امور داخلہ کی وزارت
نکسلی تشدد
پوسٹ کرنے کی تاریخ:
02 JUL 2019 3:16PM by PIB Delhi
نئی دہلی، 2 جولائی 2019، امور داخلہ وزیر مملکت جناب جی کشن ریڈی ایک سوال کے تحریری جواب میں آج لوک سبھا کو بتایا کہ جھار کھنڈ میں بائیں بازوؤں کے انتہا پسندی سے متعلق تشدد کے واقعات میں نمایاں طور میں کمی آئی ہے۔ ریاست میں گزشتہ تین برسوں کے دوران بائیں بازوؤں انتہا پسندی سے متعلق ہوئے واقعات کی تعداد اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد حسب ذیل رہیں۔
|
2016
|
2017
|
2018
|
2019
15.06.2019) تک)
|
|
تشدد کے واقعات
|
اموات
|
تشدد کے واقعات
|
اموات
|
تشدد کے واقعات
|
اموات
|
تشد د کے واقعات
|
اموات
|
|
323
|
85
|
251
|
56
|
205
|
43
|
82
|
21
|
بائیں بازؤوں کی انتہا پسندی( ایل ڈبلیو ای ) کی لعنت کا جامع طریقہ سے مقابلہ کرنے کے لئے حکومت ہند نے جنوری 2015 میں ایک قومی پالیسی اور منصوبہ عمل وضع کیا تھا۔ اس میں کثیر جہتی طریقہ کار اپنانے پر زور دیا گیا تھا۔ جس میں سیکوریٹی اقدامات، ترقیاتی اقدامات، مقامی آبادی کےحقوق کا تعین اور ان کا استحقاق وغیرہ شامل تھا۔
وزارت امور داخلہ، سی اے پی ایف بٹالینوں کی تعیناتی، ہیلی کاپٹر اور یو اے وی کے انتظامات نیز انڈیا ریزور بٹالین(آئی آر بی)/ اسپیشل انڈیا ریزور بٹالین( ایس آئی آر بی ایس) وغیرہ کی تعیناتی کرکے ریاستی حکومتوں کی بڑے پیمانے پر مدد کررہی ہیں۔ریاستی پولیس، خفیہ ایجنسیوں اور سینٹرل آرمڈ پولیس فورسیز( سی اے پی ایف ایس) کی صلاحیت سازی کے لئے پولیس فورس جدید کاری( ایم پی ایف)، سیکوریٹی سے متعلق اخراجات(ایس آر ای) اسکیم اور خصوصی بنیادی ڈھانچہ جاتی اسکیم(ایس آئی ایس) کے تحت فنڈ مہیا کراتی ہیں۔
حکومت ہند کی متعلقہ وزارتوں کے ذریعہ مسائل کے التزام اور اسکیموں کے مخصوص عمل درآمد کے ذریعہ ترقیاتی مداخلتیں کی جاتی ہیں۔ایل ڈبلیو ای متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے نمایاں طور پر کوششیں کی گئی ہیں۔ان کوششوں میں بائیں بازؤوں سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً 11000 کلو میٹر سڑکوں کی تعمیر شامل ہیں۔ان میں سے 5500کلو میٹر سڑکیں تعمیر ہوچکی ہیں۔ ٹیلی مواصلات کو بہتر بنانے کے لئے 2335 موبائل ٹاور نصب کئے گئے ہیں اور پروجیکٹ کے اگلے مرحلے میں 4072 موبائل ٹاور نصب کئے جائیں گے۔
ایل ڈبلیو ای سے متاثرہ زیادہ تر اضلاع میں ترقیاتی سرگرمیوں کو مزید تیز کرنے اور بنیادی ڈھانچہ جاتی فرق کو دور کرنے کے لئے‘‘ خصوصی مرکزی امداد اسکیم’’ سالانہ 33.33کروڑ روپے کے حساب سے ریاستی حکومتوں کو فنڈ مہیا کرایا جاتا ہے۔
پالیسی کے تیز رفتار عمل درآمد کے نتیجے میں بائیں بازؤوں کی انتہا پسندی سے متعلق تشدد اور اس کے جغرافیائی حدود میں لگاتار کمی آئی ہیں۔تشدد سے متعلق واقعات جو 2009 میں سب سے زیادہ 2258 تھے ان میں2018 میں833 تک کمی آئی ہیں۔تشدد کے نتیجے میں ہونے والی اموات کی تعداد جو 2010 میں 1005 تھی اس میں تیزی سے کمی آئی ہے اور انہیں 2018 میں 240 ہوئیں۔ بائیں بازؤوں کی انتہا پسندی سے متاثرہ جغرافیائی دائرے میں بھی کمی آئی ہے۔ جس کا ثبوت متاثرہ اضلاع کی تعداد میں کمی آنا ہے۔
حکومت نے خفیہ معلومات کے تبادلے اور متعلقہ ایجنسیوں کے درمیان تال میل کو بہتر بنانے کے لئے بھی اقدامات کئے ہیں۔
U- 2754
(ریلیز آئی ڈی: 1576698)
وزیٹر کاؤنٹر : 57