• Sitemap
  • Advance Search
Others

 ہندوستان کا ترقی پذیر میٹرولوجی نظام

تجارت، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو مضبوط بنانا

Posted On: 20 MAY 2026 12:04PM

بھارت کا ارتقا پذیر میٹرولوجی (پیمائش و معیار) کا نظام منصفانہ تجارت، صارفین کے تحفظ، صنعتی معیار اور عالمی مسابقت کو مضبوط بنا رہا ہے۔ قانونی میٹرولوجی ایکٹ- 2009 ایک جدید ریگولیٹری ڈھانچے کی بنیاد فراہم کرتا ہے، جو وزن اور پیمائش کے قدیم نظام سے ارتقا پذیر ہو کر موجودہ شکل میں آیا ہے۔

نیشنل فزیکل لیبارٹری اور علاقائی ریفرنس اسٹینڈرڈ لیبارٹریز جیسے ادارے قومی پیمائشی معیارات اور تصدیقی نظام کی حمایت کرتے ہیں۔ ای-میپ پورٹل، ‘ون نیشن ون ٹائم’ اور او آئی ایم ایل سرٹیفیکیشن جاری کرنے جیسے اقدامات شفافیت، کارکردگی اور صارفین کے اطمینان کو بہتر بنا رہے ہیں۔

یہ اقدامات عالمی پیمائشی اور معیار کے نظام کے ساتھ  ہندوستان  کے انضمام کے ذریعے تجارت میں آسانی کو بھی فروغ دے رہے ہیں۔

میٹرولوجی: پیمائش کے علم کے ذریعے تجارت میں اعتماد کی تعمیر

پیمائش جدید معاشی نظاموں، صنعتی پیداوار، سائنسی ترقی اور صارفین کے تحفظ کی بنیاد ہے۔ معیاری پیمائش مختلف شعبوں جیسے تجارت، صحت، بنیادی ڈھانچے، ٹیلی کمیونیکیشن، توانائی کی تقسیم اور ڈجیٹل ٹیکنالوجیز میں شفافیت اور عوامی اعتماد کو یقینی بناتی ہے۔ اس تناظر میں، میٹرولوجی (پیمائش کا علم) اور قانونی میٹرولوجی (پیمائش کی ریگولیشن) منصفانہ تجارت اور کاروبار کو یقینی بناتے ہیں۔

میٹرولوجی مشترکہ معیارات قائم کرتی ہے جو اکائیوں اور پیمائشی آلات کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ معیاری اکائیاں مختلف اشیاء کی تجارت میں استعمال ہونے والی پیمائشوں جیسے لمبائی، وزن، حجم، وقت، درجہ حرارت اور دیگر طبعی مقداروں کے لیے وضع کی جاتی ہیں۔ اس کے اطلاق کا دائرہ بہت وسیع ہے، جس میں نیویگیشن، تعمیرات، مصنوعات کی تیاری، ماحولیاتی نگرانی، طب اور خوراک کی پروسیسنگ شامل ہیں۔

میٹرولوجی بنیادی طور پر پیمائش کی درستگی اور سائنسی پہلو پر توجہ دیتی ہے، جبکہ قانونی میٹرولوجی عوامی تحفظ اور منصفانہ تجارت کے لیے وزن اور پیمائش کی درستگی اور قابلِ اعتماد ہونے کو یقینی بناتی ہے۔  ہندوستان  نے قانونی میٹرولوجی کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کیا ہے جو تدریجی قانونی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی اور ڈجیٹل گورننس اقدامات پر مبنی ہے۔ قدیم نظامِ اوزان و پیمائش سے لے کر Legalمیٹرولوججی ایکٹ- 2009 تک ہندوستان  کا پیمائشی نظام مسلسل ارتقا پذیر ہے۔ یہ بدلتا ہوا فریم ورک تجارتی طریقوں میں تبدیلی، نئی ٹیکنالوجیز اور بڑھتی ہوئی صارف تحفظ کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ورلڈ میٹرولوجی ڈے

ورلڈ میٹرولوجی ڈے ہر سال 20 مئی کو منایا جاتا ہے اور یہ جدید معاشرے میں پیمائش کے علم کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس دن کا آغاز 1999 میں بین الاقوامی کمیٹی برائے اوزان و پیمائش کے ذریعے کیا گیا تھا۔ یہ دن 20 مئی 1875 کو میٹر کنونشن پر دستخط کی یاد دلاتا ہے، جس نے ایک عالمی، یکساں اور مسلسل ارتقا پذیر میٹرک نظام کی سائنسی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کی۔

