وزارت خزانہ

بینکوں میں جعل سازی اور غیر منفعت بخش اثاثوں کے نتیجے میں مالی مسائل

प्रविष्टि तिथि: 09 JUL 2019 8:24PM by PIB Delhi

 

نئیدہلی10 جولائی ۔۔ خزانہ اورکمپنی امور کے وزیر مملکت جناب انوراگ سنگھ  ٹھاکر  نے آج لوک سبھا  میں  ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا ( آر بی آئی ) کے عالمی آپریشن  سے متعلق اعدادوشمار کے مطابق   قومیائے گئے بینکوں کی مجموعی  پیشگی رقومات  جو  31  مارچ  2008  تک  1133137  کروڑروپے کے بقدر تھیں ،31  مارچ  2014  تک  بڑھ کر 3403717 کروڑروپے کے بقدر ہوگئیں۔ آر بی آئی کی جانب سے موصول ہوئی تفصیلات کے مطابق  مشکلات کے شکار اثاثوں  کی تعداد  میں اضافے کی بنیادی وجوہات  میں   منجملہ دیگر باتوں  کے  ،  قر  ض  دینے کی بھرمار ، بعض  معاملات  میں دانستہ خطا کاری ،جعل سازی اور بدعنوانی  اور اقتصادی مندی  جیسی  باتیں  شامل ہیں ۔ 2015  میں شروع  کئے گئے اثاثوں کی کوالٹی  کے نظرثانی کے عمل  ( اے کیو آر )کے نتیجے میں  ،جس  کا مقصد  صاف ستھری  بینک  بیلنس شیٹ تیار کرنا تھا ، اس عمل کے نتیجے  میں یہ بات سامنے آئی کہ غیر منفعت بخش اثاثوںکی تعداد  میں  خاصہ  اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ مذکورہ اے  کیو  آر کے نتیجے میں  اور  بینکوں  کے ذریعہ  بعد ازاں  برتی گئی شفافیت  نے   مشکلات کے شکار کھاتوں  کی ازسرنو زمرہ بندی کرتے ہوئے  انہیں  این پی اے قراردے دیا اور اس سلسلے میں  دئے گئے قرضوں  پر لاحق ہونے والے خسارے  کے لئے  جنہیں   پہلے تشکیل نو شدہ قرضوں سے متعلق لچک  کے تحت نہیں فراہم کرایا گیا تھا ،  انہیں  ازسرنو فراہم کرایا گیا ۔ اس کے علاوہ  مشکلات کے  شکار قرضوں  کے معاملے میں  تمام تر متعلقہ اسکیموں کو  واپس لے لیا گیا ۔ بنیادی طور پر جب  مشکلات  کے شکار اثاثوں کو  غیر منفعت بخش  اثاثوں   کی حیثیت سے شناخت  کیا گیا ، عالمی آپریشنوں  کے سلسلے میں  آر بی آئی ڈاٹا کے مطابق  قومیائے گئے بینکوں  کے مجموعی غیر منفعت بخش  اثاثے  31 مارچ  2015  تک   192809  کروڑروپے  سے بڑھ کر 31مارچ  2017  تک  462114 کروڑروپے کے بقدر ہوگئے اور 31 مارچ  2018  تک  یہ اثاثے  616586  کروڑروپے کے بقدر ہوگئے  اور حکومت کی جانب سے  تسلیم  کئے جانے  ، قرارداد ، ازسرنو پونجی بہم  پہنچائے جانے اور اصلاحات   کے ساتھ ساتھ  بینکوں کو ازسرنو پونجی فراہم کرنے  پر مشتمل حکومت کی  چار نکاتی  حکمت عملی کے نتیجے میں    غیر منفعت بخش اثاثے  (31 مارچ  2019 تک عارضی اعداد شمار کے مطابق  )  49795 کروڑروپے  سے گھٹ کر 566791  کروڑروپے   کے بقدر  ہوگئے ۔ 20-2019  کے مالی سال کے لئے  ماہ مئی تک مجموعی ا  ین  پی اے یعنی غیر منفعت بحش اثاثے کی تفصیلات ابھی دستیاب نہیں  ہیں کیونکہ  اعدادوشمار  صرف سہ ماہی کی بنیاد  پر جمع  کئے جاتے ہیں ۔

