وزارت خزانہ
سال 18-2017 میں10.4 ملین غیر ملکی سیاحوں کے مقابلے 19-2018 میں 10.6 ملین غیر ملکی سیاح ہندوستان آئے
خدمات کے سیکٹر میں 19-2018 میں 7.5 فیصد کا اضافہ ہوا
خدمات کے سیکٹر میں ایف ڈی آئی کی آمد اب 28.26 ارب ڈالر تک پہنچی
प्रविष्टि तिथि:
04 JUL 2019 1:09PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 4 جولائی 2019،خزانے اور کارپوریٹ امور کی مرکزی وزیر محترمہ نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ 19-2018 پیش کیا۔ خدمات کا سیکٹر بھارت کی قدرو قیمت میں مجموعی اضافے (جی وی اے) کا 54فیصد ہے۔ 19-2018 میں اس کی شرح ترقی معتدل ہوکر 7.5 فیصد ہوگئی ہے جبکہ 18-2017 میں یہ 8.1 فیصد تھی۔ جن شعبوں میں شرح ترقی کی رفتار میں کمی آئی ہے، ان میں سیاحت ، تجارت ، ہوٹل ، ٹرانسپورٹ ، مواصلات اور براڈکاسٹنگ سے متعلق خدمات ، سرکاری انتظامیہ اور دفاع شامل ہیں۔ البتہ مالیات ، زمین جائیداد اور پیشہ وارانہ خدمت کے زمرے میں تیزی آئی ہے۔ بھارت میں 19-2018 کے دوران 10.6 ملین غیر ملکی سیاح آئے ہیں جبکہ 18-2017 میں 10.4 ملین سیاح بھارت آئے تھے۔ بھارت میں سیاحت سے ہونے والی بیرونی زر مبادلہ کی آمدنی 19-2018 میں 27.7 ارب ڈالر رہی جب کہ یہ 18-2017 میں 28.7 ارب ڈالر تھی۔ آئی ٹی – بی پی ایم (بزنس پراسس منیجمنٹ) کی صنعت میں 18-2017 میں 8.4 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 167 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جبکہ 19-2018 میں اس کے 181 ارب ڈالر تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔
خدمات کے سیکٹر میں بھارت کی قدروقیمت میں مجموعی اضافہ (جی وی اے):
شرح ترقی میں حالیہ اعتدال کے باوجود خدمات کے سیکٹر کے فروغ میں زراعت اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں کے فروغ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے کل جی اے وی میں 60 سے زیادہ تعاون کیا ہے۔
خدمات کے سیکٹر میں تجارت:
اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ 18-2017 (اپریل-دسمبر) میں شاندار کارکردگی کے بعد اپریل- دسمبر 2018 کے دوران خدمات کی برآمد میں کچھ سستی آئی ہے۔ ٹرانسپورٹ خدمات کے ذیلی سیکٹر میں 18-2017 (اپریل-دسمبر) نے اپنی تیزی برقرار رکھی ہے اور اپریل – دسمبر 2018 میں تجارتی اشیاء کی سرگرمیوں میں استحکام کے ساتھ کمپیوٹر اور آئی سی ٹی خدمات کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب اپریل – دسمبر 2018 کے دوران سفر سے ہونے والی وصولیابی میں 18-2017 (اپریل –دسمبر) کے دوران شاندار فروغ کے بعد کچھ گراوٹ آئی ہے ۔ تجارتی خدمات کی برآمدات میں بھی یہی رجحان دیکھنے کو ملا ہے۔ اس دوران خدمات کی درآمد اپریل – دسمبر 2018 میں پچھلے سال کے مقابلے کمی آئی ہے ۔ خدمات کی تجارت میں سرپلس نے 18-2017 (اپریل-دسمبر) میں بھارت کے تجارتی خسارے کو تقریبا 50 فیصد کم کرنے میں مدد کی ہے۔ البتہ خدمات کی تجارت کا سرپلس زیادہ تر کمپیوٹر اور آئی سی ٹی سے حاصل ہوا ہے ۔ البتہ کچھ حد تک سفری خدمات سے بھی اضافہ ملا ہے۔ البتہ بھارت کو تجارتی خدمات میں بہت کم تجارتی سرپلس حاصل ہے اور پنشن اور مالی خدمات میں کم تجارتی خسارہ ہوا ہے۔
خدمات کے سیکٹر میں ایف ڈی آئی:
اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں ایف ڈی آئی کے کل حصص کی آمد میں 60 فیصد سے زیادہ حصہ خدمات کے سیکٹر میں ایف ڈی آئی کی آمد کا ہے۔ 19-2018 کے دوران ایف ڈی آئی کے حصص کی آمد خدمات کے سیکٹر میں پچھلے سال کے مقابلے 1.3 فیصد یا 696 ملین ڈالر کی کمی آئی ہے۔ یہ کمی بھارت میں ایف ڈی آئی کی مجموعی آمد میں آیی معمولی کمی کے خطوط پر ہے۔ ایف ڈی آئی کی آمد میں ذیلی سیکٹروں جیسے ٹیلی مواصلات ، مشاورتی خدمات ، فضائی اور سمندری ٹرانسپورٹ میں کی وجہ سے ہوئی ہے۔ البتہ یہ کمی تعلیم ، خردہ تجارت اور اطلاعات ونشریات میں ایف ڈی آئی کی زیادہ آمد سے پوری ہوئی ہے۔
