نائب صدر جمہوریہ ہند کا سکریٹریٹ

نوجوانوں کو  ہندوستان کے تہواروں کی  رنگا رنگ اور  مالامال روایات کو سمجھنا چاہئے ،تہوار ہماری زندگی میں جذبہ باہمی ،اتحاد ، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتے ہیں


پتنگ بازی اپنے آپ میں ایک زبردست تجربہ ہے    ،یہ عمر ،درجے اور ذات پات کی سرحدوں  کی تفریق کا امتیاز نہیں کرتا

سکندر آباد میں چوتھے بین الاقوامی پتنگ بازی میلے کا افتتاح

प्रविष्टि तिथि: 13 JAN 2019 5:52PM by PIB Delhi

نئی دہلی 14  جنوری  ۔نائب صدرجمہوریہ ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے نئی نسل کو تلقین کی ہے کہ  ہندوستانی  تہواروں کی مالامال اور رنگا رنگ  روایات کو سمجھنا چاہئے  اور   ہماری منفرد ثقافت اور عوامی  فنون  کے فروغ  اور انہیں  مالامال بنایا جانا چاہئے ۔ جناب وینکیا نائیڈ و  اتوار کے روز   سکندرآباد کے   پریڈ گراؤنڈ میں   چوتھے بین الاقوامی  پتنگ بازی میلے کا افتتاح کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ تہوار  سماجی رشتوں کو مضبوط کرنے کے مواقع ہوتے ہیں اور  فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قومی اتحاد کے جذبے کو فروغ دیتے ہیں۔ یہ دراصل  ہماری روایات اور وراثت   کی نشاۃ الثانیہ     ،باز بحالی اور احیا کی علامت ہیں  اور آج کی تیز رفتار دنیا میں  جذبہ باہمی  ،اتحاد  ، محبت اور بھائی چارے کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ ہم نے ایسے تہواروں میں    کنبوں  ،گھرانوں اور سماجوں کو یکجا ہوتے دیکھا ہے ۔ یہ تہوار  سماجی رشتوں کو مضبوط بنانے کے مواقع فراہم کراتے ہیں۔ 

          فصلوں کی کٹائی کے تہوار مکر سنکرانتی  کو زندگی    کی طاقتوں کی تہوار قراردیتے ہوئے  جناب نائیڈو نے کہا کہ  ہمارے عظیم تہوار  عظیم تاریخی اور مذہبی    اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔  یہ دراصل   الوہیت اور  عقل وخرد  کے مظہر سورج دیوتا کا تہوار ہے ۔   وہ  لوگ جو اس  موقع پر اظہار تشکر میں شریک ہوتے ہیں ،    وہ  مستقبل کی  خوشیوں سے سرشار ہوتے ہیں۔جناب نائیڈو نے اس موقع پر کچھ لمحوں تک   پتنگ بازی میں بھی اپنے ہاتھ آزمائے  ۔ انہوں نے کہا کہ پتنگ بازی کا جادو عمر ،درجے اور ذات پات کے امتیاز کی پرواہ نہیں کرتا  اور پتنگ اُڑانا اپنے آپ میں ایک زبردست تجربہ ہے اور پتنگ سازی ایک ایسا فن ہے جس کے لئے انتہائی ہنر مندی   ،درستگی  ، نیک نیتی  اور جدت  طرازی   درکار ہوتی ہے ۔    

          یہ کہتے ہوئے کہ ہندوستان کی زبردست ہمہ جہت  کثرت اور اجتماعیت نے  اسے متعدد رنگا رنگ تہواروں کی آماجگاہ بنادیا ہے  ۔جناب نائیڈو نے زور دے کر  کہا کہ   تہواروں میں  پنہاں  معنی اور قدروں  کو سمجھے جانے  کی ضرورت ہے ۔ ہمارے تہوار   قدرت سے   گہرائی کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ اس موقع پر منعقد مٹھائیوں کے میلے میں دنیا کےمختلف ملکوں   کی  1200مٹھائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ شیرینی زندگی  کے شیریں واقعات کی علامت ہیں   اور انہیں ہندوستانی ثقافت اور روایات میں انتہائی  وقعت  و اہمیت   حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ   یہ مٹھائیاں    آسودگی   ،مسرت    اور  کثرت کی علامت ہیں  اور ہماری تقریبات کو انتہائی خوش رنگ بناتی ہیں۔   یادرہے کہ اس بین الاقوامی پتنگ بازی میلے میں  دیگر ملکوں کے 42  پتنگ باز اور ہندوستان کے 60  پتنگ باز شرکت کررہے ہیں ۔

          اس میلے میں  تلنگانہ کے وزیر داخلہ جناب محمد محمودعلی    ،  دہلی میں تلنگانہ کے گورنر کے خصوصی     نمائندے  جناب ایس رینو گوپالا چاریہ   اور تلنگانہ قانون ساز کونسل کے چیئرمین    جناب   سوامی گوڑ   ، ورلڈ کلچرل  ٹورزم    ایسوسی ایشن کے صدر   جنرل آفیسر کمانڈنگ   تلنگانہ اینڈ آندھرا پردیش    سب ایریا  ، میجرجنرل جناب شری نواس راؤ نے  شرکت کی ۔

