو میں نے فوجی گروجی کے ذریعے قائم کردہ گوٹیمبا پیس فاؤنڈیشن کے ایک وفد سے بھی ملاقات کی۔
مجھے 45 سال پہلے فوجی گروجی سے ملنے کا بھی فخر حاصل ہے۔ میں آج تک اس شام کو یاد کرتا ہوں، شاید یہ 1974 کی بات ہے ، جب وہ نئی دہلی میں آنجہانی مرار جی دیسائی کی رہائش گاہ پر اپنے شیشوؤں کے ساتھ پہنچے تھے اور جناب مرار جی بھائی نے ان کا ہاتھ جوڑ کر خیر مقدم کیا تھا۔ فوجی گروجی ، جو ایک بودھ بھکشی تھے اور مرار جی دیسائی ، جو سنانتن دھرم کی طرز زندگی گزارنے والے ایک ہندو تھے ،عالمی امن کے اپنے مشترکہ روحانی جذبے کے ساتھ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ مجھے مرار جی دیسائی کے ساتھ کام کرنے کا بھی موقع ملا ، جو 1977 سے 1979 تک بھارت کے وزیراعظم رہے۔
خواتین وحضرات!
بودھ نظریات اور علامتوں کے اثرات ہماری جمہوریت میں بہت نمایاں ہیں۔ ہم نے اشوک کی شیر کی مورتی کو قومی علامت کے طور پر اپنایا ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان زیریں، لوک سبھا میں اسپیکر کی مسند کے اوپر الفاظ ’’دھرم چکر پرورتنے‘‘ کھدا ہوا ہے جس کے معنی ہیں ’’دھم یا راست بازی ‘‘ کے چکر کو محرک کرنا۔ ہمارے آئین کے اعلیٰ معمار ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ہماری پارلیمانی جمہویت کے قدیم بودھ سنگھ کی پارلیمانی جمہوریت کا مقروض قرار دیا ہے۔
مہا تما بدھ کے پیغامات اور ان کے ماننے والے عہد قدیم میں ایشیاء کے بڑے حصے میں پھیل گئے تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے عالم گیریت کی موجوں کو پھیلنے میں مدد دی۔ مہاتما بدھ کے 8 سطحی راستے سے نہ صرف روحانی منظر نامے میں تبدیلی آئی ہے بلکہ اس نے اخلاقی اور پائیدار سماجی ، سیاسی اور تجارتی عمل کی بھی حوصلہ افزائی کی ہے۔ بعد میں مہا تما بدھ کی تعلیمات دوسرے بر اعظموں تک بھی پھیل گئیں۔ یہ ہمدردی ، برا بری ، جدت طرازی اور عدم تشدد کو فروغ دینے اور دنیا بھر میں معقول اور جدید ذہن والے لوگوں کو راغب کرنے کے لئے کی گئی تھی۔ مہا تما گاندھی نے مہا تما بدھ کے راستے پر چلتے ہوئے بر اعظموں کے آر پار بھی لیڈروں اور عوام کو متاثر کیا ہے اور وہ ایک عالمی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ بھگوان اور بدھ اور مہا تما گاندھی دونوں نے عمل اور زبان کے ذریعے اتحاد کی تعلیم دی اور ہماری بھلائی کے لئے راستے دکھایا۔ ان کی خود کی زندگی ہی ان کا پیغام بن گئی۔ مہا تما بدھ اور مہا تما گاندھی کی تعلیمات کسی بھی شخص ، برادری ، ملک اور پوری دنیا کو درپیش مسائل کو حل کرنے کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔
اب ضرورت ہے کہ زیادہ بڑی تعداد میں عوام کو مہا تما بدھ کے نظریات کے ساتھ مربوط کیا جائے۔ مہا تما بدھ سے متعلق مقامات کی وراثتی سیاحت کا فروغ لوگوں ، خاص طور پر نوجوانوں کو راغب کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ جاپانی اکائیاں بودھ سرکٹ کے فروغ کے لئے امداد فراہم کرتا ہے۔ سیاحت کی مرکزی وزارت اور بہار کی ریاستی حکومت بدھسٹ سرکٹ ٹورزم ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے لئے بین الاقوامی فائنانس کارپوریشن کے ساتھ تعاون کررہے ہیں۔ ان کی کوششوں کے ساتھ ہی بہتر کنکٹی ویٹی اور سہولیات کی فراہمی اور سیاحوں کے لئے معیاری خدمات مسلسل بہتر ہوتی رہیں گی۔
بھگوان بدھ نے کہا ہے کہ ’’نتھی سانتی پرم سکھم‘‘ یعنی امن سے بڑی نعمت کوئی اور نہیں ہے۔ امن ترقی کے لئے ایک لازمی شرط ہے۔ بدھا کی تعلیمات میں باہری امن کے حصول کے لئے اندرونی امن کو ایک ضروری شرط قرار دیا ہے۔ روحانیت ، امن اور ترقی ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں جبکہ لڑائی جھگڑا ، افرا تفری اور دیگر ترقی ایک دوسرے کو متاثر کرتی ہیں۔ آج کی تقریب میں شا مل ہونے والے ہر شخص کا واحد مقصد امن اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے جس سے غریبی اور تصادم کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔
مہا تما بدھ سے مہا تما گاندھی تک ایشیا کے روشن میناروں نے دنیا کو درست راستہ دکھا یا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ ہمارے امن ، ہم آہنگی اور خوشحالی سے بھرے مستقبل کے لئے ہماری راہ کو منور کرتے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
U-4771
(रिलीज़ आईडी: 1589213)
आगंतुक पटल : 190