ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

دہلی اعلامیہ ہر ایک ملک کے ذریعے عالمی کارروائی سے متعلق ایک اولوالعزم بیان ہےکہ کس طرح سے زمین کی پامالی کو روکا جاسکتا ہے: ماحولیات کے مرکزی وزیر

تمام تینوں ریوو کنونشن کے درمیان ہم آہنگی کی اپیل

Posted On: 13 SEP 2019 6:36PM by PIB Delhi

 

نئی دہلی،13؍ستمبر2019: زرخیزی سے عاری زمین کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کنونشن  سے متعلق پارٹیوں(یو این سی سی ڈی) کی 12 روزہ طویل 14ویں کانفرنس(سی او پی -14)آج زمین کے انتظام ، زرخیزی سے عاری زمین کی بحالی، خشک سالی، ماحولیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی، خواتین کی خود مختاری، صنفی مساوات، پانی کی قلت اور متعدد دیگر مسائل پر فکر انگیز مذاکرات کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ ہندوستان یو این سی سی ڈی ، سی او پی 14 کا میزبان تھا، جس میں دنیا بھر کے 9000سے زائد شرکاء نے بڑے پیمانے پر شرکت کی۔یہ کانفرنس 2ستمبر سے 13 ستمبر 2019ء تک گریٹر نوئیڈا کے انڈیا ایکسپو سینٹر اینڈ مارٹ میں منعقد ہوئی تھی۔

سی او پی 14 کے نتائج پر ایک پریس کانفرنس میں بولتے ہوئے ماحولیات، جنگلات اور ماحولیاتی تبدیلی کے مرکزی وزیر (ایم او ای ایف اینڈ سی سی) جناب پرکاش جاؤڈیکر نے اس بات پر اطمینان ظاہر کیا کہ تمام تینوں ریوو کنونشن مل جل کر کام کریں گے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001GBRT.jpg

 

زرخیز زمین کو بچانے کے لئے ایک بے مثال عالمی مہم میں کنٹری پارٹیاں2030ء تک زمین کی پامالی کو روکنے کےحصول کے ہدف کو  پائیدار ترقیاتی ہدف بنانے پر متفق ہوئیں۔

جناب جاؤڈیکر نے 2030ء تک زمین کی پامالی کو روکنے سے متعلق ہندوستان کی عہد بستگی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اپنے دو سالہ دور صدارت میں یو این سی سی ڈی کو ایک مؤثر قیادت فراہم کرنے کا بھی عہد کیا۔

ممالک زمین کی ملکیت میں صنفی عدم مساوات سمیت زمین کی ملکیت میں عدم تحفظ کے مسئلے سے نمٹیں گے، زمین  سے متعلق کاربن اخراج کو کم کرنے کے لئے زمین کی بحالی کو فروغ دیں گے اور ملکی سطح پر ان فیصلوں کے نفاذ کی حمایت کے لئے سرکاری اور نجی ذرائع سے مالیات کے اختراعی وسائل کو متحرک کریں گے۔

اطلاع دینے کے عمل کے لئے استعمال کیاجانے والا فریم ورک بہتر بنایا جائے گا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکےکہ اس میں کلیدی امور جیسے صنفی مساوات ، خشک سالی سے نمٹنے اور کھپت اور پیداوار کے نمونوں کا اثر اس میں شامل ہے۔ دہلی اعلامیہ کے ذریعے وزراء نے نئے اقدامات یا اتحادوں کی حمایت کا اظہار کیا، جس کا مقصد انسانی صحت اور فلاح و بہبود ، ماحولیاتی نظام کی صحت کو بہتر بنانا  اور امن و سلامتی کو آگے بڑھاناہے۔ وزیر ماحولیات نے کہا کہ دہلی اعلامیہ ہر اس ملک کی طرف سے زمین کی پامالی کو روکنے کے لئے عالمی کارروائی کا ایک اولوالعزم  بیان ہے۔

 

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image002Z4CQ.jpg

 

یو این سی سی ڈی  کے ایکزیکٹیو   سکریٹری جناب ابراہیم  تھیا  نےزمین کی ملکیت کے اختیار کے بارے میں اور نوجوانوں اور خواتین کی منفرد آوازوں اور تجربات  کی بنیاد پر   پیش رفت  کے طور پر  فیصلہ کرنے والی پارٹیوں سے کہا  کہ  ‘‘مجھے لگتا ہے کہ وہ سی او پی  ہی ہے جہاں   ہم جو کچھ کرنا چاہتے ہیں ، اس کے درمیان میں     لوگوں کو  لاکر کھڑا کردیا ہے   ۔

سی او پی 14 نے قحط سالی  کے خطرات کو  بہتر طریقے سے کم کرنے  اور ان کا بندوبست کرنے   اور ان میں قوت مدافعت    پیدا کرنے کی عالمی کوششوں   کوسہارادینے کے لئے  ایک تاریخی فیصلہ   بھی منظور کیا ہے۔ 

جناب  تھیا نے کلائمٹ ایکشن سمٹ  کے لئے  سی او پی 14 کے  تعاون پر بھی   روشنی ڈالی  اوربتایا کہ   آب و ہوا کی تبدیلی   بائیو ڈائیورسٹی کے نقصان کے عالمی بحران کو دور کرنے کے لئے   زمین کی بحالی   سب سے سستا طریقہ ہے۔

زمین کی بحالی میں آگے بڑھ کر   ایک رول ادا کرنے والے نجی شعبے کے رول کی طرف بھی   توجہ مبذول کرائی گئی۔  ساتھ ہی   پائیدار  ویلیو چین  کو فرو غ دینے اور   ان کو  شامل کرنے کے لئے  تراغیب   مثلاً پائیدار  زمین کے بندوبست کے لئے   اختراع   کی حمایت میں  ضابطہ بندی اور وسائل کے تحفظ ، بحالی اور پائیدار استعمال پر  انعامات   دینے کا بھی ذکر کیا گیا۔

گیارہ روز  کی میٹنگوں ، 11 اعلی سطحی    ، 30 کمیٹی  اور 170 متعلقین کی میٹنگوں    ،145 ضمنی تقریبات اور 44 نمائشوں کے بعد   سی او پی 14 آج اختتام پذیر ہوا۔

********

 

 

 

 

م ن۔ن ا۔ا گ۔ن ع۔ج

U: 4158



(Release ID: 1585043) Visitor Counter : 52


Read this release in: English , Hindi