انٹر نیشنل بیورو آف ویٹ اینڈ میزرز اور انٹر نیشنل آرگنائزیشن آف لیگل میٹرو لوجی مشترکہ طور پر اس دن کی تقریبات کو منظم کرتے ہیں۔ اس سال کا موضوع “میٹرولوجی: پالیسی سازی میں اعتماد کی تعمیر” ہے، جو شواہد پر مبنی اور شفاف حکمرانی میں میٹرولوجی کے کردار کو اجاگر کرتا ہے۔

روزمرہ زندگی میں میٹرولوجی: درستگی، اعتماد اور انصاف کو یقینی بنانا

میٹرولوجی روزمرہ زندگی پر گہرا اثر ڈالتی ہے کیونکہ یہ معمول کے لین دین اور عوامی خدمات میں درستگی، قابلِ اعتماد معیار اور منصفانہ رویے کو یقینی بناتی ہے۔ قانونی میٹرولوجی کے نظام مختلف قسم کے وزن اور پیمائش کرنے والے آلات کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ ان میں پیٹرول پمپس، گروسری اسٹورز، جیولری شاپس، اسپتالوں، بجلی کے میٹرز، پانی کی فراہمی کے نظام اور پیک شدہ اشیاء میں استعمال ہونے والے آلات شامل ہیں۔ یہ نظام اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ صارفین کو ان کی خریداری اور خدمات کے بدلے صحیح مقدار اور درست قیمت ملے اور اس طرح کم مقدار کی فراہمی، غلط بلنگ اور غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کو روکا جاتا ہے۔ اس سے روزمرہ تجارتی لین دین میں صارفین کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔

درست پیمائشی نظام عوامی فلاح و بہبود اور تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میٹرولوجی تکنیکی آلات، پیمائشی اکائیوں اور خدمات کی فراہمی میں استعمال ہونے والی مشینری کے معیارات کو یکساں بناتی ہے۔ اس سے طبی جانچ اور تشخیص میں درستگی، بجلی، پانی اور گیس کی کھپت کی قابلِ اعتماد نگرانی، اور رفتار ماپنے والے آلات کے ذریعے سڑکوں پر مؤثر ٹریفک قوانین کا نفاذ ممکن ہوتا ہے۔ اس طرح یکساں معیارات اور تصدیقی نظام کے ذریعے میٹرولوجی روزمرہ معاشی اور عوامی سرگرمیوں میں اعتماد، شفافیت اور کارکردگی کو بڑھاتی ہے۔

قدیم  ہندوستان کی پیمائشی وراثت اور تجارتی نظام

قدیم  ہندوستان میں اوزان و پیمائش کا ایک منظم نظام موجود تھا۔ یہ نظام تجارت، کاروبار، ٹیکس وصولی، زیورات سازی، زراعت اور روزمرہ معاشی لین دین میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ یہ پیمائشی نظام معیاری اکائیوں پر مبنی تھا جو بیجوں، اناج، جسمانی پیمائشوں اور ریاضیاتی تناسب سے اخذ کیے جاتے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ عملی طریقے منظم اور وسیع پیمانے پر تسلیم شدہ تجارتی پیمائشی معیارات میں تبدیل ہو گئے۔

  • قدیم ہندوستان  میں تجارتی اور عملی مقاصد کے لیے کئی معیاری اکائیاں استعمال کی جاتی تھیں:
  • رتی (Rati): ایک چھوٹی بیج پر مبنی اکائی جو بنیادی طور پر سونا، جواہرات اور دیگر قیمتی اشیاء کے وزن کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
  • ماشہ (Masha): ایک بڑی اکائی جو مخصوص تعداد میں رتیوں سے اخذ کی جاتی تھی۔
  • تولہ (Tola): ایک وسیع پیمانے پر استعمال ہونے والی اکائی جو تجارتی لین دین اور قیمتی دھاتوں کے لیے استعمال ہوتی تھی۔
  • سیر (Seer): ایک بڑی اکائی جو عام طور پر تجارت اور بازار کے لین دین میں استعمال ہوتی تھی۔
  • ماؤنڈ اور کینڈی (Maund and Candy): بڑے پیمانے کی اکائیاں جو بھاری تجارت، ذخیرہ اندوزی اور زرعی لین دین میں استعمال ہوتی تھیں۔