سرکاری دائرہ کارکے شعبے کے بینکوں کو  مستحکم بنانے جانے کی غرض سے حکومت  نے چار جامع  کلیدی  حکمت عملی پر مبنی اصولوں کو نافذ کیا ہے ، جن میں  غیر منفعت بخش اثاثوںکو  شفافیت کے ساتھ روشنی میں لانا ،  مشکلات  کےشکار کھاتوں  کے سلسلے میں  قرارداد کی منظوری اور مالیت کی  وصولی  ،  سرکاری دائرہ کار کے شعبے کے بینکو ں کو  ازسرنو پونجی سے آراستہ کرنا اور پی ایس  بی  میں اصلاحات کا نفاذ کرنے کے ساتھ ساتھ ایسا مالی ایکونظام فراہم کرنا جس کے تحت  ایک ذمہ دار اور صاف ستھرا نظام وجود میں آسکے ۔مذکورہ حکمت  عملیوں کے  تحت  جو اقدامات  کئے گئے ہیں ،  ان میں منجملہ دیگر باتوں  کے درج ذیل  امور بھی شامل ہیں ۔

ایس  بی کے بورڈ سے منظورشدہ قرضوں کی پالیسیوں  کے لئے  لازم ہے کہ وہ روپے تقسیم کرنے سے قبل تمام ترضروری منظوریاں  حاصل کرلیں ، گروپ بیلنس شیٹ کی جانچ  پڑتال کرلیں  اور نقد آمدنی  کی حدود کا بھی تعین کرلیں ،  کسی پروجیکٹ کے لئے سرمایہ فراہم کرنے سے قبل نان فنڈ اور مضمر خطرات  کا ادراک بھی کرلیں ۔

  1. پی ایس  بی کے بورڈ سے منظورشدہ قرضوں کی پالیسیوں  کے لئے  لازم ہے کہ وہ روپے تقسیم کرنے سے قبل تمام ترضروری منظوریاں  حاصل کرلیں ، گروپ بیلنس شیٹ کی جانچ  پڑتال کرلیں  اور نقد آمدنی  کی حدود کا بھی تعین کرلیں ،  کسی پروجیکٹ کے لئے سرمایہ فراہم کرنے سے قبل نان فنڈ اور مضمر خطرات  کا ادراک بھی کرلیں ۔
  2. اعداد وشمار سے متعلق وسائل کے سلسلے میں تمام ترضروری  احتیاط   لازم قرار پائی ہیں  اور تھرڈ پارٹی ڈاٹا وسائل  کا استعمال بھی  شروع  کیا گیا ہے اور اس طریقے سے  کسی ایک فرد کی جگہ جعلی طورپر دوسرے فرد کی نمائندگی اور جعل سازی کے خطرا ت کو کم سے کم کیا جائے ۔
  3. نگرانی کا عمل پوری سختی کے ساتھ ،  بڑے قرضوں کی منظوری کے عمل سے علیحد ہ کردیا گیا ہے  اور اس سلسلے میں  مخصوص  نگرانی ایجنسیوں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں  اور 250  کروڑروپے سے زائد کے قرضوں کا عمل مالی  اور دائرہ اختیار سے متعلق تمام جانکاری کو بھی یکجا کیا گیا ہے تاکہ موثر نگرانی  کو یقینی بنایا جاسکے ۔
  4. یکمشت  سیٹلمنٹ   کے سلسلے میں  بروقت  اور بہتر وصولی کے لئے  آن لائن  اینڈ ٹو اینڈ  اوٹی ایس  پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا ہے۔

 

 مالی سال

حقیقی سرمایہ

(کروڑروپے میں

نمبر

2016-17

22,844

1,141

2017-18

6,522

833

2018-19

5,030

404

 

 

 

م ن  ۔رم

987U-2


(रिलीज़ आईडी: 1578060) आगंतुक पटल : 70
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English