ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت

وزیر اعظم  نے پائیدار ترقی کے تئیں ہندوستان کی عہد  بستگی دوہرائی

ہندوستان کےتجربات شاہد ہیں کہ ترقی ماحول دوست ہوسکتی ہے : وزیر اعظم

عالمی برادر ی کو توانائی اور وسائل  کے استعمال کے طریقے پر
 دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے: وزیر ماحولیات


عالمی یوم ماحولیات کے پہلے اجتماع میں  چھ  چیف ایگزیکٹو افسران نے

 پلاسٹک کے اکہرے استعمال میں تخفیف کی حمایت کا حلف  لیا

प्रविष्टि तिथि: 05 JUN 2018 9:04PM by PIB Delhi

نئیدہلی،06جون ۔وزیراعظم جناب نریندر مودی نے پائیدار ترقی کے تئیں  ہندوستان کی عہد بستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ہندوستان کے تجربات   شاہد ہیں کہ ترقی ماحول دوست ہوسکتی ہے اور اسے ہمارے سبز اثاثہ جاتی کی قیمت پر حاصل کئے جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔وزیر اعظم  عالمی یوم ماحولیات 2018  کی عالمی تقریبات  کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پلاسٹک   کا استعمال انسان کے لئے   خطرناک  وبا ثابت ہوسکتا ہے ۔ اس نے  ہمارے بحری فضائی نظام پر مضر اثرات پہلے سے ہی مرتب کرنے شروع کردئے ہیں اور اس کا بہت سا حصہ ایسا ہے جس کی  غیر حیاتیاتی  درجہ بندی  نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کا چھوٹا کوڑا کرکٹ بالخصوص مائیکرو پلاسٹک ایک بین سرحدی مسئلے کی شکل اختیارکرچکا ہے۔انہوں نے  کہا کہ آج اس اجتماع میں  جن جن امور کا انتخاب کریں گے وہ ہمارے مستقبل کی چہرہ کاری  کرے گا۔ انہہوں نے مزید کہا کہ گوکہ اس سلسلے میں انتخاب آسان نہیں ہوسکتا لیکن ببداری  ، ٹکنالوجی   اور عالمی شراکتداری کے ذریعہ ہم  درست انتخاب کرسکتے ہیں ۔

 وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کو  عالمی یوم ماحولیات 2018  کی تقریبات  کی میز بانی کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ پوری دنیا  ایک کنبہ ہے یعنی ’’ وسودھیو کٹم بکم‘‘ ۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ اسی  آفاقی برادرانہ جذبے کے تحت   ہم اس سال ان تقریبات کی میزبانی کررہے ہیں ۔ ہندوستان میں  ہمارے لئے   فطرت کا احترام    ہماری قدروں کے نظام کی جزو کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ہم فطرت اور قدرتی وسائل کو  مقدس تصور کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی انحطاط    کے مضر اثرات ،سماج کے دیگر طبقوں کے مقابلے  غریب اور کمزور طبقات پر زیادہ مرتب ہوتے ہیں اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس امر کو یقینی بنائیں کہ   مادی کوششوں میں   ، ہمیں دستیاب ماحولیاتی   نظام  پر مضر اثرات  مرتب نہ ہوں۔ آئیے ! آج ہم سب مل کر پلاسٹک کی آلودگی کو شکست دیں اوراس کرہ ارض کو  جینے کا ایک بہتر  سیارہ بنائیں  کہ کائنات میں یہی ایک سیارہ ہے ، جہاں زندگی پائی جاتی ہے ۔

 اس موقع پر اپنی تقریر میں  ماحولیات ، جنگلات  اورتبدیلی ماحولیات کے امور کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے  ہندوستان کی اس عہد بستگی کا اعادہ کیا کہ  پلاسٹک کی آلودگی کو بہر حال شکست دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو    طویل تر پائیدار  زندگی کے لئے  توانائی  اور وسائل کے استعمال کے طریقوں پر ازسرنو غورکرنا چاہئے ۔ ڈاکٹر ہرش وردھن موصوف نے زور دے کر کہا کہ پلاسٹک کی آلودگی کو شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ ڈیزائننگ کے نظرئیے  پر ایک با ر پھر غور کیا جائے اور مینو فیکچرنگ  اور پلاسٹک کی مصنوعات کو  ٹھکانے لگائے جانے کے طریقوں  پر دوبارہ غور کیا جائے ۔انہوں نے بتایا کہ پلاسٹک کی بکس بندی  ، پلاسٹک کے عالمی کوڑے کچڑے کے تقریباََ   50 فیصد کے بقدر ہوتی ہے اور اس کا بیشتر حصہ پلاسٹک کے اکہرے استعمال کے نتیجے میں ہوتا ہے ۔ڈاکٹر ہرش وردھن نے سرکار وں  ،  پرائیویٹ سیکٹر ،شہری سماج تنظیموں  اور افراد سے اپیل کی کہ پلاسٹک کے اکہرے استعمال پر انحصار کو ختم کرنے کے لئے  موثر شراکتداری کرتے ہوئے اہم کردار ادا کیا جائے ۔سرسبزی اورشادابی پر منتج ہونے والے طریقو ں کے سلسلے میں  ایک خصوصی   طریقہ کار اختیار کرنے کی وکالت کرتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن موصوف نے کہا کہ  ہندوستانی فلسفہ اور طرز حیات صدیوں سے  فطرت کے ساتھ  ہم آہنگی  کے تصورات میں  پنہاں رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ   ہر فرد کو   سبز سفیر   بنجانا چاہئے ۔ اگر ہم سے ہر ایک   فرد سبز سماجی ذمہ داری  کے تئیں   روزانہ  ایک سبز بہتر کام انجام دے  تو  اس کرہ ارض  پر  روزانہ   اربوں کی تعداد  میں  بہتر سبز کام انجام دئے جاسکتے ہیں ۔ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا کہ ہم  اپنی  ماحولیات اوراپنی فضا کی حفاظت  اسے عوامی تحریک کی شکل دے کر ہی کرسکتے ہیں ۔