قدیم  ہندوستانی  پیمائشی نظام میں درج ذیل مزید عملی پہلو بھی شامل تھے:

  • لمبائی، وزن اور گنجائش (capacity) کی پیمائش کے لیے منظم نظام۔
  • جسمانی اعضاء پر مبنی پیمائشیں جیسے ہاتھ کی ہتھیلی (hand span) اور ہاتھ سے کہنی تک کی پیمائش (cubits
  • حساب کتاب اور تناسبی تقسیم کے لیے دوگانہ (binary)، اعشاری (decimal) اور آٹھ عددی (octonary) عددی نظاموں کا استعمال۔
  • وادیٔ سندھ کی تہذیب (Indus Valley Civilization) میں انتہائی معیاری پیمائشی نظام موجود تھا، جو ترقی یافتہ شہری منصوبہ بندی، تجارت اور تعمیرات کی عکاسی کرتا ہے۔ موریہ سلطنت (322–185 قبل مسیح) کے دور میں انتظامیہ، ٹیکس وصولی اور تجارت کے ضابطے کے لیے اوزان و پیمائش کے منظم نظام متعارف کروائے گئے۔ بعد ازاں، شیر شاہ سوری نے اوزان و پیمائش کو یکساں بنایا اور روپیہ (Rupiya) کرنسی متعارف کروائی، جو جدید روپے کی بنیاد بنی۔

بھارت کے قانونی میٹرولوجی نظام کا ارتقا

  • ہندوستان میں جدید میٹرولوجی کے سفر کا آغاز 1947 میں‘ نیشنل فزیکل لیبارٹری’ کے قیام سے ہوا۔ اس کے بعد اسٹینڈرز آف ویٹ اینڈ میزر ایٹ1956 نافذ کیا گیا، جس نے پورے ملک میں پیمائش کے یکساں معیار قائم کیے۔ بھارت نے عالمی معیار کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے میٹر کنونشن پر دستخط کیے اور 1957–58 میں بین الاقوامی نظامِ اکائیات(ایس آئی) کو اختیار کیا۔ بعد ازاں 1976 اور 2009 میں ہونے والی قانون سازی نے  ہندوستان کے قانونی میٹرولوجی نظام کو مزید جدید اور مضبوط بنایا۔

بین الاقوامی نظامِ اکائیات(ایس آئی)

انٹر نیشنل آف یونٹس وہ بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معیاری اکائیاں ہیں جو دنیا بھر میں پیمائش کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ اکائیاں ایسے طے شدہ سائنسی مستقلات کی بنیاد پر متعین کی جاتی ہیں جو کبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ اس سے پیمائش ہر جگہ درست، یکساں اور قابلِ اعتماد رہتی ہے۔ میٹر ، کلوگرام اور سیکنڈ اس نظام کی بنیادی اکائیاں ہیں۔ یہ نظام سائنس، تجارت، صنعت اور روزمرہ زندگی میں یکسانیت برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

نیشنل فزیکل لیبارٹری(این پی ایل) - 1947

نیشنل فزیکل لیبارٹری  ہندوستا ن کا قومی پیمائشی ادارہ  کے طور پر ابھرا اور میٹر اور کلوگرام کے قومی معیار(نیشنل پروٹوٹائپ) کا محافظ بن گیا۔ اس ادارے نے ملک میں پیمائش کے معیار کو یکساں اور مستحکم بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

اس کے ساتھ ہی ریجنل ریفرنس اسٹینڈرڈ لیبارٹریز(آر آر ایس ایل ایس) قائم کی گئیں تاکہ مختلف ریاستوں میں معیارات کی ہم آہنگی اور جانچ کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے۔ یہ لیبارٹریاں مختلف لیبارٹریوں اور تجارتی سرگرمیوں میں استعمال ہونے والے پیمائشی آلات اور معیارات کا موازنہ اور تصدیق کرتی ہیں، جس سے پورے ملک میں درستگی اور یکسانیت برقرار رہتی ہے۔