سیاحت:
اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ سیاحت کا شعبہ اقتصادی ترقی کا ایک بڑا نجن ہے جو جی ڈی پی ، بیرونی زرمبادلہ کی کمائی اور روزگار میں قابل قدر تعاون کرتا ہے۔ بھارت میں سیاحت کے سیکٹر کی کارکردگی بہت اچھی ہے ، جہاں غیر ملکی سیاحوں کی آمد (ایف ٹی اے) میں 14 فیصد کا اضافہ ہوکر 10.4 ملین ہوگیا ہے، بیرونی زرمبادلہ کی کمائی (ایف ای ای) 18-2017 میں 20.6 فیصد کے اضافے کے ساتھ 28.7 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔ البتہ 19-2018 کے دوران اس سیکٹر میں سست روی دیکھنے کو ملی ہے۔ 19-2018 میں غیر ملکی سیاحوں کی آمد (ایف ٹی اے) 10.6 ملین رہا جو 18-2017 میں 10.4 ملین تھا۔ ایف ٹی اے میں شرح ترقی ، جو 18-2017 میں 14.2 فیصد تھی ، 19-2018 میں کم ہوکر 2.1 فیصد رہ گئی۔ سیاحت سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ 19-2018 میں 27.7 ارب ڈالر رہا جبکہ 18-2017 میں 28.7 ارب ڈالر تھا۔ ایف ای ای کی شرح ترقی 18-2017 میں 20.6 فیصد تھی جو 19-2018 میں کم ہوکر منفی 3.3 فیصد ہوگیا۔ حالیہ برسوں میں بیرونی ملکوں میں جانے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ 2016 میں بھارت سے 21.87 ملین سیاح بیرونی ملکوں میں گئے تھے جبکہ 2017 میں ان کی تعداد 23.94 ملین تک پہنچ گئی۔ 2017 میں ان کی شرح ترقی 9 اعشاریہ پانچ فیصد رہی اور یہ تعداد بھارت میں آنے والے سیاحوں سے تقریبا دوگنی تھی۔
آئی ٹی -بی پی ایم خدمات:
اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ نیسکام ڈاٹا کے مطابق 17-2016 میں 154 ارب ڈالر کے مقابلے 18-2017 میں بھارت کی آئی ٹی – بی پی ایم صنعت میں 8.4 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 167 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ (کامرس کے بغیر لیکن ہارڈ ویئر کی شمولیت کے ساتھ) اس کے 19-2018 میں 181 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید ہے۔ 18-2017 میں آئی ٹی- بی پی ایم کی برآمدات میں 7.7 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 126 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور 19-2018 کے لئے اس کا تخمینہ 136 ارب ڈالر تک پہنچنے کا ہے۔ مالی سال 19-2018 کے لئے ای-کامرس کی مارکیٹ کا تخمینہ 43 ارب ڈالر ہے جس میں 12 فیصد کی شرح ترقی کا اظہار ہوتا ہے۔ آئی ٹی خدمات کا زمرہ سب سے بڑا ہے ، جس کی 52 فیصد کی حصہ داری ہے ۔ اس کے بعد بی پی ایم کی حصہ داری تقریبا 20 فیصد ہے۔ سافٹ ویئر مصنوعات اور انجینئرنگ خدمات دونوں کی حصہ داری 19 فیصد ہے جبکہ ہارڈ ویئر کی حصہ داری 10 فیصد ہے۔
میڈیا اور تفریحی خدمات:
اقتصادی جائزے میں کہا گیا ہے کہ میڈیا اور تفریحی سیکٹر خاص طور پر ٹیلی ویزن ، پرنٹ ، ریڈیو ، فلم ، موسیقی ، ڈیجیٹل اشتہار، او ٹی ٹی ، ویجول افیکٹس (وی ایف ایکس) اور گیمنگ شامل ہیں۔ ٹیکنالوجی نے اس سیکٹر کی صورت حال میں تیزی سے تبدیلی کی ہے۔ فکی، میڈیا اینڈ انٹرٹینمنٹ رپورٹ -2019 کے مطابق اس صنعت کا سائز ، جو 2013 میں 91810 کروڑ روپے تھا ، 2018 میں بڑھ کر 167500 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ یعنی پچھلے پانچ برسوں میں 82.44 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ حکومت نے (2018) صوتی وبصری خدمات کو 12 چمپئن خدمات کے شعبوں میں سے ایک کے طور پر نشان دہی کی ہے تاکہ اس کی مکمل صلاحیت سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے اس کی ترقی پر توجہ مرکوز کی جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
م ن۔و ا ۔ ق ر۔
2810U-
(रिलीज़ आईडी: 1577092)
आगंतुक पटल : 27