نیتی آیوگ
نیتی آیوگ نے نیو انڈیا75@کے لئےحکمت عملی کا اجراء کیا ہے
اس حکمت عملی میں ترقی کو ایک جَن آندولن بنانے کی بات کہی گئی ہے، ترقی کے ذرائع، بنیادی ڈھانچے، شمولیت اور حکمرانی کے بارے میں اہم سفارشات کی تفصیلات دی گئی ہے
प्रविष्टि तिथि:
19 DEC 2018 6:28PM by PIB Delhi
نئی دہلی،18دسمبر 2018؍نیتی آیوگ نے نئے ہندوستان کے لئے آج اپنی جامع قومی حکمت عملی کا انکشاف کیا، جس میں 23-2022ء کے لئے اس کے مقاصد کی وضاحت کی گئی ہے۔ یہ ایک تفصیلی دستاویز ہے، جس میں ان اہم 41شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں پہلے ہی حاصل کردہ ترقی کو تسلیم کیا گیا ہے، دشواریوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کا طریقہ تجویز کیا گیا ہے، جن کی پہلے ہی وضاحت کی جاچکی ہے۔
‘اسٹریٹیجی فار نیو انڈیا @75، کا اجراء آج مرکزی وزیر خزانہ جناب ارون جیٹلی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران نیتی آیوگ کے نائب چیئرمین ڈاکٹر راجیو کمار، ممبر ان ڈاکٹر رمیش چند اور ڈاکٹر وی کے سرسوت اور سی ای او جناب امیتابھ کانت کی موجودگی میں کیا۔
2022ء تک ایک نئے ہندوستان کے قیام کے وزیر اعظم کے بلند نعرے سے فیضان اور ہدایت حاصل کرتے ہوئے نیتی آیوگ نے حکمت عملی کی یہ دستاویز مرتب کرنے کا کام انجام دیا ہے۔
اس کے پیش لفظ میں وزیر اعظم کا کہنا ہے ‘‘اسٹریٹیجی فار نیو انڈیا @75 جسے نیتی آیوگ نے مرتب کیاہے، جس میں اختراع ، ٹیکنالوجی ، صنعت کاری اور باصلاحیت مینجمنٹ کو ایک ساتھ جمع کر دیا گیا ہے اور یہ سب کے سب پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کیلئے بے حد اہمیت کے حامل ہے۔ اس سے بحث و مباحثے اور تبادلہ خیال کی حوصلہ افزائی ہوگی، نیز پالیسی کو مزید بہتر بنانے کے لئے اس میں فیڈ بیک دینے کے لئے بھی کہا گیا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ عوام کی شرکت کے بغیر اقتصادی کایا پلٹ ممکن نہیں ہے۔ ترقی کو ایک جن آندولن کی شکل اختیار کرنی چاہئے۔’’
نیتی آیوگ نے اس حکمت عملی کو مرتب کرنے میں سب کو شامل کرنے کی پالیسی اختیار کی ہے۔نیتی آیوگ کے ہر شعبے نے ساجھیداروں کے تمام گروپوں یعنی کاروباری افراد ، سائنسدانوں سمیت ماہر ین تعلیم اور سرکاری اہلکاروں سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے۔
اس کے بعد نائب چیئرمین کی سطح پر ساجھیداروں کے سات گروپوں کے سرکردہ افراد سے صلاح و مشورہ کیا گیا ہے، جن میں سائنسداں اور جدت طراز ، کسان، سول سوسائٹی کی تنظیمیں ، مفکرین ،مزدوروں کے نمائندے اور ٹریڈ یونینیں نیز صنعتی نمائندے شامل تھے۔
تجاویز اور تبصروں کے لئے مرکزی وزارتوں سے رابطہ قائم کیا گیااور صلاح ومشورے کے لئے ہر ایک باب کو علیحدہ علیحدہ وزارتوں کے پاس بھیجا گیا۔دستاویز کے مسودے کو تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے پاس بھی بھیجا گیا، جہاں سے قابل قدر تجاویز موصول ہوئیں جنہیں دستاویز میں شامل کیا گیا۔