نیشنل فزیکل لیبارٹری (این پی ایل)کی نمایاں کامیابیاں

 ہندوستا ن نیشنل فزیکل لیبارٹری(این پی ایل) ایشیا پیسیفک میٹرولوجی پروگرام(اے پی ایم پی) کا بانی رکن رہا ہے۔ ایشیا پیسیفک میٹرولوجی پروگرام(اے پی ایم پی) ایشیا-پیسیفک خطے کے قومی پیمائشی اداروں کا ایک نیٹ ورک ہے، جو تجربات، مہارت اور تکنیکی خدمات کے تبادلے کے ذریعے علاقائی پیمائشی صلاحیت کو بہتر بنانے پر کام کرتا ہے۔

این پی ایل نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ناقابلِ مٹنے والی سیاہی تیار کی، جو 37 ممالک میں انتخابات میں استعمال ہوتی ہے اور دنیا میں  ہندوستان کی جمہوری شناخت کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

اس کے علاوہ، این پی ایل نے  ہندوستان  کا پہلا سرٹیفکیشن نظام برائے ماحولیاتی نگرانی آلات قائم کیا، ایک عالمی معیار کی سولر سیل کیلیبریشن سہولت تیار کی اور اسٹریٹجک شعبوں کے لیے کاربن کمپوزٹ مواد بھی تیار کیا۔ یہ تمام پیش رفت نہ صرف  ہندوستان  کی صنعتی اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ قابلِ تجدید توانائی اور پائیداری کے قومی اہداف سے بھی ہم آہنگ ہیں۔

اوزان و پیمائش کا قانون: 1956، 1976 اور 2009

اسٹینڈرز آف ویٹ اینڈ میزرزایکٹ-1956 ہندوستان میں پیمائش کے ایک یکساں، سائنسی اور معیاری نظام کے قیام کے لیے نافذ کیا گیا۔ یہ قانون میٹرک نظام اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ پیمائشی معیارات پر مبنی تھا۔ اس نے  ہندوستان کو بین الاقوامی نظامِ اکائیات (ایس آئی) اور انٹر نیشنل آر گنائزیشن آف لیگل میٹرو لوجی کے تحت عالمی قانونی میٹرولوجی طریقوں سے ہم آہنگ کرنے میں مدد دی، جس کا ہندوستان بھی رکن ہے۔

1976 کی ترامیم اور توسیع

بعد میں اس قانون میں ترامیم کر کے اسٹینڈرز آف ویٹ اینڈ میزرزایکٹ- 1976 نافذ کیا گیا، جس میں درج ذیل اہم اصلاحات شامل تھیں:

  • بین الاقوامی ہندسی اعداد کے مطابق معیاری عدد نویسی  کا آغاز
  • وزن، پیمائش اور پیک شدہ اشیاء سے متعلق بین ریاستی تجارت کی تنظیم
  • پیمائشی آلات کی منظوری اور معیاری سازی
  • انسٹی ٹیوٹ آف لیگل میٹرولوجی کے قیام کی سہولت، جہاں انسپکٹرز اور افسران کی تربیت ہو
  • قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے اور سزائیں

قانونی میٹرولوجی ایکٹ- 2009

لیگل میٹرولوجی ایک2009 کوہندوستان  میں اوزان و پیمائش کے جدید نفاذ، تکنیکی ترقی اور بدلتے ہوئے تجارتی نظام کے مطابق بنایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد اشیاء کی تجارت میں درستگی، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا تھا۔ یہ قانون یکم اپریل 2011 سے نافذ ہوا اور اس کے بعد 1976 اور 1985 کے پرانے قوانین منسوخ کر دئیے گئے۔

اہم خصوصیات

  • پورے ملک میں میٹرک نظام اور معیاری اکائیوں کا لازمی نفاذ
  • تجارتی پیمائشی آلات کی جانچ اور مہر لگانا
  • پیک شدہ اشیاء پر مکمل معلومات درج کرنا (وزن، مقدار، ایم آر پی ، مینوفیکچرر وغیرہ)
  • وزن و پیمائش کے آلات کے لیے رجسٹریشن کا نظام
  • قانونی میٹرولوجی افسران کو معائنہ، تلاشی اور ضبطی کے اختیارات
  • غیر معیاری آلات کے استعمال پر سزائیں