 ماحولیات  ، جنگلات   اورتبدیلی ماحولیات کے امور کے وزیر مملکت  ڈاکٹر مہیش شرما نے اس تقریب کے شرکا کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا  کہ  اقوام متحدہ نے  ہندوستان سے  عالمی یوم ماحولیات  2018  کی تقریبات کی میز بانی کرنے کے لئے کہا تھا ،جس نے پلاسٹک کے کوڑے کچڑے اور آلودگی پر خصوصی توجہ دئے جانے پر زور دیا گیا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ ہم اس سلسلے میں قائدانہ کردار ادا کررہے ہیں۔یہاں یہ بات  بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کہ ہندوستان کی سالانہ  فی کس پلاسٹک کھپت تقریباََ عالمی اوسط کے ایک تہائی حصے کے بقدر ہے ۔پلاسٹک کا کوڑا کچڑا ہمارے لئے اب بھی کسی دوسرے ملک کی طرح سنگین مسئلے کی حیثیت رکھتا ہے  اور ہم نے   متعدد ایسے  زمینی سطح کے اقدامات کئے ہیں جن میں   مختلف دعوے داروں کی   شراکتداری کے ذریعہ ممکنہ حل کی نشاندہی کی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی یوم ماحولیات  ہمیں  ایک صحت مند  فضا  اور ماحول سازگار کرنے  اور اس سلسلے میں  کی جانے والی کوششوں کے لئے خود کو وقف کردینے کا موقع فراہم کرسکتا ہے ۔

اس موقع پر  اقوام متحدہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جناب ایرک  سولہیم    نے     عالمی یوم ماحولیات  2018  کی تقریبات کا اس قدر زبردست طریقے سے  اہتمام کے لئے  ہندوستانی عوام  اور حکومت ہند کے تئیں اظہار ممنونیت  کیا ۔ اس سلسلے میں انہوں نے پچھلے کچھ دنوں کے دوران ہندوستان کے مختلف حصوں اور بالخصوص  آگرہ کے تاج محل   کے سفر کے دوران وہاں کے لوگوں سے  بیش قیمت گفتگو   کی تفصیلات بیان کیں  ۔ انہوں نے کا کہ ہندوستان میں  پلاسٹک کے کوڑے کچڑے اورآلودگی کے خلاف  متعدد اقدامات  کئے جارہے ہیں  لیکن   زمینی سطح کی برادریوں  سرکار    اور  مقامی  آبادی   ،  کارپوریٹ سیکٹر   اور پرجوش  ماحولیاتی  کارکنان   کی   کوششیں  لائق  تحسین ہیں جو ہماری بین الاقوامی برادری کے لئے   حوصلہ افزائی     اور ترغیبی   حیثیت کی حامل ہے ۔

 اس موقع پر وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے  عالمی یوم ماحولیات  2018  کے مرکزی خیال پر مبنی   ایک بروشر،  ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ اور  پہلے  دن کے   کور کا اجرا بھی کیا ۔واضح ہوکہ عالمی یوم ماحولیات  2018  کا مرکزی خیال ہے :’’  پلاسٹک کی آلودگی کو شکست  دی جائے ‘‘    اس موقع پر  ،  بوٹونیکل سروے آف انڈیا  کی تصنیف   ’’   پلانٹ  ڈسکوریز 2017    ‘‘    اور     وزارت ماحولیات  ، جنگلات اورتبدیلی ماحولیات   کی  تصنیف ،’’  کمپینڈیم آف  ٹریڈیڈ  انڈین میڈیسنل پلانٹس ‘‘ ، ’’  پلاسٹک ان لائف اینڈ انوائرنمنٹ ‘‘ اور  ’’ اینمل ڈسکوریز  2017  ‘‘  نامی تین تصنیفات کا بھی  اجرا کیا گیا ۔ یہ تصنیفات زولوجیکل سروے آف انڈیا اور  بیٹ پلاسٹک  پالیوشن   گڈ نیوز نامی اداروں نے شائع کی ہیں ۔

 اس موقع پر  چھ  کارپوریٹ  اداروں کے  چیف ایگزیکٹو افسران نے   سوچھ  بھارت ابھیان  نے  اپنی مشترکہ شراکتداری کی کوششوں  کا ذکر کیا اور عہد کیا کہ   اپنے کام کاج میں  پلاسٹک کے اکہرے استعمال کو زیادہ سے زیادہ حد تک کم کیا جائے گا۔ تیل اورقدرتی گیس کمیشن کے چیئر مین اور منیجنگ ڈائریکٹر جناب ششی شنکر  ،  سیمنٹ مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن   (سی ایم اے ) کے صدر ڈاکٹر شیلیندر چوکسی  ،آئی ٹی سی  لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر  جناب نکل آنند   ،  این بی سی سی کے  چیئر مین ومنیجنگ ڈائریکٹر  جناب اے کے متل   ،پراکٹر اینڈ گیمبل   (پی اینڈ جی  ) کے  چیف ایگزیکٹو آفیسر   جناب مدھوسودن گوپالن   اور ہندوستا ن یونی لیور   کے منیجنگ ڈائریکٹر وچیف ایگزیکٹو  آفیسر جناب سنجیو مہتہ نے اس موقع پر مذکورہ حلف  لئے ۔

۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

م ن ۔س ش ۔رم

U-2946


(रिलीज़ आईडी: 1534480) आगंतुक पटल : 232
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English