اس دستاویز کی تیاری کے سلسلے میں حکومت کے اندر –مرکزی ،ریاستی اور ضلعوں کی سطح پر 800 سے زیادہ ساجھیداروں اور تقریباً550 باہری ماہرین سے مشورہ لیا گیا۔
حکمت عملی کی اس دستاویز میں خاص توجہ پالیسی ماحول کو مزید بہتر بنانے پر دی گئی ہے، جس میں نجی سرمایہ کار اور دیگر ساجھیدار نیو انڈیا 2022ءکے لئے اور 2030ء تک ہندوستان کو 5ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت بنانے کے مقاصد کے حصو ل میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔
اس دستاویز کے 41 ابواب کو چار سیکشنوں میں تقسیم کیا گیا ہے: ڈرائیورس یعنی ذرائع، بنیادی ڈھانچہ، شمولیت اور حکمرانی۔
ڈرائیورس یا ذرائع کے بارے میں پہلے سیکشن میں اقتصادی کارکردگی کے محرکات پر توجہ دی گئی ہے، جس میں ترقی اور روزگار ، کسانوں کی آمدنی دوگنی کرنے، سائنس، ٹیکنالوجی اور جدت طرازی نیز ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانے پر توجہ دی گئی ہے، نیز سیاحت کو فروغ دینے کیلئے کہا گیا ہے۔
ڈرائیورس یعنی ذرائع کے بارے میں کچھ اہم سفارشات اس طرح ہیں:
- اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنا ، تاکہ 23-2018کے دوران اوسط بنیاد پر جی ڈی پی ترقی کی شرح تقریباً 8 فیصد حاصل کی جاسکے۔ اس سے اقتصادیات کا سائز جو 18-2017ء میں 2.7ٹریلین امریکی ڈالر ہے، 23-2022ء تک تقریباً4ٹریلین امریکی ڈالر ہوجائے گا۔ سرمایہ کاری کی شرح میں اضافہ 2022ء تک جی ڈی پی کی موجودہ 29فیصد کی جگہ 36فیصد ہوجائے گا۔
- زراعت کے شعبے میں کسانوں کو زرعی صنعت کار بنانے پر زور دیا جائے گا اور یہ کام ایگریکلچرل پروڈیوس مارکیٹنگ کمیٹی ایکٹ کو ایگریکلچرل پروڈیوس اینڈ لائیو اسٹاک مارکیٹنگ ایکٹ سے تبدیل کرکے کیا جائے گا۔
- ‘زیر و بجٹ نیچرل فارمنگ’ تکنیکوں کو فروغ دیا جائے گا، جس سے لاگت کم آئے گی، زمین کے معیار میں بہتری پیدا ہوگی اور کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
- روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع کو یقینی بنایاجائے گا، مزدوروں کے قوانین کو مکمل طورپر باضابطہ بنانا اور صنعت کاری کا درجہ بڑھانے اور اس میں توسیع کرنے کی زبردست کوششیں کی جائیں گی۔
- معدنیات کی تلاش اور لائسنسنگ پالیسی کو بہتر بناکر ‘‘ایکسپلور اِن انڈیا’’ نامی مشن کی شروعات کی جائے گی۔
دوسرا سیکشن: بنیادی ڈھانچے کے بارے میں۔یہ سیکشن ترقی کی ان بنیادوں سے متعلق ہے ، جو ہندوستانی کاروبار کسی کی مسابقت کو بڑھانے میں بے حد اہمیت کی حامل ہے، اس میں شہریوں کی زندگی کو آسان بنانے کو بھی یقینی بنایاگیاہے۔
اس سیکشن کی کچھ اہم سفارشات مندرجہ ذیل ہیں:
- ریل ڈیولپمنٹ اتھارتی(آر ڈی اے) کے قیام میں تیزی لانا، جس کی منظوری پہلے ہی دی جاچکی ہے۔آر ڈی اے، ریلوے کے مربوط ، شفاف اور انقلابی نوعیت کے پرائسنگ طریقہ کار کے بارے میں مربوط فیصلے کرے گا اور اس سلسلے میں مشورہ دے گا۔
- ساحلی جہاز رانی اور اندرون ملک آبی راستوں کے ذریعے ڈھوئے جانے سامان کی مقدار دوگنی کی جائے گی۔جب تک بنیادی ڈھانچے کو پوری طرح ترقی نہ دے دی جائے، اس وقت تک فنڈکے درمیان فرق کی رقم کو دستیاب کرایا جائے گا۔ٹرانسپور ٹ کے مختلف ذرائع کو مربوط کرکے آئی ٹی کی مدد سے ایک پلیٹ فارم کو ترقی دی جائے گی۔