قانون کے تحت شامل اہم اشیاء اور نظام

  • وزنی آلات: دکانوں اور بازاروں کے ترازو کی تصدیق تاکہ درست مقدار ملے
  • پیک شدہ اشیاء: خوراک، ادویات اور گھریلو مصنوعات پر مکمل لیبلنگ لازمی
  • فیول ڈسپنسر: پٹرول پمپس پر درست مقدار کی فراہمی
  • پانی و بجلی کے میٹر: درست بلنگ اور شفافیت
  • طبی آلات: تشخیص اور علاج میں درست پیمائش کو یقینی بنانا
  • ٹیلی کمیونیکیشن سسٹمز: نیٹ ورک اور ڈجیٹل سروسز میں درست سگنل و وقت
  • الیکٹرانکس و سیمی کنڈکٹرز: درستگی اور معیاری پیداوار

قانون کے تحت بنائے گئے قواعد

  1. تقریباً 40 اقسام کے پیمائشی آلات جیسے ترازو، پٹرول پمپ، میٹرز وغیرہ شامل ہیں۔
  2. پیک شدہ اشیاء پر مکمل معلومات لازمی قرار دیتا ہے۔
  3. آلات کی تیاری یا درآمد سے پہلے ماڈل کی منظوری ضروری۔
  4. قومی معیارات میں محفوظ اور برقرار رکھے جاتے ہیں۔
  5. اعداد لکھنے اور استعمال کے طریقہ کار کو معیاری بناتا ہے۔
  6. انسپکٹرز کی تربیت انڈین انسٹی ٹیوٹ آف لیگل میٹرولوجی میں کی جاتی ہے۔
  7. نجی اداروں کے ذریعے تصدیقی مراکز کے قیام اور منظوری کا نظام۔

یہ پورا فریم ورک  ہندوستان  میں منصفانہ تجارت، صارفین کے تحفظ اور سائنسی پیمائش کے مضبوط نظام کی بنیاد فراہم کرتا ہے، اور جدید ڈجیٹل معیشت کے ساتھ مسلسل ہم آہنگ ہو رہا ہے۔

 سن 2009 قانون کے تحت بنائے گئے قواعد (2011 اور 2013)

لیگل میٹرو لوجی ایکٹ- 2009 کے تحت کل 7 اہم قواعد  مرتب کیے گئے ہیں، جو مختلف پیمائشی آلات اور تجارتی اشیاء کو منظم کرتے ہیں:

  1. لیگل میٹرولوجی (جنرل)رولز:

یہ قواعد تقریباً 40 اقسام کے پیمائشی آلات کا احاطہ کرتے ہیں، جن میں الیکٹرانک ترازو، پٹرول پمپ، وزنی پل (ویٹ بریجیز)، پانی کے میٹر، طبی تھرمامیٹر اور بلڈ پریشر ناپنے والے آلات شامل ہیں۔

  1. لیگل میٹرولوجی(پیکیج کموڈیٹیز) رولز:

یہ قواعد پیک شدہ اشیاء کی فروخت کو ریگولیٹ کرتے ہیں تاکہ صارفین کو خریداری سے پہلے مصنوعات کے بارے میں واضح معلومات (وزن، مقدار، قیمت وغیرہ) فراہم کی جائیں۔

3.  لیگل میٹرولوجی(اپروول آف ماڈلز رولز:

ان قواعد کے مطابق وزن اور پیمائش کے مخصوص آلات بنانے یا درآمد کرنے سے پہلے حکومت سے ماڈل کی منظوری لینا لازمی ہے۔

4.لیگل میٹرولوجی (نیشنل اسٹینڈرز)رولز:

ان قواعد کے تحت قومی معیارات اور بنیادی پیمائشی پروٹوٹائپس کا تحفظ اور دیکھ بھال نیشنل فزیکل لیبارٹری میں کی جاتی ہے۔

5. لیگل میٹرولوجی(نیومریشن )رولز:

یہ قواعد نمبروں کے استعمال اور ان کے لکھنے کے طریقہ کار کو معیاری بناتے ہیں تاکہ یکسانیت برقرار رہے۔

6. انڈین انسٹی ٹیوٹ آف لیگل میٹرولوجی رولز:

انڈین انسٹی ٹیوٹ آف لیگل میٹرولوجی رولز (رانچی) کو قانونی میٹرولوجی افسران کی تربیت کے ادارے کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ قواعد تربیتی کورسز، ادارے کے فرائض اور داخلے کی شرائط کو متعین کرتے ہیں۔

7. گورنمنٹ اپرووڈ ٹسٹ سینٹر رولز :

