ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے انتظامات کو مستحکم کرنے سے بھارت اپنے یہاں طویل المدت بنیاد پر موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نصب العین کی ضروریات کی تکمیل  کرسکے گا: نئی رپورٹ


ڈاکٹر ہرش وردھن کے ذریعہ   جنگلاتی آگ انتظام مستحکم کرنے کے موضوع پررپورٹ کا اجرأ

پوسٹ کرنے کی تاریخ: 09 OCT 2018 5:30PM by PIB Delhi

نئیدہلی09اکتوبر۔ماحولیات ، جنگلات اورموسمیاتی تبدیلی کے وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ جنگلاتی آگ کی روک تھا م کو عوامی تحریک کی شکل دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ تعداد میں  عوام الناس کو اس کام میں شریک کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ جنگلاتی آگ سے متعلق انتظام ،ہمہ گیر جنگلاتی انتظام کے ہمارے طویل المدت تصوراتی خاکے کا ایک لازمی جزو ہے ۔ ’’ بھارت میں جنگلاتی آگ ،انتظامات کا استحکام ‘‘  کے موضوع پر  مشتمل ایک رپورٹ کے اجرا کے موقع پر یہاں اظہار خیال کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ اس رپورٹ  میں جو سفارشات کی گئی ہیں ، ان پر موثر طریقے سے عمل کیا جانا چاہئے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب ایک بار ان سفارشات کا نفاذ عمل میں آجائے گا تو جنگلات میں لگنے والی آگ کے معاملات میں کافی حد تک کمی آجائے گی ۔وزیر موصوف نے یہ تجویز بھی رکھی کہ جنگلاتی آگ سے نمٹنے میں سائنس اور ٹکنالوجی کی وزارت کا تعاون بھی حاصل کیا جانا چاہئے ۔

          ڈاکٹر ہرش وردھن نے اشارہ کیا کہ اس رپورٹ  میں شامل مختلف النوع سفارشات  صرف اسی وقت افادی ثابت ہوں گی جب ان پر پوری سرگرمی اور خلوص نیت پر مبنی حکمت عملی کے توسط سے عمل کیا جائے ۔ وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ جنگلاتی آگ کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج  کی ایک وجہ ہے ،جس سے گلوبل وارمنگ یا کرہ ٔارض  کے درجٔہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس لحاظ  سے یہ رپورٹ  وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی رہنمائی میں بروقت زیر عمل لایا جانے والا امر ہے  ، جس کے تحت  قومی طور پر تعین شدہ تعاون  کے تحت  موسمیاتی اہداف  کو حاصل کیا جاسکتا ہے ، جنہیں  پیرس معاہدے کے تحت   متعین کیا گیا تھا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ انہوں  نے ریاستی محکمہ جنگلات  کے تحت  ایک صحت مند مثبت مسا بقتی ماحول پیدا کرنے کے لئے خدمات کے اعتراف سے متعلق ایوارڈس  کی تشکیل  کی تجویز رکھی تھی ۔ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہواہے جب وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دانشمندانہ اور بصیرت افروز قیادت میں اس طرح کا کوئی قدم اٹھایا گیا ہے ۔

          اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے عالمی بینک کے کنٹری ڈائرکٹر  (انڈیا ) ڈاکٹر جنید کمال احمد نے کہا کہ جنگلاتی آگ متعدد ممالک میں   ایک بڑی چنوتی ثابت ہوئی ہے اوراکثر اس طرح کے حادثات کے نتیجے میں  جنگلات پر اپنی روزی روٹی کے لئے براہ راست طور پر انحصار کرنے والے افراد کے جان ومال کو ا س سے زبردست خطرہ لاحق ہوتا ہے ۔

