سٹرک ٹرانسپورٹ اور شاہراہوں کی وزارت

نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے اپنا اوّلین محصول وصول کرو – چلاؤ – منتقل کرو پروجیکٹ مکمل کیا


میکری نے جناب نتن گڈکری کو 9,681.5 کروڑ روپئے کا چیک پیش کیا

प्रविष्टि तिथि: 29 AUG 2018 5:31PM by PIB Delhi

نئیدہلی۔30؍اگست۔نیشنل ہائی وے  اتھارٹی آف انڈیا نے میکری کے بھارت میں سربراہ کے ساتھ اپنے پہلے  ٹول ۔ آپریٹ۔ ٹرانسفر پروجیکٹ  کو مالی اختتام تک پہنچایا اور  اس موقع پر سڑک نقل وحمل اور شاہراہوں ، جہازرانی ، آبی وسائل، دریاؤں کی ترقیات اور گنگا احیاء کے وزیر جناب نتن گڈکری کومیکری کے بھارت کے سربراہ نے 9,681.5 کروڑ روپئے کا چیک پیش کیا۔ واضح رہے کہ یہ کلوزر حکومت ہند کی جانب سے شروع کی گئی اثاثوں کی ری سائیکلنگ کے تحت کی جانے والی پہل قدمی کا اوّلین کلوزر ہے۔ این ایچ اے آئی نے  گجرات ، راجستھان، مغربی بنگال اور بہار میں 586.55 کلو میٹر کے سلسلے میں ٹی۔ او ۔ٹی  کے دوسرے بنڈل کے لئے بھی بولیاں طلب کی ہیں۔

اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے جناب گڈکری نے کہا کہ حکومت نے 2014 سے ملک میں شاہراہوں  کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے متعدد اقدامات کیے ہیں اور یہ اقدامات تقریباً چار گنا ہوچکے ہیں۔ اس سال حکومت نے ملک میں سڑکو ں اور شاہراہوں کی ترقی کیلئے 71ہزار کروڑ روپئے کی رقم مختص کی ہے۔ اولوالعزم  منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے ضروریات کے مطابق درکار سرمائے کی فراہمی کا انتظام منڈی قرضوں اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے توسط سے کیا جارہا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ ٹی ۔ او ۔ ٹی کا دوسرے بنڈل کی پیش کش کی جاچکی ہے اور آنے والے مہینوں میں متعدد مزید بنڈل بھی اسی طرح کی پیشکش کے تحت لائے جائیں گے۔ انہوں نے نجی سرمایہ کاروں سے کہا کہ وہ ان بنڈلوں کیلئے بولیاں لگائیں کیوں کہ یہ بنڈل ٹی ۔ او ۔ ٹی  بنڈل ہیں اور ہر طرح کے خدشات سے مبرا ماڈل ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں سے کہا کہ وہ زیادہ سے زیادہ جدت طرازانہ  سرمایہ کاری ماڈلوں کے ساتھ بنیادی ڈھانچہ جاتی شعبے کیلئے آگے آئیں۔

سرمایہ کاروں کو کوالٹی میں اضافہ کرنے کی تلقین کرتے ہوئے جناب گڈکری نے کہا کہ سڑک سلامتی، اس کے رکھ رکھاؤ کی کوالٹی اور محصولات کی وصولی کو بہتر بنانے کے طریقوں پر توجہ مرکوز کی جانی چاہئے تاکہ تمام چنگی چوکیوں پر انتظار کے اوقات میں باقاعدہ طور سے اور بامعنی تخفیف لائی جاسکے۔

سڑک نقل وحمل اور شاہراہوں کے وزیر مملکت جناب منسکھ  لال منڈاویہ نے اچھی حکمرانی کی فراہمی کیلئے حکومت کی عہد بندگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نےبنیادی ڈھانچہ شعبے کیلئے بجٹی تخصیص 1.5 لاکھ کروڑ روپئے سے بڑھا کر 7 لاکھ کروڑ روپئے کردی ہے۔  انہوں نے کہا کہ سڑک کے شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے زیادہ سرکاری ۔ نجی شراکت داری درکار ہے۔

سڑک نقل وحمل اور شاہراہوں کے سکریٹری جناب یودھویر سنگھ ملک نے سڑک سلامتی اور کوالٹی کی ترجیحات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے غیرملکی سرمایہ کاروں کو سڑک ترقیات اور سلامتی کے معاملے میں بین الاقوامی طریقہ ہائے کار متعارف کرانے کی تلقین کی۔

نو پروجیکٹوں پر مشتمل پہلا بنڈل جو آندھراپردیش اور گجرات کی ریاستوں سے متعلق ہے، اور اس کی طوالت مجموعی طور پر 681 کلو میٹر ہے، اسے 2018 میں ایوارڈ کیا گیا تھا ۔ غیرملکی سرمایہ کاروں نے اس میں زبردست دلچسپی دکھائی تھی۔ ٹی او ٹی بنڈل -1میکری کو 9681 کروڑ روپئے کے لئے  ایوارڈ کیا گیا تھا جو اتھارٹی کے تخمینے کے مقابلے میں 1.5 گنا تھا۔

چار ریاستوں یعنی راجستھان، گجرات، مغربی بنگال اور بہار پر مشتمل 586 کلو میٹر کا دوسرے بنڈل کی پیشکش اب کی گئی ہے اس کے تحت چار شاہراہوں پر مجموعی 12 چنگی چوکیاں واقع ہیں۔

ٹی او ٹی بنڈل-II

اس کے تحت جن حصوں کی پیشکش کی گئی ہے وہ مصروف عمل شاہراہیں ہیں اور ان کی ثابت شدہ چنگی وصولی کی تاریخ کم از کم دو سال قدیم ہے

متعلقہ حصے

قومی شاہراہیں

ریاست

چنگی چوکیوں کی تعداد

طوالت کلو میٹر میں

چتوڑگڑھ- کوٹا اور چتوڑگڑھ بائی پاس

27

راجستھان

3

160.50

سوروپ گنج- پنڈوارا اور پنڈوارا اودے پور

27

راجستھان

2

120.02

پالن پور/ کھیمانا- آبوروڈ

27

راجستھان/ گجرات

1

45.00

جیت پور سومناتھ

151

گجرات

2

102.26

پورینا ڈلکھولا

31

بہار

1

36.30

ڈل کھولا اسلام پور

31

مغربی بنگال

1

51.97

اسلام پور- سوناپور-گھوش پوکور

31

مغربی بنگال

1

44.00

سلاسل باڑی- مغربی بنگال آسام بارڈر سیکشن

31C

مغربی بنگال

1

26.50

میزان

 

 

12

586.55

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

U-4509


(रिलीज़ आईडी: 1544465) आगंतुक पटल : 61
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English