یہ قواعد نجی اداروں کے ذریعے قائم کردہ گورنمنٹ اپرووڈ ٹسٹ سینٹر رولز(جی اے ٹی سی) کی منظوری سے متعلق ہیں، جو مخصوص وزن و پیمائش کے آلات کی جانچ اور تصدیق کرتے ہیں۔

یہ تمام قواعد مل کر ہندوستان میں منصفانہ تجارت، پیمائشی شفافیت اور صارفین کے تحفظ کے نظام کو مضبوط بناتے ہیں۔

قواعد کے مطابق، ریاستی اور مرکزی زیرِ انتظام علاقوں نے بھی اپنے نفاذ (انفورسمنٹ) کے قواعد وضع کیے ہیں۔ یہ قواعد وقتاً فوقتاً تبدیل کیے جاتے ہیں تاکہ تجارت اور ٹیکنالوجی میں ہونے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہ سکیں۔ حال ہی میں اکتوبر 2025 میں گورنمنٹ اپرووڈ ٹسٹ سینٹر(جی اے ٹی سیز) کے دائرۂ کار کو وسعت دی گئی، جس میں 18 اقسام کے پیمائشی آلات شامل کیے گئے، جیسے پانی کے میٹر، گیس میٹر، بجلی کے میٹر اور بلڈ پریشر ناپنے والے آلات وغیرہ۔

جن وشواس ایکٹ 2023 اور 2026

جن وشواس ایکٹ -2023 نے مختلف وزارتوں کے متعدد قوانین میں اصلاحات متعارف کرائیں، جن میں لیگل میٹرولوجی ایکٹ -2009 بھی شامل ہے۔ ان اصلاحات کے تحت اس قانون کی سات شقوں کو ڈی کرمنلائز کیا گیا، یعنی بعض معاملات میں قید کی سزا کو مالی جرمانوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ یہ ترامیم 1 اکتوبر 2023 سے نافذ ہوئیں۔ ان اصلاحات کا مقصد کاروبار میں آسانی پیدا کرنا، تعمیلی بوجھ کم کرنا اور رضاکارانہ تعمیل کو فروغ دینا ہے، جبکہ صارفین کے تحفظ اور شفافیت کو برقرار رکھنا بھی یقینی بنایا گیا ہے۔

جن وشواس ایکٹ- ( ترمیمی) 2026 نے مزید اصلاحات متعارف کراتے ہوئے تعمیلی بوجھ کو کم کرنے پر زور دیا ہے۔ اس کا خاص مقصد مائیکرو، اسمال اور میڈیم انٹرپرائزز ( ایم ایس ایم ایز) کے لیے کاروبار میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ ان ترامیم کے تحت اب کاروباری اداروں کو معمولی خلاف ورزیوں کی صورت میں فوراً سزا دینے کے بجائے انہیں درستگی کا موقع دیا جاتا ہے۔

پہلے لیگل میٹرو لوجی ایکٹ-, 2009 کے تحت ریکارڈ نہ رکھنے یا پیش نہ کرنے پر براہِ راست جرمانے عائد کیے جاتے تھے، لیکن اب “امپروومنٹس نوٹس” کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ اس کے تحت پہلی مرتبہ ہونے والی غلطی پر کاروباری اداروں کو مقررہ مدت دی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی خامیاں درست کر سکیں، اس کے بعد ہی جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔ یہ اصلاح “اعتماد پر مبنی حکمرانی” اور سہولت بخش ریگولیٹری نظام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

میٹرولوجی میں اہم حکومتی اقدامات

 ای –ماپ  پورٹل

ای –ماپ  پورٹل کو محکمہ صارفین امور نے شروع کیا ہے تاکہ کاروبار میں آسانی اورجی2بی خدمات کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ پورٹل لیگل میٹرولوجی ایکٹ-2009 کے تحت قواعد و ضوابط کو آسان اور منظم بناتا ہے۔