اس موقع پر جناب وینکیا نائیڈو کی تقریر کا متن حسب ذیل ہے :

          مجھے اس عظیم الشان  ثقافتی تقریب تلنگانہ انٹر نیشنل کائٹ فیسٹول میں شرکت کرتے ہوئے ازحد مسرت ہورہی ہے۔  مجھے بتایا  گیا ہے کہ اس تہوار کے تیسرے دور  میں ہندوستان سمیت دنیا کے 19  ممالک کے تقریباََ 100  جوشیلے پتنگ بازوں نےشرکت کی تھی۔   ہرسال   ہزاروں افراد  مکر سنکرانتی کے موقع پر یہ رنگا رنگ میلہ دیکھنے آتے ہیں۔ ہندوروایات اور رواجوں میں مکر سنکرانتی انتہائی یوم مقدس ماناجاتا ہے ۔ پورے ملک کے لوگ اسے انتہائی جوش وجذبے کے ساتھ مناتے ہیں ۔ یہ تہوار ملک کے مختلف  علاقوںمیں مختلف ناموں سے منایا جاتا ہے ۔  جنوبی ہندوستان میں  یہ پونگل کے نام سے مقبول ہے ۔ پنجاب اور ہریانہ میں اسے لوہڑی کے نام سے منایا جاتا ہے ۔  آسام میں   اسے بیہو کے نام سے اور بہار میں اسے کھچڑی کے نام سے منایا جاتا ہے ۔ اس میلے کو  زبردست تاریخی اور مذہبی حیثیت حاصل ہے ۔    یہ تہوار دراصل الوہیت اور عقل وخرد کے مظہر سورج دیوتا کا تہوار ہے ۔   

          دراصل مکر سنکرانتی   یااترائن   وہ روز ہے جب  سورج شمال کی طرف اپنا سفر شروع کرتا ہے ، جہاں سے  موسم سرما کا اختتام شروع  ہو تا ہے ۔  دن بڑے ہونے لگتے ہیں  ،آسمان صاف ہوجاتے ہیں اور ہوائیں گرم ہونے لگتی ہیں۔ یہ اظہار تشکر کا تہوار منانے والے لوگ  مستقبل کی خوشیوں سے سرشار ہوتے ہیں ۔دراصل یہ تہوار نشاۃ الثانیہ   ،باز بحالی اور احیا کا تہوار ہے ۔ سنکرانتی  فصلوں کی کٹائی کا بھی  تہوار ہے  ، جو زندگی  اور          قوت حیات  کی علامت ہے ۔

          پتنگ بازی سے وابستہ سرور  ، عمر ،درجہ اور ذات پات کو درکنار کردیتا ہے ۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ     ہمارے بادشاہوں اور نوابوں کی سرپرستی میں  پتنگ بازی کو فروغ  حاصل ہوا ۔ انہوں  نے اس کھیل کو انتہائی دلچسپ سمجھا    اوراسے  اپنی طاقت اور اختیار    کےا ظہار کا وسیلہ  بنایا  ۔اس کے ساتھ ہی  پتنگ سازی  اور پتنگ بازی  کے لئے     مطلوب ہنر مندی   ، نیک نیتی اور  جدت طرازی   مطلوب ہوتی ہے ۔ اس نے   خود پتنگ بازی کو ایک فن کی حیثیت عطا کردی ہے ۔ میں ان تمام پتنگ سازوں  کو خراج مسرت پیش کرتا ہوں  ۔جن کی  صنعت اور خلاقی    اس تین روزہ میلے میں اپنے جوہر دکھائے  گی۔

بہنو اور بھائیو!

          ہندوستان کی زبردست کثرت اور اجتماعیت نے اسے مختلف   رنگا رنگ تہواروں کی آماجگاہ بنادیا ہے ۔ ہمارے تہوار قدرت سے بہت  گہرائی کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور   ہماری ثقافتی روایات کی فعالیت اور قوت کی عکاسی کرتے ہیں ۔    ہندوستان میں تہوار   کنبوں اور سماجوں کے یکجا ہونے کے مواقع ہوتے ہیں ۔ یہ  دراصل جذبہ باہمی  اتحاد  ، محبت   اور بھائی چارے کی تقریب  ہے ۔  یہ ہمارے سماجی رشتوں   کو  مزید مضبو ط کرنے کا زبردست موقع ہے ۔ ہندوستان میں میلے   ،قومی اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے جذبے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کیونکہ  اکثر یہ میلے   مذہب  اور  ذات پات  کی تفریق سے بالاتر ہوتےہیں۔

