وزارت دفاع

دفاعی شعبے میں خودکشی کے معاملات

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 13 FEB 2019 4:42PM by PIB Delhi

نئی دہلی،  13 فروری 2019، گزشتہ برسوں کے دوران مسلح افواج میں خودکشی اور برادر کشی کی تعداد سے متعلق تفصیلات حسب ذیل ہیں:

سال

فوج

بحریہ

فضائیہ

مشتبہ خودکشی کے معاملات

برادر کشی کی تعداد

مشتبہ خودکشی کے معاملات

برادر کشی کی تعداد

مشتبہ خودکشی کے معاملات

برادر کشی کی تعداد

2016

104

02

06

Nil

19

01

2017

75

01

05

Nil

21

Nil

2018

80

01

08

Nil

16

Nil

 

مسلح افواج کے ذریعہ اپنے افسروں اور دیگر رینکوں  کے لئے صحت مند اور ساز گار  ماحول بنانے کے مقصد سے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ ان میں سے چند اقدامات حسب ذیل ہیں:

  • بہتر معیاری سہولتوں کا التزام، جس میں پوشش، خوراک، شادی شدہ جوڑوں کے لئے رہائش گاہیں، سفری سہولتیں، اسکولی، تفریح وغیرہ اور فلاح و بہبود سے متعلق متواتر میٹنگ شامل ہیں۔
  • دباؤ بندوبست کے ایک اوزار کے طور پر یوگا اور دھیان کا انعقاد۔
  • نفسیاتی کاؤنسلروں کی تربیت اور تعیناتی۔
  • فوجیوں کے درمیان تناؤ کو کم کرنے کے لئے شمالی و مشرقی کمان میں فوج کے ذریعہ ‘ملاپ’ اور ‘سہیوگ’ جیسے پروجیکٹوں کو ادارہ جاتی شکل دینا۔
  • پیشہ وارانہ کاؤنسلنگ (سمجھانا بجھانا)کے لئے فوج اور فضائیہ نے ایک ‘مانسک سہایتا ہیلپ لائن’ قائم کی ہے۔
  • فوج میں شمولیت سے پہلے ہونے والی ٹریننگ کے دوران ذہنی صحت بیداری  کی سہولت دستیاب کرائی جاتی ہے۔
  • آئی این ایچ ایس اے میں ملیٹری سائکیاٹری ٹریٹمنٹ سینٹر یعنی فوجی نفسیاتی علاج مرکز کی تشکیل اور  ممبئی، وشاکھا پٹنم، کوچی، پورٹ بلیئر، گوا اور کاروار میں مینٹل ہیلتھ سینٹرس کا قیام۔

یہ اطلاع رکشا راجیہ منتری ڈاکٹر سبھاش بھامرے نے آج لوک سبھا میں جناب ہریش چندر عرف ہریش دویدی کو  ایک تحریری جواب میں دی۔

 

U- 942


(ریلیز آئی ڈی: 1564294) وزیٹر کاؤنٹر : 87
یہ ریلیز پڑھیں: English