یہ پورٹل انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے شفاف اور مؤثر حکمرانی فراہم کرتا ہے اور تمام ریاستوں کے لیگل میٹرولوجی نظام کو مرکزی پلیٹ فارم سے جوڑتا ہے۔ اس کے ذریعے مینوفیکچررز، ڈیلرز، مرمت کنندگان، درآمد کنندگان، پیکرز اور پیک شدہ اشیاء تیار کرنے والوں کے لیے آن لائن رجسٹریشن کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

abc.jpg

 “ون نیشن، ون ٹائم” اقدام

 ہندوستا ن نے‘ون نیشن، ون ٹائم’ اقدام شروع کیا ہے جس کا مقصد پورے ملک میں انڈین اسٹینڈرڈ ٹائم (آئی ایس ٹی) کو ملی سیکنڈ سے مائیکرو سیکنڈ تک کی انتہائی درستگی کے ساتھ عام کرنا ہے۔

یہ منصوبہ محکمہ صارفین امور نے نیشنل فزیکل لیبارٹری اور انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے اشتراک سے شروع کیا ہے، اور اسے ملک بھر میں موجود پانچ لیگل میٹرولوجی لیبارٹریز کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔

اس اقدام کے اہم مقاصد

یہ نظام مختلف شعبوں میں ایک یکساں اور انتہائی درست وقت کے ہم آہنگی  کو یقینی بناتا ہے، جن میں شامل ہیں:

* ٹیلی کمیونیکیشن

* بینکنگ اور مالی لین دین

* نیویگیشن اور ٹرانسپورٹ

* پاور گرڈز اور توانائی نظام

* ڈجیٹل گورننس

*جی 5 سروسز

* مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور آئی او ٹی

* سائنسی تحقیق

یہ اقدام غیر ملکی وقت کے ذرائع جیسے جی پی ایس پر انحصار کم کرتا ہے اور قومی سلامتی، اہم انفراسٹرکچر کے انتظام، درست مالی لین دین، ہنگامی ردعمل، صنعتی کارکردگی اور عوامی خدمات کی بہتری کو مضبوط بناتا ہے۔

او آئی ایم ایل سرٹیفکیشن اور عالمی تجارت

بھارت 1956 سے انٹر نیشنل آرگنائزیشن آف لیگل میٹرولوجی کا رکن ہے۔ 2023 میں  ہندوستان  دنیا کا 13 واں ملک بنا جسے وزن اور پیمائش کے آلات کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ  او آئی ایم ایل سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا اختیار حاصل ہوا۔

اس پیش رفت سے:

*  ہندوستانی صنعت کاروں کو عالمی برآمدات میں آسانی ملی

* بین الاقوامی ٹیسٹنگ لاگت کم ہوئی

*  ہندوستان کی عالمی پیمائشی معیارات سازی میں حیثیت مضبوط ہوئی

* عالمی تجارت اور لیگل میٹرولوجی گورننس میں کردار بڑھا

یہ اقدامات  ہندوستان  کے جدید، شفاف اور عالمی معیار کے مطابق میٹرولوجی نظام کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔

 

آر آر ایس ایل اور سرٹیفکیشن نظام کی توسیع

ریجنل ریفرنس اسٹینڈرڈ لیبارٹریز (آر آر ایس ایل) کی معاونت سے قائم سرٹیفکیشن نظام  ہندوستان کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ غیر ملکی مینوفیکچررز کو بھی سرٹیفکیشن خدمات فراہم کر سکے۔ اس سے نہ صرف زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے بلکہ  ہندوستان  کو بین الاقوامی میٹرولوجی لیگل آرگنائزیشن پالیسی اور اسٹریٹیجی کی تشکیل میں بھی حصہ لینے کا موقع ملتا ہے۔

پائیداری کے اہداف (ایس ڈی جیز) اور میٹرولوجی

میٹرولوجی پائیدار ترقی کے اہداف) کے حصول میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے کیونکہ یہ درست، قابلِ اعتماد اور معیاری پیمائش فراہم کرتی ہے۔

 ایس ڈی جی 1: غربت کا خاتمہ

میٹرولوجی منصفانہ تجارت، شفاف قیمتوں اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنا کر غربت میں کمی میں مدد دیتی ہے۔

ایس ڈی جی 3: اچھی صحت اور فلاح

صحت کے شعبے میں درست طبی تشخیص، کلینیکل پیمائش اور محفوظ علاج کو ممکن بناتی ہے۔

ایس ڈی جی 7: قابلِ استطاعت اور صاف توانائی

توانائی کی درست نگرانی، قابلِ تجدید توانائی کے انضمام اور بلنگ میں شفافیت کو یقینی بناتی ہے۔