          آج کی تیزرفتار دنیا میں جہاں   ہمارے گھروں اور کنبوں  کے لوگ ایک دوسرے سے الگ  رہتے ہیں اور کام کرتے ہیں ۔  ان میلوں کی  تقریبات   جذبہ باہمی کے حساس   کو فروغ دیتے ہیں  ۔ یہی سبب ہے کہ یہ تہوار اپنے آپ میں زبردست اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔  تہوار پڑوسیوں کو  ایک دوسرے سے  گفتگو کر نے کے مواقع فراہم کراتے ہیں۔   یہ  خلاقیات کو مہمیز کرتے ہیں ۔شہری افتخار کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں اور عمومی نفسیاتی  زندگی میں  بہتری پیدا کرتے ہیں  اور ملکوں اورسماجوں    کو پرمسرت  اور زندگی کے لئے محفوظ اور بہتر مقام بناتے ہیں ۔    اس کے ساتھ  ہی ہمارے تہوار ہمارے بچوں کو  ہماری مالامال    اساطیری     روایات     کی تعلیم دیتے ہیں ۔  اس کے ساتھ ہی ساتھ  یہ  ہمارے سماج میں موجود عظیم تنوع        کا مشن منانے کی تعلیم دیتے ہیں  ۔آئیے  ہم  اپنی بچیوں کو    ان خوبصورت   پتنگوں کی  طرح  آسمانوں کی بلندیوں پر  اپنے رنگ دکھانے کی ترغیب دیں ۔ یہ جاننا  بھی اپنے آپ میں  انتہائی   دلچسپ ہے کہ ہندوستان کے تہواروں    کے مرکزی خیالوں کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے     اور قدرت سے ہم آہنگی کا پیغام دیتے ہیں۔اسی طرح  پتنگ بازی کا یہ میلہ بھی  پتنگ سازی میں استعمال ہونے والے   مواد   کے استعمال    کی عہد بستگی کرتا ہے ۔   

          آج ہندوستان   صفائی ستھرائی کے اپنے دورافتادہ نشانے کو حاصل کرنے کے بہت  قریب  پہنچ چکاہے ۔ آئیے ہم اس تہوار کو ملک  میں منائے جانے والے سبھی تہواروں کے لئے  ایک مثالی تہوار بنائیں  ۔   مجھے بتایا گیا ہے کہ پتنگ بازی کےاس میلے میں   تلنگانہ کے منفرد    فنون  اور ثقافت   کے مظاہرے بھی پیش کئے جائیں گے ۔  ہمارے فنون میں مضمر نفاست اور صفائی  ہمارے لئے ہمیشہ باعث افتخار رہی ہے ۔ ہمیں  اپنی   غیر معمولی کلاسیکی   اور عوامی فنون     کی حفاظت ،فروغ  اور اسے مالامال بنانے کی   حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے ۔ اس طرح کے مظاہرے ہمارے فنون کو   ناظرین کے سامنے پیش کرنے       اور ہماری قوت حیات   اور اہلیت کے تسلسل کو یقینی بنانے کے مواقع فراہم کراتے ہیں ۔ مجھے یہ دیکھ کر بھی خوشی ہوئی  ہے کہ    ہندوستان اور دنیا    کے  مختلف سماجوںکی مٹھائیوں سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرانے والایہ      دوسرا بین الاقوامی مٹھائی میلہ  پتنگ بازی کے میلے کے ساتھ ہی    ہندوستان میں لوگ عرصہ دراز سے  کھانے اور مٹھائیوں کے شوقین رہے ہیں اور انہیں ہماری روایات میں عظیم تر ین اہمیت حاصل ہے ۔ ہماری تاریخ ساز مٹھائیاں  پوری دنیا میں مشہور ہیں ۔ ہم اپنا   ہرمقدس تہوار کو  مٹھائیوں کی لذت کے ساتھ  مناتے ہیں  ۔ یہ مٹھائیاں  آسودگی  ،مسرت  اور کثرت کی علامت ہیں اور ہماری تقریبات کو وسیع تررنگا رنگ   ذائقے عطا کرتی ہیں۔

          مجھے یہ جان کر بھی ازحد خوشی ہوئی کہ ہمارے حیدرآباد کے   مقامی مٹھائی بنانے والوں  کو بااختیار بنائے جانے کی غرض سے  اس  مٹھائی میلے میں خصوصی طور سے دیسی طریقے سے تیار کی گئی مٹھائیاں  پیش  کی جائیں گی ۔ میں   اس  پتنگ بازی میلے  ،اس کے منتظمین ، تلنگانہ کے محکمہ سیاحت اور حکومت ہندکی وزارت صحت اور اس میلے میں شریک ہونے والے تمام لوگوں کو اپنی نیک خواہشات پیش کرتا ہوں ۔ خدا کرے کہ یہ ہوائیں  ہمیشہ ہمارے لئے سازگار رہیں  ۔  جے ہند!     

         

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

U-301


(रिलीज़ आईडी: 1559812) आगंतुक पटल : 266
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English