امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کی وزارت
دیہی گھریلو ذخیرہ سہولتوں کی ترقی
प्रविष्टि तिथि:
26 JUL 2019 3:16PM by PIB Delhi
نئی دہلی،26جولائی2019؍صارفین کے امور، خوراک اور عوامی تقسیم کے وزیر مملکت جناب دانوے راؤ صاحب دادا راؤ نے آج راجیہ سبھا میں ایک تحریری جواب میں بتایا ہے کہ بھارتی زرعی تحقیق کونسل(آئی سی اے آر) کے تحت قائم فصل کٹنے کے بعد انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے مرکزی انسٹی ٹیوٹ (سی آئی پی ایچ ای ٹی) سے موصولہ ایک مطالعہ رپورٹ کے مطابق جو 14-2013 کے درمیان کئے گئے سروے پر مبنی ہے، سالانہ طور پر فصل کٹنے کے موقع پر اور فصل کٹنے کے بعد لاحق ہونے والے خسارے جو اہم اناجوں کے سلسلے میں لاحق ہوتے ہیں، وہ مقدار 4.65 سے 5.99 فیصد کے درمیان ہوتی ہے۔ تفصیلات گوشوارہ ایک میں دیکھی جاتی ہے۔
زراعت اور کاشتکاروں کی بہبود کی وزارت کرشی وگیان کیندرو(کے وی کے) کے توسط سے کاشتکاروں اور توسیع عملے کی صلاحیت بڑھانے میں مصروف ہیں، تاکہ اناجوں کو سائنٹفک طریقے سے ذخیرہ کرنے یعنی فارم کی سطح پر اناجوں کی ذخیرہ کرنے کی جدید ترین ٹیکنالوجیوں کی ہنرمندی سے انہیں آگاہ کیاجاسکیں۔
حکومت ملک کے دیہی علاقوں میں ‘‘زرعی مارکیٹنگ بنیادی ڈھانچہ’’ اسکیم کے توسط سے گودام ترقیات ریگولیٹری اتھارٹی(ڈبلیو ڈی آر اے) کے ذریعے تشخیص کردہ اصولوں پر سائنٹفک طریقے سے اناج کے ذخیرے کی سہولتوں کو فروغ دے رہی ہے۔مذکورہ اسکیم مربوط اسکیم برائے زرعی مارکیٹنگ(آئی ایس اے ایم) کا ایک حصہ ہے۔ اے ایم آئی اسکیم ایک ایسی اسکیم ہے، جس میں پونجی سبسڈی فراہم کی جاتی ہے اور یہ سبسڈی 25 اور 33.33فیصد کی شرح سے فراہم کی جاتی ہے، جس کا انحصار مستحق استفادہ کنندہ کے زمرے پر ہوتا ہے اور پروجیکٹ کی اہم لاگت کے سلسلے میں فراہم کی جاتی ہے۔ذیلی اسکیم کے تحت امداد انفرادی طورپر، کاشتکاروں کے گروپوں، درج رجسٹر فارمر پروڈیوز آرگنائزیشن (ایف پی او) وغیرہ کو فراہم کی جاتی ہے۔اسکیم کے آغاز سے ہی 31 مارچ 2003ء تک مجموعی طورپر 38964ذخیرہ بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹوں (گوداموں) کو جن کی ذخیرہ صلاحیت 65.54 ملین ٹن کے بقدر ہے، اے ایم آئی ذیلی اسکیم کے تحت (جسے پہلے گرامین بھنڈارن یوجنا) کا نام دیا گیا تھا اور آئی ایم ایس کا ایک حصہ تھی، منظوری دی جاچکی ہے۔
کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے 20 لاکھ میٹرک ٹن چاول اور 30 لاکھ میٹرک ٹن گیہوں کا ذخیرہ قومی سطح پر فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے گوداموں میں رکھا جاتا ہے۔ یہ ذخیرہ کم از کم امدادی کی قیمت کے تحت وصول کئے گئے اناج کا ہی ایک حصہ ہوتا ہے۔
ضمیمہ I-
14-2013 کے درمیان کئے گئے سروے کے مطابق قومی پیمانےپر اہم فصلوں کو جس قدر نقصان لاحق ہوا ، اس کی تفصیلات:
|
نمبر شمار
|
فصل
|
نقل و حمل میں ہونے والا خسارہ
|
ذخیرے میں ہونے والا خسارہ
|
مجموعی خسارہ(فیصد) میں
نقل وحمل + فارم آپریشن
ذخیرہ+
|
|
1.
|
دھان
|
0.09
|
0.86
|
5.53
|
|
2.
|
گیہوں
|
0.08
|
0.86
|
4.93
|
|
3.
|
مکئی
|
0.13
|
0.75
|
4.65
|
|
4.
|
باجرا
|
0.15
|
0.79
|
5.23
|
|
5.
|
جنگلی جوار
|
0.09
|
1.21
|
5.99
|
وسیلہ:فصل کے سلسلے میں مقدار کے لحاظ سے فصل کے موقع پر اور فصل کٹنے کے بعد ہونے والے خسارے ، جو بھارت میں اہم فصلوں اور اشیاء سے متعلق ہیں۔ آئی سی اے آر-کل ہند تال میل پر مبنی تحقیقی پروجیکٹ ، جس کا تعلق فصل کٹنے کے بعد کی ٹیکنالوجی، لدھیانہ سے ہے۔
********
م ن۔ن ع
U: 3457
(रिलीज़ आईडी: 1580486)
आगंतुक पटल : 71
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें:
English