ایس ڈی جی 9: صنعت، جدت اور انفراسٹرکچر

صنعتی معیار، کیلیبریشن، ٹیسٹنگ اور تکنیکی جدت کو فروغ دیتی ہے۔

ایس ڈی جی 13: موسمیاتی عمل

ماحولیاتی نگرانی، موسمیاتی تحقیق اور فضائی و ماحولیاتی تبدیلیوں کے درست سائنسی تجزیے میں مدد دیتی ہے۔

شفاف اور صارف مرکوز نظام کی تشکیل

 ہندوستان  کا لیگل میٹرولوجی نظام مسلسل ترقی کر رہا ہے تاکہ نئی ٹیکنالوجی، بدلتے ہوئے تجارتی طریقوں اور صارفین کی ضروریات کے مطابق ڈھل سکے۔ حکومت کی حالیہ کوششوں میں شامل ہیں:

* تعمیلی بوجھ میں کمی

* یکساں پیمائشی معیارات کا نفاذ

* پیمائش کی درستگی میں اضافہ

* ڈجیٹل گورننس کے ذریعے قواعد و ضوابط کی آسانی

یہ تمام اقدامات ایک ایسے نظام کی تشکیل کی طرف بڑھ رہے ہیں جو زیادہ شفاف، مؤثر اور صارف دوست ہو۔

صارفین کے تحفظ کے اقدامات کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے، جس میں پیک شدہ اشیاء ( پری پیکیجڈ کموڈیٹیز) پر لازمی معلومات درج کرنے کی شرط اور ای-کامرس پلیٹ فارمز پر ملکِ منشأ  ظاہر کرنے کی شق شامل ہے، جو یکم جولائی 2027 سے نافذ ہوگی۔ یہ اقدامات مجموعی طور پر زیادہ شفافیت، کاروبار کرنے میں آسانی  میں بہتری، صارفین کے اعتماد میں اضافہ، اور  ہندوستان کے مجموعی کوالٹی انفراسٹرکچر نظام کی ترقی میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

حوالہ جات

Ministry of Consumer Affairs, Food and Public Distribution

https://emaap.gov.in/about_us

https://iilm.gov.in/more/act-rules

https://consumeraffairs.gov.in/pages/legal-metrology-act

https://consumeraffairs.gov.in/pages/legal-metrology-overview

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2096622&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2033114&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2183777&reg=3&lang=1

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2188363&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleasePage.aspx?PRID=2184053&reg=3&lang=2

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=1957429&reg=3&lang=2

وزارت ثقافت

https://ignca.gov.in/Asi_data/2517.pdf

وزارت سائنس اور ٹکنالوجی

https://www.pib.gov.in/PressReleaseIframePage.aspx?PRID=2078069&reg=3&lang=2

https://www.nplindia.in/wp-content/uploads/2021/10/Angela-Historical-perspective-20171129-APMP-2017-NPLI-Symposiumfin.pdf

 

یونائٹیڈ نیشنز


https://www.unesco.org/en/days/metrology

https://www.unido.org/sites/default/files/files/2020-08/The_role_of_Metrology_in_the_context_of_SDGs.pdf

International Organization of Legal Metrology (OIML)

https://www.oiml.org/en/files/pdf_e/e002-e03.pdf

https://www.worldmetrologyday.org/press_release.html

https://www.oiml.org/en/publications/oiml-bulletin/online-bulletin-1/2024-07/the-importance-of-metrology-from-early-civilization-to-digitalisation-the-indian-perspective

International Bureau of Weights and Measures (BIPM)

https://share.google/xMAPHbZcQO1eHojmD

Asia Pacific Metrology Programme

https://www.apmpweb.org/portal/list/channel/id/3.html

Government of NCT of Delhi

https://weightnmeasures.delhi.gov.in/weightnmeasures/about-us

Government of Kerala

https://lmd.kerala.gov.in/2025/06/04/2-meter-convention/

PIB Backgrounder

https://www.pib.gov.in/PressNoteDetails.aspx?NoteId=158002&ModuleId=3&reg=3&lang=3

Click here to see PDF

********

 

ش ح- ظ الف- م ش

UR- 7355

(Explainer ID: 158666) आगंतुक पटल : 21
Provide suggestions / comments
इस विज्ञप्ति को इन भाषाओं में पढ़ें: English , हिन्दी , Bengali , Assamese , Gujarati , Tamil , Kannada , Malayalam