- 2019ء میں بھارت نیٹ پروگرام مکمل ہونے تک سب کے سب 2.5لاکھ گرام پنچایتوں کو ڈیجیٹل اعتبار سے آپس میں جوڑ دیا جائے گا۔ 23-2022ء تک ریاستی ،ضلعی اور گرام پنچایت کی سطح کی تمام سرکاری خدمات کو ڈیجیٹل اعتبار سے فراہم کیا جائے گا۔
شمولیت سے متعلق باب:یہ باب ہندوستان کے تمام شہریوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے سے متعلق ہے۔ اس باب میں جن موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے، وہ صحت، تعلیم اور روایتی طورپر نظر انداز کئے گئے آبادی کے طبقوں کو اصل دھارے میں شامل کرنے سے متعلق ہیں۔
اس سیکشن کی کچھ اہم سفارشات اس طرح ہیں:
- آیوش مان بھارت کی کامیاب تکمیل ، جس میں پورے ملک میں ایک لاکھ پچاس ہزار صحت اور علاج کے مراکز کا قیام اور پردھان منتری جن آروگیہ ابھیان(پی ایم -جے اے وائی) کو شروع کرنا بھی شامل ہے۔
- مرکزی سطح پر، ریاستی ہم منصبوں کے ساتھ عوامی صحت کو ایک مرکزی نکتہ بنانا اور دواؤں کے مربوط نصاب کو فروغ دینا۔
- اسکولی تعلیمی نظام اور ہنرمندی کے معیار کو بہتر بنانا، جس میں 2020ء تک کم از کم 10ہزار اٹل ٹنکرنگ تجربہ گاہیں قائم کرکے ایک نئے اختراعی ماحولیاتی نظام کی تشکیل بھی شامل ہے۔
- ہر ایک بچے کے تعلیمی نتائج کا ریکارڈ رکھنے کے لئے ایک الیکٹرونک قومی تعلیمی رجسٹری قائم کرنا۔
- جیسا کہ دیہی علاقوں میں کیا جاچکا ہے، شہری علاقوں میں سستے مکانات کے قیام کو فروغ دینا ، تاکہ مزدوروں کا معیار زندگی بلند ہوسکے اور اقتصادی ترقی کو تیز رفتاری فراہم کرکے سب کے لئے یکسانیت کو یقینی بنایاجاسکے۔
حکمرانی سے متعلق آخری سیکشن:اس سیکشن میں اس بات پر توجہ دی گئی ہے کہ کس طرح حکمرانی کے ڈھانچوں کو معقول بنایا جائے اور بہتر نتائج کے لئے طریقہ کار سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایاجائے۔
حکمرانی کے بارے میں اس سیکشن بعض اہم سفارشات اس طرح ہیں:
- ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیوں اور معیشت کی بڑھتی ہوئی پیچیدگی کے ماحول میں اصلاحات کی کامیابی کی تمہید کے طورپر دوسرے انتظامیہ اصلاحات کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کرنا۔
- ایک نیا خود مختار ادارہ قائم کرنا یعنی آربیٹریشن کاؤنسل آف انڈیا، تاکہ فیصلے کے عمل کو کفایتی اور تیز رفتار بنایاجاسکے اور عدالت کی مداخلت کی ضرورت کو پہلے ہی روکا جاسکے۔
- زیر التوا کیسوں پر توجہ دینا اور اس سلسلے کو بوجھ کو باضابطہ عدالتوں سے ہٹا کر دوسری جگہ منتقل کرنا۔
- سوچھ بھارت مشن کے دائرہ کار میں توسیع، تاکہ اس میں کوڑے کے پہاڑوں، استعمال شدہ پلاسٹک کے ٹکڑے اور میونسپل کچرے سے نپٹنا نیز کچرے سے دولت پیدا کی جاسکے۔
اس دستاویز کی تفصیلات کیلئے اس ویب سائٹ کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے: http://niti.gov.in/the-strategy-for-new-india
U: 6356
(रिलीज़ आईडी: 1556695)
आगंतुक पटल : 40