          میٹنگ کے دوران ایک پریذینٹیشن بھی پیش کیا گیا ،.جس میں یہ بات واضح کی گئی کہ جنگلاتی آگ کی نوعیت  کا انحصار واضح علاقائی  خصوصیات  سے مملو  ہوتا ہے ۔ 20  اضلاع  میں سے ضروری نہیں کہ ہرضلع ایک جیسا ہی ہو اور ان میں  لگنے والی آگ میں  47 فیصد کی  نیرنگی ہوسکتی ہے ۔پریذینٹیشن کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ جنگلاتی آگ متعدد  فطری اور سماجی حقائق  کے یکجا ہونے پر لگتی ہے ۔ اس رپورٹ میں  جنگلاتی آگ کی روک تھا م کی پالیسیوں اور انتظامات پر بحث کی گئی ہے اور آگ ک روک تھا م کے بہتر طریقوں اور باقاعدہ طور آراستہ وپیراستہ تربیت یافتہ افرادی قوت  کی ضرورت بھی نمایاں کی گئی ہے کیونکہ یہی عملہ جنگلاتی آگ کو  بجھاتا ہے ۔رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ فیلڈ اسٹاف خصوصاََ جن خطوں میں  جنگلاتی آگ زیادہ لگتی ہے وہاں خالی اسامیوں کو پُر کرنے کی فوری ضرورت ہے ۔ساتھ ہی ساتھ وافر اور معتمد  سرمایہ فراہمی بھی لازمی امر ہے ۔مذکورہ رپورٹ ماحولیات ، جنگلات اورموسمیاتی تبدیلی کی وزارت اور عالمی بینک نےمشترکہ طور پر ترتیب دی ہے ۔

          چند سفارشات میں  قومی جنگلاتی آگ  کی روک تھا م سے متعلق انتظام کا منصوبہ جو ایک کھلے اور مشاورتی عمل کے ذریعہ معینہ مدت کے اندرتیار کیا جائے گا ،  ادارہ جاتی معیار بند  انتظامی طریقہائے کار ، مقامی ضروریات اورصورتحال کے مطابق  مفید تکنالوجی کا اختیار کیا جانا ، آزمائے ہوئے بہترین طریقے اپنانا اور آگ لگنے کی صورت میں  مقامی کمیونٹی کو اس کے بجھانے کے کام میں افزوں  طور پر شریک کرنا اورپوری  ذمہ داری سے ان کا استعمال کرنا اورفیصلہ لینے کے عمل میں مقامی کمیونٹی کو  زیادہ اختیارات دینا وغیرہ شامل ہیں ۔

          رپورٹ میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ نیشنل ایف ایف پی ایم  منصوبہ عمل کو   ماحولیات ، جنگلات ، موسمیاتی تبدیلی کی وزار ت  کی ذمہ داریوں  سے علیحدہ کیا جانا چاہئے  اور ریاستی محکمہ جنگلات اور کمیونٹی  اور ڈزاسٹر ایجنسیوں کے فرائض بھی واضح ہونے چاہئیں  ۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اہم علمی سقم کی بھرپائی کے لئے بہتر اعداد وشمار اور تحقیق کے ذریعہ جنگلاتی آگ  کو بجھانے کے انتظام کو مستحکم بنایا جانا چاہئے ۔ اس رپورٹ میں  یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک نیشنل فاریسٹ  انفارمیشن ڈاٹا بیس  بھی تیار کیا جانا چاہئے جس کے تحت  سیارچہ پر مبنی  ریمورٹ سینسنگ اعداادوشمار اور فیلڈ سے حاصل اعداد وشمار  دستیاب ہوں جو  طویل المدت  بنیاد پر مختلف ریاستوں کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں مددگار ہوں گے  اور آگ کی روک تھام کی منصوبہ بندی  میں معاون ہوں گے ۔ اس کے علاوہ  آگ کی روک تھام کے لئے قومی تحقیقی ایجنڈے کا تعین  اور سائنسی تحقیق کے لئے سرمایہ فراہمی کے ذریعہ تحقیقی برادری اور جنگلات کے محکمے کے مابین رسمی تعاون کا راستہ بھی ہموار ہوسکے گا۔

          نومبر 2017  میں  دیگر ممالک میں  حاصل کئے گئے ایسے تجربات  سے سیکھ حاصل کرنے کی غرض سے ایک بین  الاقوامی ورکشاپ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا ، جنہیں  بہتر پالیسیوں  اور بھارت میں  جنگلاتی آگ کے بجھانے کے عمل میں  موثر انتظام کے تحت بروئے کار لایا جاسکے ۔

          اس رپورٹ کے  ملا حظے  کے لئے درج ذیل لنگ پر رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے :

http://documents.worldbank.org/curated/en/333281529301442991

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

 

U-5243


(ریلیز آئی ڈی: 1549136) وزیٹر کاؤنٹر : 94
یہ ریلیز پڑھیں: English